- الإعلانات -

باوقارصحافت کابھرم رکھاجائے

ہفت روزہ انگریزی جریدے کی گیارہ مئی کی اشاعت میں ’’مئی ڈے، مئی ڈے‘‘کے عنوان سے لکھے گئے اداریہ میں ریاستی اداروں کو ٹارگٹ کیا گیا، ملٹری اسٹبلیشمنٹ پر سیاسی اداروں میں دخل اندازی کے متعصبانہ الزامات کی اپنی کہنہ روش اپنائی گئی، اِس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے، ہفت روزہ انگریزی جریدے کے ایڈیٹرکی جانب سے اپنا گیا ملٹری اسٹبلشمنٹ سے معاندانہ ومخاصمانہ روش کا یہ مذموم سلسلہ ہنوز جاری ہے، اس سلسلے کو مسلسل اور متواتر اپنائے رکھنے کی اس سیاہ تاریخ پر پہلے بھی کئی بار کالم لکھے گئے ہیں لیکن اْس ہفت روزہ انگریزی جریدے کے ایڈیٹر نے اپنی یہ مکروہ روش ترک کرنے پر نجانے آمادہ کیوں نہیں ہوتے;238;اس کے صلہ میں نامعلوم اْنہیں پاکستان اور پاکستانی فوج دشمن علاقائی خفیہ ایجنسیاں کیا کچھ دیتی ہونگی;238; اس کا فی الحال کسی کو پتہ نہیں چل سکا ‘ اوروہ پاکستانی فوج کوہمہ وقت کی اپنی بے جا لعن،طعن ا وربْرابھلا کہنے کے اپنے اس عمل ِبد پر نظرثانی کیوں نہیں کرتے;238;ماضی کے دونوں سیاسی ادوار میں اسی ہفت روزہ انگریزی جریدے کے یہ ایڈیٹر صاحب کئی سرکاری عہدوں ہر براجمان رہے ہیں ، مالی مفادات حاصل کرتے رہے چونکہ یہ جناب ’’صحافت‘‘ سے بھی وابستہ ہیں ،خیرسے اپنا ایک یوٹیوب چینل بھی رن کرتے ہیں ان کی تمام تر ذاتی ہمدردیاں زرداری صاحب کی سیاسی جماعت کے علاوہ مسلم لیگ نون سے بڑی پکی جڑی ہوئی ہیں تو پھر ظاہر ہے یہ چاہتے ہیں ’’گزراہوازمانہ پھر آجائے;238;‘‘اِسی فکری اْدھیڑبَن میں ان جنابِ ایڈیٹرکا بھی وہ ہی بیانیہ سننے کا ملتا ہے، جو لندن سے لاہور تک نون لیگ والوں کا بیانیہ پاکستانی عوام گزشتہ تین برسوں سے سن سن کر اب اکتاچکے ہیں وہ چڑیا آج تک شائد ہی کسی کو نظرآئی ہو جو اِنہیں ’’خود پسندی کے گیت‘‘سناتی رہتی ہے اوریہ جنابِ ایڈیٹرحد سے زیادہ ستائش کا شہکار بن کراپنے پنجرے سے طوطہ فال نکالنا شروع نکالنے کی پریکٹس چھوڑنے پر آمادہ نہیں ، ان جناب کی چڑیا ان کی طرح سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے گزشتہ برس نومبر کے اْس فیصلے کی چہچاہٹ سے اب تک چمٹی ہوئی ہے، جووزیراعظم پاکستان عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ سے رجوع کرلیا تھا،اس حساس کیس کے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے یہ معاملہ طے کرنے کےلئے چند بنیادی قانونی رہنما اصول آئندہ کےلئے طے کردئیے جب بدنیتی ہمہ وقت تعصب کی آلودہ اورکثیف تصورات پر چھائی رہے تو پھر اگرصحافت بھی اگر کرنی ہو تو وہ صحافت جذبہ ِ خلوص سے رقم تو ہو نہیں سکتی ،اورپھر دوسروں سے جلدازجلد اطلاعات کو جاننے کی جنونی خواہش اور دوسروں سے پہلے بتانے کی ریٹنگ کی دوڑ نے ان ایڈیٹر صاحب کو اتنا زیادہ انانیت پرمبنی خودستائی کے تکبر میں مبتلا کررکھا ہے کہ یہ جناب پیچھے مڑکر حقائق جاننے کے متجسس ہوتے ہی نہیں ، بس جوخود نے سوچ لیا وہ اپنے انگریزی جریدے کے اداریہ میں لکھ مارا، گیارہ مئی کی اشاعت کے ہفت زوزہ جریدے کے اداریہ کوجس جس فرد نے پڑھا ہوگا پہلے وہ یہ سمجھنا چاہے گا’’ان جناب ایڈیٹر کی چڑیا نام کا جو کوئی’سورس‘ہے، پاکستانی فوج کے ادارے کو سویلین معاملات میں دخل دراندازی کرنے جیسے مفروضوں پر استوار وہمی، تصوری،گمانی اورغیرحقیقی خیالات تک جناب کی ’’چڑیانامی یہ رسورس‘‘ رسائی حاصل کیسے کرپاتی ہے;238;اب تو پاکستانی قوم کواِس’’چڑیا‘‘کا ہرصورت میں فوری پتہ لگانا ہی پڑے گا کہیں یہ چڑیا بھارتی وزیراعظم یا اسرائیلی وزیراعظم تک اپنی اْڑان تو نہیں رکھتی ہے;238;پاکستانی فوجی کمانڈروں کے دماغوں میں کیا چل رہا ہے ان کی چڑیا یہ سب کچھ پڑھنے میں کس قدر یدِ طولیٰ رکھتی ہے;238;ادھر کوئی کور کمانڈر کانفرنس ہوئی اسی وقت یہ جناب اپنے یوٹیوب چینل پر فوراً جلوہ گر ہوجاتے ہیں ، اچھا ایک اور خاص معاملہ ہے وہ یہ کہ وزیراعظم عمران خان پر اخلاقی اعتبار سے تنقید کرنا ان صاحب کو زیب نہیں دیتا چونکہ قوم کو یاد ہوگا بطورعبوری وزیراعلیٰ پنجاب دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں ایک انتخابی نتاءج کیس میں اِن پرعمران خان نے کچھ سنگین الزامات عائد کیئے تھے، گووہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل تو ہوگیا، پھربھی اخلاقیات کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں ،آج تک کتنے ماہ گزر گئے آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حساس معاملہ کی تکرار کے ’’چھ اصولوں ‘‘ میں یہ جناب اب تک الجھے ہوئے حکومتی معاملات کی اتھارٹی میں سے مزید کوئی آئینی بحران کا جن نکالنے کی تدابیر ڈھونڈنے قانونی راکھ کے ڈھیروں کو کرید رہے ہیں اور طرفہ تماشا ذرا ملاحظہ فرمائیں ذرا وہ’’چڑیا‘‘یا وہ ’’چڑا‘‘ ہ میں کہیں مل تو جائے جس نے ان کے کان بھرے ہوئے ہیں کہ فوج کے کہنے پر ملک کے ایک اہم اشاعتی ادارے کے چیف ایڈیٹر اورمیڈیا ہاءوس کے مالک کو گرفتار کیا گیا;238; اور’’پیمرا‘‘کو بھی فوج احکامات دیتی ہے;238; قومی طبقات میں ایسی سنسنی خیزیاں پھیلانے جیسی خبروں کو بلاکسی تحقیق اوربنا تفتیش آگے پھیلانے کے پیچھے آخر ان جناب کے مقاصد کیا ہوسکتے ہیں ;238; کوئی ہے جواِنہیں پوچھے;238; کیا یہی ہے ان کی صحافت;238; پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ جس پر چند ماہ یہ خود بھی فائز رہے ’’عثمان بزدار‘‘کے لتے لے لیئے ہیں ان جناب نے،اپنا نام نہیں لیتے بلکہ فوج کے نام کے پیچھے چھپنا ان کی بڑی پرانی عادت ہے،بات وہ ہی ’’چڑی چڑیا‘‘کی کان پھوسی پر آکر رکتی ہے وہ یہ کہ’’فوج نے عمران خان سے بالا بالا شہبازشریف کی پیٹھ تھپتھپادی ہے;238;واہ کیا دور کی کوڑی لائے ہیں جواب نہیں ،یہ کہتے ہوئے اپنی آنکھوں کی اَبرووَں کو جھپکا کر زیر مونچھ مسکرا کر بس یوں سمجھیں ’’ڈیل‘‘ ہوگئی ہے;238; یہ ہے ان جناب کی کل جمع پو نجی کی انگریزی صحافت;238;جو تمام کی تمام زردصحافت کے علاوہ اور کچھ دکھائی نہیں دیتی،ایسی زرد صحافت سے کسی بھی باضمیر صحافی کا کیا کام ;238; اگریہی آج کی صحافت بن چکی ہے توجناب ہم باز آئے ایسی ’’کمپرو مائز جرنلزم‘‘سے،یقین جانیئے اسی ملک میں اسی عہد میں کئی باکردار اور با اصول صحافیوں کو ہمارے علاوہ قارئین بھی جانتے ہونگے و بڑے کٹھن اورآزمائش کے کٹھن دورسے نبرد آزما پاکستان میں صحافت کے شعبے سے تاحال وابستہ ہیں ، جن کا خون پسینہ ایک ہوجاتا ہے اپنے اس باوقار پیشہ سے وابستہ رہتے ہوئے اگر’’چڑی چڑیوں ‘‘کے آسروں پرہی صحافت کے مزے لوٹنے والوں کو دیکھا جائے ہیں تو ہمارا دل چاہتا ہے اب وہ وقت شائد آگیا ہے کہ صحافت کو الوداع کہہ دیا جائے لیکن ہاں ،’’چڑی چڑیوں ‘‘کوکم نہ سجھیں اِنہوں نے ہی صحافت میں کارپوریٹ عناصرکےلئے ایک بڑا وسیع ’’ویکیم‘‘ پیدا کیا جنہوں نے اصل صحافت کی نسیں تک کاٹ دیں ،اب یہ کاروبار اور دھندے کا ایک پیشہ سا بن گیا ہے( روزنامہ پاکستان اور روزٹی وی کے علاوہ ملک میں کچھ اور بھی صحافتی شعبے کی آبرووں کو قائم ودائم رکھنے والے یقینا موجود ہونگے)اب کوئی بتلائے قوم کی آنے والی نسلیں ’’چڑی نما صحافتی شعبے‘‘ کی عظمتوں کو سمجھ پائے گی;238; ایسی صحافت جس کی نسوں میں عیاری‘ مکاری‘ دلالی غیر قوموں کے خفیہ اداروں کی لفافہ بازی کا چلن جس صحافت میں عام ہوچلا ہو وہ ’’صحافت‘‘ کہلائی جاسکتی ہے یا وہ جو نام کمانے کےلئے نہیں بلکہ صحافت کو بطورقومی امانت سمجھنے والی باوقار صحافت ہوتی ہے ۔