- الإعلانات -

نواز شریف کی تصاویر اور فواد چوہدری کا مطالبہ

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف جو اِن دنوں بغرض علاج لندن اپنے اُنہی فلیٹس میں مقیم ہیں جو اِن کی نا اہلی اور رسوائی کا باعث بنے،جب بھی ان کی وہاں کسی ہوٹل یا کیفے وغیرہ میں چائے پیتے یا خوش گپیوں میں مصروف کوئی تصویر سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہے تو پاکستان میں ان کی صحت سے متعلق بحث چھیڑ جاتی ہے اور نئے سوالات اٹھنے لگتے ہیں ۔ حال ہی میں ان کی جو تازہ تصویر سامنے ;200;ئی ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ایک نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس سڑک کنارے بنے ہوئے کیفے پر اپنی پوتیوں کے ہمراہ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی حلقے یہ پوچھتے نظر آئے کہ وہ لندن میں گھوم پھر سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں آتے ۔ تصویر میں چونکہ وہ صحت مند اور ہشاش بشاش نظر ;200; رہے ہیں تو یقینا ان کی واپسی کے سوال تو اُٹھنے ہیں ، انہیں بہتر حال میں دیکھ کر نون لیگی حلقے بھی خوش دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ تو پاکستان کے بچے بچے کو علم ہے کہ وہ گزشتہ سال 19 نومبر کو ایک خصوصی فلائیٹ کے ذریعے عدالتوں کو یہ حلف نامہ دے کر نکل گئے تھے کہ وہ چار ہفتوں کے اندر علاج اور چیک اپ کرا کے لوٹ ;200;ئیں گے ۔ جس وقت یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے تھا تو حکومتی وکیل نے عدالت سے پوچھا کہ اگر وہ واپس نہیں ;200;تے توکیا ہو گا ۔ عدالت نے کہا کہ پھر توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار موجود ہے،اور یہ کہ اسلام ;200;باد ہائی کورٹ نے انہیں ;200;ٹھ ہفتوں کی ضمانت دے رکھی ہے اگر ضمانت کی میعاد ختم ہوجائے توعدالت ہی اسے دیکھے گی ۔ وہ دن اور ;200;ج دن چار ہفتے تو کجا تقریباً 27ہفتے گزر گئے کسی نے نہیں پوچھا کہ بھائی جان کہاں گئے وہ حلفے نامے ، وہ عدالتی فیصلے اور پلیٹ لیٹس پر ’ ٹی 20‘‘کرکٹ میچ کی طرح وہ رننگ کمینٹری جب سارا دن قومی میڈیا پلیٹ لیٹس کے گرنے اور چڑھنے کا مکمل سکور سناتا تھا اور ساتھ قوم کا’’ تراہ‘‘ بھی نکالا جاتا تھا کہ خدا نخواستہ اب سانحہ ہوا کہ تب ہوا ۔ ان دنوں ماہ اکتوبر اور نومبر میں جب تک میاں صاحب کو لندن پہنچا نہیں دیا گیا تب تک ہمارے کئی مہربان اینکرز نے پلیٹ لیٹس کے اعداد و شمار پر اتنے لیکچرز سنائے کہ پوری قوم ماہرین ِ پلیٹ لیٹس میں شمار ہونے لگی تھی ۔ پلیٹ لیٹس بارے اتنی آگاہی توشاید میڈیکل کے سٹوڈنٹس کو بھی نہیں ہوتی ہو گی جتنی میڈیا نے میاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس گنوا گنوا کر بچے بچے کو کرا دی تھی ۔ اب کوئی ان مہربان تجزیہ نگاروں اور اینکرز سے پوچھے کہ اپنی ٹائیوں کی تھوڑی سے گرہ ڈھیلی کریں اور جھانکیں کہ قوم کو مزید کتنے ہفتے ماموں بنائے رکھا جائے گا ۔ تصویریں تو قوم کو ماموں بنانے کا پردہ چاک کر رہی ہیں ۔ سچی بات ہے کہ گزشتہ 27ہفتوں میں نوازشریف کی صحت کے بارے عوام کو کچھ معلوم نہیں ہو سکا، معلوم بھی کیسے ہو کہ سب فسانہ تھا اور اب اس فسانے میں رنگ بھر نے کو مزید کچھ بچا نہیں ۔ میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے گزشتہ دنوں ایک نجی چینل نے اپنی رپورٹ میں دعوی ٰکیا ہے کہ میاں نواز شریف کی فیملی ڈیوٹی پر مامورڈاکٹروں کو ان کے بلڈ ٹیسٹ نہیں لینے دیتی تھی اور جعلی رپورٹس تیار کی گئیں تاکہ انہیں پاکستان سے نکالا جا سکے ۔ ایسی باتیں تب بھی سامنے ;200;ئیں تھیں مگر اس وقت حکومت کے خلاف اتنا شور تھا کہ کہیں سے کچھ اور سنائی نہیں دیتا تھا ۔ دن رات ایک ہی گردان رٹی جاتی تھی کہ عمران خان جان بوجھ نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک نہیں جانے دیتے، حتیٰ کہ یہاں تک کہہ دیا گیا تھا کہ عمران خان انہیں مارنا چاہتے ہیں ۔ نون لیگی رہنما کھلم کھلا دھمکیاں بھی دے رہے تھے کہ اگر میاں نوازشریف کو کچھ ہوا تو اسکے ذمہ دارعمران خان ہوں گے ۔ یہ دھمکیاں نون لیگ کے زیر اثر میڈیا ’’اذان‘‘ کے مصداق دن میں پانچ بار نشر کرتا تھا ۔ جانے اب وہ میڈیا ہاکس کہاں ہیں ، انہیں یہ سب کچھ کیوں نظر نہیں ;200; رہا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مافیا کے ہاتھ کتنے لمبے ہوتے ہیں ، خاص منصوبہ بندی کے تحت اس وقت حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا گیا ۔ اب جبکہ پھر جعلی رپورٹس کی بازگزشت سامنے ;200;ئی ہے تو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پاکستان میں ہونے والے طبی ٹیسٹوں سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط بھی لکھا ہے ۔ خط میں فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کی برطانیہ میں سامنے ;200;نے والی حالیہ تصاویر میں ان کی حالت بہتر نظر ;200;رہی ہے جبکہ وہ، برطانیہ میں اپنی ٹیسٹ رپورٹس بھی حکومت کے ساتھ شیئر نہیں کر رہے جس سے تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ برطانوی لیبارٹریز نے ان کی بیماری کی تصدیق نہیں کی ۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں عدالتوں سے ریلیف لینے کے لیے جعلی ٹیسٹ رپورٹس تیار کی گئیں اورٹیسٹ رپورٹس میں حقائق مسخ کرکے ان کے بیرون ملک جانے کی راہ ہموار کی گئی، اس لیے ان کے پاکستان میں ہونے والی ٹیسٹ رپورٹس کے بارے میں تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ پاکستان میں کس نے ٹیسٹ رپورٹس میں حقائق کو مسخ کیا، حقائق کو منظرعام پر لانے کے لیے وزیراعظم تحقیقات کا حکم دیں اور ایک انکوائری کمیٹی بنائی جائے جو پتا لگائے کہ کس نے نواز شریف کی فرار ہونے میں مدد کی ۔ فواد چوہدری کا مطالبہ درست ہے اس بارے چھان پھٹک ہونی چاہئے ۔ جعل سازی میں میاں برادارن کا کوئی ثانی نہیں ۔ پانامہ کیس گواہ ہے کہ کتنا کچھ جعلی جمع کرایا گیا ۔ اگر حکومت میڈیکل رپورٹس کی تحقیقات میں نہیں پڑنا چاہتی تو کم از کم اس معاملے کو اٹھائے کہ اتنا عرصہ بیت گیا ہے وہاں میاں نواز شریف کا علاج کہاں تک پہنچا ہے ۔ قوم جاننا چاہتی ہے کہ کیا انہیں کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی یا پھر مشروط اجازت تھی، کچھ تو اس پٹاری سے باہر آنا چاہئے ۔