- الإعلانات -

چینی شوگرمافیا۔۔۔وزیراعظم نے فیصلہ سنادیا

وزیراعظم عمرا ن خان نے تاریخ رقم کردی ، چینی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعدانہوں نے جوفیصلہ کیا اسے تاریخ میں مورخ سنہرے حروف سے لکھے گا،یوں توانہوں نے کہاکہ کمیشن کی رپورٹ پرمن وعن عمل کیاجائے گا،تاہم اپوزیشن ضرور واویلامچارہی ہے کہ اس وقت جہانگیر ترین بیرون ملک ہیں انہیں حکومت کیونکرواپس لائے گی، منطق کافی درست ہے امتحان بھی ہے اور حکومت نے اس سلسلے میں ایک پل صراط سے گزرنابھی ہے یہاں پرحکومت کی ذرا سی لغزش اس کواتاہ گہرائیوں میں بھی گراسکتی ہے ۔ لہٰذا اپوزیشن سمیت پوری قوم اس بات کی منتظر ہے کہ اب جوکیس ایف آئی اے اورنیب کے پاس چلے گئے ہیں ان کی تحقیقات کا آغاز کس طرح ہوگا ۔ یا توغیروں کے لئے احتساب ہونا ہے یا اس میں اپنے بھی شامل ہوں گے تاہم وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہارکیاہے کہ جس نے بھی کرپشن کی عوام کاحق کھایا ،چینی مہنگی کی اس مافیا کو کسی صورت نہیں چھوڑاجائے گا ۔ پاکستان میں شوگر مافیا کے خلاف گھیراتنگ کردیاگیا،اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر،اسٹیٹ بینک ،مسابقتی کمیشن اور دیگر اداروں کو 90روز میں کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیدیا ۔ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 1985سے شوگر ملوں کو لگانے اور سبسڈی کا معاملہ نیب کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے نیب شوگر کمیشن کی رپورٹ پر 9شوگر ملوں کو گزشتہ 5سال میں سبسڈی دینے کے معاملے پر فوجداری کارروائی کرے گا ۔ جعلی برآمدات اور منی لانڈرنگ کی ایف آئی اے تحقیقات کرے گا افغانستان کو چینی کی برآمد میں جعلسازی اور منی لانڈرنگ کی بھی انکوائری ہوگی ۔ حمزہ شوگر ملز اور جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو کا ٹیکس فراڈ سامنے آیا ہے چینی کی قیمتوں کو پیداواری لاگت کے تناسب سے کم کرنے کےلئے وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کی قیادت میں کمیٹی قائم کی گئی ہے، کوئی شخص جتنا بھی طاقتور ہی کیوں نہ ہو اس کےخلاف کارروائی کریں گے ۔ 1990 میں ایک سیاسی خاندان نے اپنی شوگر ملوں کو خود سبسڈی دی اور چینی بھارت کو برآمد کی شاہدخاقان کے دن گنے جاچکے انہیں 20ارب روپے سبسڈی کا جواب دینا ہوگا ۔ شبلی فراز نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی وجہ سے سے ملک پیچھے جاتا رہا،تحریک انصاف نے احتساب کا نعرہ بلند کیا کیا اور اس پر پورا اترے گی شوگر کے شعبے میں بڑے بڑے طاقتور لوگ ہیں اسی لئے یہ کہا جاتا تھا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ کبھی سامنے نہیں آئے گی ۔ ملک میں بے پناہ مواقع موجود ہیں لیکن ماضی کے حکمرانوں نے ان مواقعوں کو اپنے ذاتی مفاد اور ذات کیلئے استعمال کیا،عمران خان نے چینی رپورٹ پبلک کرنے کا کہا تو رپورٹ میں بڑے بڑے نام ہونے پر خیال تھا کہ کچھ نہیں ہوگا یہ تاثر بھی آج ختم ہوجانا چاہیے ایسا کچھ نہیں ہے ۔ ادھروزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احتساب کا عمل ہر صورت جاری رہے گا کوئی احتساب سے بالاترہے نہ کسی سے کوئی رعایت برتی جائے گی ،عوام کے ٹیکسوں پر ڈاکہ ڈالنے والے محب وطن نہیں ہو سکتے ،کرپٹ لوگوں کی پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں ان کو ہر صورت کیفر دار تک پہنچایا جائیگا ۔ شوگر مافیا سے عوام کی ایک ایک پائی وصول کی جائے گی ،شوگراسکینڈل کی کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے لا کر حکومت نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ،کمیشن کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد کیا جائیگا ۔ حکومت اگر ان اقدامات کوپایہ تکمیل تک پہنچادیتی ہے توآنے والے وقتوں کے لئے ایک مشعل راہ ہوگا اورجن لوگوں کو قرارواقعی سزاملے گی وہ دیدہ عبرت نگاہ بن کرآمدہ نسلوں کے لئے ایک سبق آموز کرداربن جائیں گے کہ جس کسی نے بھی عوام کاحق کھایا، قومی خزانے کونقصان پہنچایا،ناجائزمنافع خوری کی،ذخیرہ اندوزی کی،چیزیں مہنگی کرنے کے سبب بنے وہ آئندہ بھی اسی طرح کی سزا کے حق دارٹھہریں گے ۔ یہ وہ تاریخی اقدام ہے جس کی ماضی سے لیکرآج تک قوم متمنی تھی کیونکہ آج سے پہلے نہ ہی کمیشن کی رپورٹیں سامنے آئی تھیں اورنہ ہی ان پرعمل ہواتھالیکن اس میں جن ذمہ داروں کاتعین کیاگیا ان کے چہرے آج تک عوام کے سامنے نہیں آسکے ۔ لہٰذا ہ میں بلاشرکت ٹھہرے یہ کریڈٹ کپتان کودیناچاہیے کہ کم ازکم اس نے جوکہاتھا وہ پوررا کردکھایا اوراب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت یہ بھی عزم رکھتی ہے کہ وہ ماضی کی کمیشن رپورٹوں کو بھی عوام کے سامنے شاءع کرے گی ۔

زلمے خلیل زادکی آرمی چیف سے ملاقات

امریکی نما ئندہ خصوصی برائے افغان امورزلمے خلیل زادگزشتہ روز اعلیٰ وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورہ پر پہنچے ،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق زلمے خلیل زادنے جی ایچ کیو میں آر می چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں افغان مفاہمتی عمل، افغان پناہ گزینوں اور پاک افغان بارڈر سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے، ملاقات میں باہمی مقاصد کے امور پر مشترکہ اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔ پاکستان کی دلی خواہش ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو تاکہ وہ خطے میں ترقی و خوشحالی کے نئے دور میں داخل ہو اور یہ تب ہی ممکن ہے جب افغانستان میں امن و استحکام قائم ہوگا ۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان نے ہمیشہ اہم کرداراداکیاہے، افغانستان میں امن پاکستان ا ور خطے کے علاوہ خود افغان عوام کیلئے بھی بہت ضروری ہے ۔ پاکستان نہایت خلوص کے ساتھ افغان حکومت، طالبان اور امریکہ کے درمیان بہترین رابطے کا کردار اداکرتا رہاہے، جس کی وجہ سے امن معاہدہ عمل میں ;200;یا ۔ پوری دنیا اس بات کی معترف ہے کہ خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کاکردارنہایت اہم ہے ۔

اٹھارہویں ترمیم۔۔۔حکومت اپوزیشن کے تحفظات دورکرے

بلاول ہاءوس لاہور مےں ہونےوالی اپوزےشن جماعتوں کی آل پارٹےز کانفر نس کے مشتر کہ اعلامےہ مےں حکومت سے18وےں تر امےم پر اپنا موقف واضح کر نے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گےا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے غیر ;200;ئینی نوٹیفیکیشن کی منسوخی کےلئے ور اٹھارویں ;200;ئینی ترمیم کا تحفظ اس بات کا متقاضی ہے کہ ملک میں تمام سیاسی جماعتیں سرجوڑ کر بیٹھیں اور قومی اتفاق رائے پیدا کریں تاکہ سب یک جان ہو کر ان ایشوز سے عہدہ برا ہو سکیں ‘تمام قومی قیادت اہم ایشوز پر فوری ایک قومی سطح پر ;200;ل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور قومی سطح پر ایک متفقہ لاءحہ عمل قوم کے سامنے لائیں ، نیب اس وقت انتقام، بلیک میلنگ اور سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ بن چکا ہے، حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کیخلاف جھوٹے اور من گھڑت مقدمات بنانے کی مذمت کرتے ہےں ۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں 18ویں ;200;ئینی ترمیم کی متفقہ منظوری دی گئی تھی جس میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات کا تعین کیا گیا اور وفاق کے ماتحت صحت اور تعلیم سمیت متعدد محکمے صوبوں کے حوالے کر دیئے گئے ۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن)نے بھی اس ترمیم کی متفقہ منظوری میں اپنا ووٹ ڈالا تھا تاہم اسکے دور حکومت میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات کے حوالے سے اس ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ۔ تحریک انصاف نے اقتدار میں ;200;نے کے بعد اسی تناظر میں 18ویں ترمیم کو دوبارہ زیرغور لانے کا عندیہ دیا جس پر اس وقت حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں بحث زوروں پر ہے ۔ سیاست میں کوئی چیز بھی حرف ;200;خر نہیں ہوتی ۔ اگر 18ویں ترمیم موجودہ حالات کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر رہی تو ;200;ئینی طریقہ کار کے تحت اس میں ردوبدل کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اٹھارہویں ترمیم پر اپوزیشن کے تحفظات دور کرے اور مل بیٹھ کرمسئلے کاحل نکالاجائے ۔