- الإعلانات -

بابری شہادت سے مودی کی ہزیمت تک

اس بات کو بھلا کون نہےں جانتا کہ بھارتی حکمران سے لے کر پاءوں تک ہندو انتہاء پسندی کی چلتی پھرتی تصویر ہےں اور اپنے ہر عمل وہ ثابت کرتے رہتے ہےں کہ اگرچہ انہےں آزادی تو مل گئی تھی مگر ا ن کی سوچ ابھی تک غلامی کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے ۔ اس تناظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ 6دسمبر1992کو جس طرح بابری مسجد کو شہید کیا گیا وہ انسانی تاریخ کا المناک باب ہے ۔ یاد رہے کہ 1992کو بھارتی صوبے اتر پردیش میں بی جے پی برسر اقتدار تھی تب کانگرس کے نرسیماراءو بر سراقتدار تھے اور ساری دنیا کو باخوبی علم تھا کہ اگلے روز بابری مسجد کو شہید کر دیا جائےگا مگر اس کے باوجود نہ تو دہلی کی مرکز ی حکومت اور نہ ہی اتر پردیش کی انتظامیہ کی جانب سے اس سانحے کو روکنے کو کےلئے کوئی قدم اٹھایا گیا بلکہ تب بی جے پی کے دوسرے سب سے اہم لیڈر’ ایل کے ایڈوانی‘ خود بابری مسجد کی شہادت میں شامل تھے اور اس جنونی ٹولے نے مسلمانوں کی اس تاریخی مسجد کو شہید کر دیا اور اس ضمن میں یہ دلیل دی گئی کہ 1526کو میں بابر نے رام مندر کو گرا کر اسی جہ پر بابری مسجد تعمیر کی تھی ۔ ظاہر ہی بات ہے کہ یہ ایسی فضول اور بے سروپا بات ہے کہ جس کی تائید کسی بھی ماہر تعمیر نے کبھی نہےں کی یہ الگ بات ہے کہ بعد میں کئی ہندو انتہا پسندوں نے اس ضمن میں کئی جھوٹے افسانے بنائے اور تاریخ کو مسخ کیا ۔ یاد رہے کہ اسی تناظر میں بھارت میں کل سے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر شروع ہو جائیگی، ایودھیا کے کْوبر تلہ مندر میں ’’رْودرا ابھیشیک‘‘ جشن کا انعقاد کیاجائیگا جس کے بعد باقاعدہ رام جنم بھومی مندر کی بنیاد رکھی جائیگی ۔ گذشتہ روز سے ایودھیا کے مندروں میں مذہبی رسومات ادا کی جا رہی ہیں جو 10 جون کی صبح 8 بجے بند کر دی جائیں گی اور علامتی طور پر رام مندر کی بنیاد میں اینٹیں لگائی جائینگی ۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز ایودھیا میں تمام مندروں کو پوجا پاٹھ کیلئے کھول دیا گیا ہے ۔ بھارتی مسلمانوں کو لاک داون کی معمولی سی خلاف ورزی پر حوالات میں بند کر دیا جاتا ہے مگر اتر پردیش کے وزیراعلیٰ اور انتہا پسند ہندو رہنما یوگی ادتیہ ناتھ اسی لاک ڈاون کے دوران متعدد بار ہجوم کے ہمراہ ایودھیا کا دورہ کر کے رام مندر کی تعمیر کیلئے کی گئی تیاریوں کا جائزہ لے چکے ہیں ۔ رام مندر کی تعمیر سے پہلے وہاں علامتی طور پر بھگوان رام کی مورتی بھی نصب کر دی گئی ہے، مورتی کی تنصیب کے وقت رام راجیہ اور اکھنڈ بھارت کے قیام کے حق میں نعرے بازی بھی کی گئی ۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس نومبر میں بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی تھی اور انصاف کا خون کرنے والے بھارتی چیف جسٹس کو انکی خدمات پر ریٹائرمنٹ کے بعد بی جے پی نے اپنے ٹکٹ پر راجیہ سبھا کا رکن بنا دیا ہے ۔ ایک جانب بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پانچ رکنی بینچ کے سامنے اقرار کیا تھا کہ ماضی میں یہاں کوئی رام مندر ہونے کا ٹھوس دستاویزی ثبوت تو نہیں مگر دوسری طرف مذکورہ بینچ نے محض بھارت کی ہندو اکثریت کے متعصب جذبات کی تسکین کیلئے اس کا فیصلے جنونی ہندووں کے حق میں کر دیا ۔ واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندووں کے حوالے کی ہے اور دہلی سرکار کو وہاں بابری کے ڈھانچے کو بھی شہید کرتے ہوئے رام مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے ۔ یاد رہے کہ بھارتی چیف جسٹس رنجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا ۔ جسٹس رنجن گگوئی نے یہ فیصلہ اپنی ریٹائرمنٹ سے محض ایک ہفتہ قبل سنایا تھا، 17 نومبر 2019 کو موصوف ریٹائر ہوئے، ویسے بھی یہ فیصلہ 16 یا 17 نومبر کو ہی سنایا جانا تھا مگر جانے کن وجوہات کی بنا پر انتہائی عجلت میں یہ فیصلہ سنایا گیا ۔ جسٹس رنجن گنگوئی کو ان ’’خدمات‘‘ کے عوض بھارتیہ جنتا پارٹی نے راجیہ سبھا کا ٹکٹ دیا اور اب موصوف بی جے پی کی طرف سے ایوان بالا کے رکن ہیں ۔ دوسری جانب بی جے پی اور جنونی بھارتی سرکار نے پچھلے کچھ دنوں سے چین کے خلاف بھی ایک پروپیگنڈہ مہم شروع کر رکھی ہے حالانکہ اسی تناظر میں مودی اور بھارتی فوج کو بری طرح منہ کی بھی کھانی پڑ رہی ہے اور ساری دنیا مان رہی ہے کہ چینی افواج نے انڈین آرمی کی نہ صرف بری طرح دھلائی کی ہے بلکہ ان کی باقاعدہ طور پر پٹائی کی گئی ہے جس کا اعتراف خود بھارتی فوج کے بہت سے ریٹائرڈ اعلیٰ افسران نے کیا ہے تبھی تو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی بڑھک کے جواب میں راہول گاندھی کی جانب سے کئے گئے ٹویٹ پر بھارت میں ہنگامہ برپا ہے ۔ گذشتہ روز امت شاہ سے سوال کیا گیا کہ بھارتی سرحدوں پر انڈین آرمی کیلئے ہزیمت کی کیا وجہ ہے;238; اس کے جواب میں بھارتی وزیر داخلہ نے بڑھک مارتے کہا کہ دنیا میں امریکہ اور اسرائیل کے بعد اگر کوئی ملک اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکتا ہے تو وہ بھارت ہے ۔ اس کے جواب میں کانگرس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ٹویٹ میں مرزا غالب کے شعر میں ترمیم کرتے لکھا کہ ’’سب کو معلوم ہے سیما (سرحد) کی حقیقت لیکن ;245; دل کے خوش رکھنے کو شاید یہ خیال اچھا ہے‘‘ ۔ ان کے اس ٹویٹ پر جنونی ہندو رہنما اور بھارتی فوج سے تعلق رکھنے والے حلقوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور انھیں غدار کے لقب سے نوازا جانے لگا ہے ۔ علاوہ ازیں مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی عوام کو سچ بتایا جائے کہ چین نے لداخ میں بھارت کے کس قدر رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے اور بھارت اور چینی حکام کے درمیان مذاکرات کے بعد صورتحال کیا رخ اختیار کر رہی ہے ۔ اویسی نے کہا کہ مودی سرکار کو عوام کو بتانا ہو گا کہ بھارت کو اس قدر ہزیمت کیوں اٹھانا پڑی ۔ بہر حال اس بھارتی ہٹ دھرمی کے منطقی نتاءج کو بہر کیف مودی سرکار کو بھگتنا ہوں گے کیوں کہ یہی تاریخ کا سبق ہے ۔