- الإعلانات -

بھارتی فوج کے ہاتھوں 142کشمیریوں کی شہادت

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کرفیو لگا دیا تھا ۔ کرفیو کے بعد دکانیں کاروباری مراکز ،تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ بند کر دی گئیں ۔ کرفیو اور لاک ڈاوَن کو دس ماہ مکمل ہو چکے ہیں ۔ اس دوران بھارتی فوج نے 4 خواتین سمیت 142 کشمیریوں کو شہید کیا ۔ غاصب فوج کی فائرنگ ،آنسو گیس کی شیلنگ اور پیلٹ گن سے 1300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔ بھارتی درندوں نے 74 خواتین کو زد وکوب کیا ۔ ہزاروں نوجوانوں ، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ۔ بزرگ حریت رہنما سیّد علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک، شبیر احمد شاہ،آسیہ اندرابی ، مسرت عالم بٹ سمیت سینکڑوں کشمیری لیڈروں کو گھروں میں نظر بند اور جیلوں میں ڈال دیا گیا ۔ قابض فوج نے وادی میں 910 گھروں کو مسمار کیا ۔ 1989 سے اب تک بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 897 بچوں کو شہید کیا ۔ ا یک لاکھ 7 ہزار 790 بچے یتیم ہوئے ۔ اب تک 95 ہزار 557 کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں ۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں مزید جعلی مقابلوں کیلئے پلاننگ بھی شروع کردی ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ کشمیری حریت پسندوں کی شہادتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ قبضے کیخلاف کشمیری جوان برسر پیکار ہیں ۔ قابض بھارتی فوج نے سرینگر کے علاقے میں حملہ کر کے حریت رہنما اشرف صحرائی کے بیٹے اور حزب کمانڈر جنید صحرائی کو ساتھی سمیت شہید کر دیا ۔ بھارتی فوج کے حملے میں 17 مکانات بھی تباہ ہو گئے جس کے بعد علاقہ میدان جنگ بن گیا ۔ بڑی تعداد میں کشمیری عوام سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا ۔ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کو بربریت کا مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ چند دن قبل بڈگام میں بھی پیر معراج الدین کی شہادت بھارتی مظالم کی تازہ مثال ہے ۔ بھارتی پولیس پرامن مظاہرین پر طاقت کا بے جا استعمال کر رہی ہے اور پرامن مظاہرین پر شاٹ گن، پیلٹ گن اور آنسو گیس استعمال کی جا رہی ہے ۔ حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ جنید صحرائی شہید اور طارق احمد شہید کی شہادت تکلیف دہ تاہم یہ ایک تاریخی اور عیاں حقیقت ہے کہ ان کے مقدس خون کا ہر قطرہ ہزاروں مجاہدین کو جنم دے گا ۔ ان کی جدائی سے ہم کافی تکلیف محسوس کررہے ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ اْن کے خون کا ہر قطرہ آزادی کشمیر اور اسلام کی سربلندی کیلئے راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا ۔ چند دن قبل حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو کے ساتھ جنید صحرائی بھی بھارتی فوج کے محاصرے میں آگئے تھے مگر وہ محاصرہ توڑ کر نکلنے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد بھارتی فوجی ان کی بو سونگھتے پھر رہے تھے ۔ ریاض نائیکو کی شہادت کے کچھ ہی دن بعد بھارتی فوج نے جنید صحرائی کا سراغ پالیا اور سری نگر کے مرکزی علاقے میں اْس گھر کا محاصرہ کیا جہاں جنید اپنے ایک اور ساتھی کے ساتھ مقیم تھے ۔ دونوں طرف سے شدید جھڑپ ہوئی اور بھارتی فوج نے بارود لگا کر اس گھر کو آگ لگادی جس کے ساتھ ہی جنید اور ان کے ساتھی شہید ہوگئے ۔ ہیومن راءٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج کی جانب سے جاری مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں مکمل شٹ ڈاون کے ذریعے تباہی کو چھپانے کی کوشش کی ۔ اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے یک طرفہ اقدامات کی وجہ سے کشمیریوں کو بے حد تکلیف پہنچی اور ان کے حقوق پامال ہوئے ۔ سابق وزرائے اعلیٰ ، سیاسی رہنماؤں ، کارکنوں ، وکلا،صحافیوں کو بغیر الزام کے نظربند کردیا گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرے کے باعث کشمیری بدستور مشکلات کا شکار ہیں ۔ کشمیریوں نے انٹرنیٹ کی جزوی بحالی کے بھارتی دعوے کو سختی سے مستردکردیا ۔ مقبوضہ وادی میں قابض فوج کے مظالم پر مبنی رپورٹ ;34;ٹارچر: انڈیا سٹیٹ انسٹرومنٹ آف کنٹرول ان انڈیا ایڈمنسٹرڈ جموں اینڈ کشمیر;34; میں بین الاقوامی میڈیا بھی پھٹ پڑا ۔ رپورٹ کے مطابق کئی دہائیوں سے جاری اس ظلم وستم میں شہریوں پرمختلف طریقوں سے تشدد کیا جاتا ہے جن میں عریاں حراست میں لینا، آئرن راڈ، لیدر بیلٹ اور ڈنڈوں سے مارنا، زمین پر گھسیٹنا، پانی میں غوطے دینا، کرنٹ لگانا، چھت سے لٹکانا اور جسم کو جلانا شامل ہیں ۔ رپورٹ میں چار سو بتیس مختلف کیسز کا جائزہ لیا گیا جن میں تین سو ایک افراد خواتین، طلباء ، سیاسی کارکن، ہیومن راءٹس کارکن اور صحافیوں سمیت عام شہری شامل تھے ۔ رپورٹ کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران تشدد اور جنسی ہراساں کرنا عام ہے ۔ تشدد کے انفرادی واقعات کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر شہریوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے کے بھی طریقے بنا لیے گئے جن میں پوری پوری آبادیوں کا محاصرہ کر کے وہاں تلاشی کے بہانے گھروں میں گھس کر لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور خواتین کو ریپ کیا جاتا ہے ۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس طرح کے زیادہ تر واقعات منظر عام پر ہی نہیں آتے ۔ خطے میں فوج اور سکیورٹی فورسز کو خصوصی قوانین کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہونے کی وجہ سے انسانی حقوق کی پامالی کے ایک بھی واقعہ میں ملوث کسی فوجی اور سرکاری اہلکار کو سزا نہیں دی جا سکی ہے ۔ فوج اور سکیورٹی فورسز کے علاوہ اخوان اور ولج ڈیفنس کمیٹیز کو بھی وقتاً فوقتاً انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شامل کیا جاتا رہا ہے ۔ ہزاروں کشمیری بچے اپنے ماں باپ کا سایہ کھونے کے بعد یوں بے یارو مددگار پھر رہے ہیں کہ انہیں دیکھ کر پتھر دل اور بڑے سے بڑے سنگدل کا سینہ بھی ایک لمحے کو دہل جاتا ہے ۔ مگر بھارتی حکمران ہیں کہ اپنی سفاکی کے نتاءج دیکھ کر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے ۔ جانے یہ ٹولہ کس مٹی کا بنا ہوا ہے ۔ وگرنہ کوئی بھی معاشرہ کتنا بھی زوال پذیر کیوں نہ ہو جائے، وہاں کے سوچنے سمجھنے اور اہل شعور افراد کو یہ احساس ضرور ہوتا کہ ان کے حکمرانوں کے ہاتھوں جو لوگ رزق خاک ہو رہے ہیں وہ بھی انہی کی طرح گوشت پوست کے بنے ہوئے ہیں ۔ ان کے سینوں میں بھی دل دھڑکتا ہے اور ہر دھڑکن میں جانے کیسی کیسی خواہشات پوشیدہ ہیں ۔ یہ ناحق ماردیے جانے والے بھی کسی کے بیٹے تھے، کسی کے بھائی تھے اور کسی کی آنکھ کا نور اور دل کا قرار تھے ۔ آخر ان بے کسوں کو کس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے ۔