- الإعلانات -

مایوسی پھیلانا دانشمندی نہیں !

کچھ عناصر موجودہ سنگین صورت حال میں بھی سیاست کر رہے ہیں حالانکہ حکومت کی کوششوں اور کاوشوں کو کامیاب بنانے کےلئے ہر فرد کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ یہ کوئی اتنی سنگین بیماری نہیں ہے ، بس احتیاط لازم ہے ۔ یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جنگیں قومی وحدت کے جذبے سے جیتی جا سکتی ہے اور حالات جو بھی مردانہ وار ان کا مقابلہ کرنا چائیے ، مایوسی کفر ہے اور دینا امید پہ قائم ہے ۔ حالات جو بھی ہوں ان کا مقابلہ کرنا زندہ قوموں کی علامت ہے ۔ محض ٹاک شو پر بیٹھ کر مایوسی پھیلانا اور حکومت یا اداروں کو نشانہ بنا کر مایوسی پھیلانا دانشمندی نہیں ہے ۔ عوام اس تلخ حقیقت کو سمجھیں اور ایک ذمہ دار اور باشعور شہری ہونے کا ثبوت دیں ۔ کرونا سے بچاوَ کےلئے جو ہدایات حکومت کی جانب سے جاری کی جارہی ہیں اس کی پابندی ہر شہری کا اولین فرض ہے اورملک کے باشعور طبقے کی زمہ داری بنتی ہے کہ آگے بڑھ کر عوام کو کورونا کے سلسلہ میں تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر آمادہ کریں اور لوگوں کی مدد کریں اور میڈیا پربھی لازم ہے کہ وہ خوف پھیلانے اور عوام کو ڈرانے کی بجائے مثبت کر دار ادا کرے ۔ یہ حقیقت ہے کہ کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاءون نے پوری دنیا کی معیشت کو بدحال کردیا ہے اور دنیا کی مارکیٹیں اور کاروبار تجارت، لین دین حمل و نقل بند ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں چھوٹے تاجر، دیھاڑی دارمزدور معمولی ملازمت پیشہ افراد، ہنر مند افراد، فیکٹریز کے ملازمین، فٹ پاتھوں پر کاروبار کرنے والے اور حمل ونقل کی صنعت سے وابستہ افراد جن کے ذراءع آمدنی بندچکے ہیں اور وہ گھر میں رہی سہی پونجی ختم ہو جانے سے وہ کسمپرسی اور کرب والم کا شکار ہو چکے ہیں ۔ نان و شبینہ تک کی محتاجی انہیں گھیرے میں لے چکی ہے اور مکانات اور دوکانات کے کرایوں کی ادائیگی بھی ان کیلئے مسئلہ ہے ۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ کورونا لاک ڈاءون کی مدت میں اضافہ ہوگا اور یہ ضروری بھی ہے ۔ اس تالہ بندی سے زندگی کی گاڑی مزید کچھ عرصہ کےلئے رک جائے گی مگر یہ زندگی کو رواں رکھنے کیلئے ضروری ہے ۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ملت کا ہر فرد دیگر مسلمان بھائیوں کی امداد اور تعاون کےلئے کمربستہ ہو جائے ۔ ہر وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے معاشی اطمینان سے نوازا ہے ۔ اس بات کی کوشش کرے کہ وہ ایک پریشان حال خاندان کی کفالت کا ذمہ لے لے اور اپنے طور پر ان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرے اور سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم افواہوں سے خود بھی دور رہیں اور اس کی نشرواشاعت کے واسطہ میں وسیلہ نہ بنیں ۔ یہ صرف فرد واحد کی لڑائی نہیں ہے بلکہ ملک کے ہر فرد کی لڑائی ہے ۔ اگر ہم یہ دماغ میں بٹھا لیں کہ جو کچھ کر نا ہے حکومت کو کرنا ہے،ہسپتالوں اور ڈاکٹروں پر ساری ذمہ داریاں چھوڑ دیں تو یقین مانیں ،ہم کرونا وائرس جیسے مہلک وبا سے جنگ ہار جائینگے ۔ لاک ڈاءون سے سب سے زیادہ ان غریب اور مزدور طبقے کے لوگوں پر زیادہ اثر پڑھ رہا ہے ۔ جو روزانہ کماتے وہ زیادہ محتاج ہیں اور تالہ بندی کے دور میں ان کاپورا کا پورا گھرفاقہ کشی گزار نے پر مجبور ہیں ۔ اس دوران اہل ثروت کی زمہ داری ہے ان کی مدد کریں ۔ اور یقینا اس مصیبت اور پریشانی کے وقت میں کسی کی مدد کرنا یقینابہت بڑے ثواب کا کام ہے ۔ مگر جس کی آپ مدد کر رہے ہیں اس کی تشہیر کر کے اس کی تذلیل کرنا سودمند سودا نہیں ہے ۔ یہ بد بختی ہے کہ آج کل لوگوں کی نیت اس کار خیر میں بس اتنی سی ہوتی ہے کہ ہماری شہرت ہوجائے اور شہرت کے پجاریوں کو ان کی عزت نفس کا خیال نہیں ہے ۔ الیکٹرانک اورسوشل میڈیا اور اخبارا ت کے صفحات گواہ ہیں کہ سر جھکائے بے بس اور بے سہار لوگ کتنی بے بسی کے تصویر نظر آتے ہیں ۔ ہم ہیں کہ صرف نمائش، نام اورنمود کےلئے اپنی نیکی پر پانی پھیر رہے ہو تے ہیں اور شہرت کے نشے میں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ بھی انسان ہیں اور معاشرہ میں ان کی بھی عزت اور وقار ہے ۔ آخر وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور آدم کی اولاد ہیں ۔ امیری اور غریبی اللہ تعالیٰ دیتا ہے ،جسے چاہے امیر بنادے اور جسے چاہے غریب کر دے ۔ اس کی وجہ سے کسی کو ذلیل کرنا چاہیے اور نہ ہی سمجھنا چاہیے ۔ امداد اور تعاون کرتے وقت ہ میں ہر کسی کی عزت نفس کا ہمیشہ خیال رکھنا ہمیشہ مقدم رکھنا چائیے ۔ بھوک اور بیماری کا نہ کوئی مذہب نہیں ہوتاہے اور نہ بیماری کسی کے امیری اور غریبی کو دیکھتی ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے ۔ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں اور اس کا شامیانہ بہت وسیع ہے اور بلند ہے بس دلوں کے جذبات کو نیکی ، خلوص ہمدردی، وفا سے مزین کرنے کی ضرورت ہے تب ہی ہم اس جان لیوا وائرس سے مقابلہ کر سکیں گے ۔