- الإعلانات -

کورونا علاج اور حکومتی لاپرواہی

میں نوجوانی کے عالم میں ایک نارمل خوش و خرم زندگی گزار رہا تھا کہ اچانک ہماری زندگیوں میں کورونا آ گیا جس نے نہ صرف میرا بلکہ میرے حلقہ احباب،شہر،ملک،براعظم حتیٰ کہ پوری دنیا کا طرز زندگی تبدیل کر کے رکھ دیا،مہلک وائرس ہماری زندگیوں پر اس طرح حملہ آور ہوا کہ دنیا کو کچھ سمجھ ہی نہ آیا کہ کیا کرنا چاہئے اور وقت کی کیا ضرورت ہے ۔ پاکستان سمیت ہر ملک نے اپنے اپنے طریقے سے کورونا وبا سے نمٹنا شروع کر دیا جن میں صرف چند ایک نے اس وبا کو کنٹرول کیا باقی ساری دنیا میں اس وبا کی تباہی ہماری نظروں کے سامنے ہے ۔ ایک طرف جہاں پوری دنیا مہلک وائرس سے متاثر ہوئی وہاں میں بھی اس کا شکار ہوا تاہم شروع شروع کی علامات میں میرا ذہن کورونا کی طرف نہیں گیا اور میں ان علامات کو معمول کے بخار اور گلا خراب ہونا سمجھتا رہا ۔ شروع میں مجھے 4دن بخار رہا جس میں بہت زیادہ ٹھنڈ لگتی تھی اور رات کو نیند مشکل سے آتی تھی جس پر میں نے پیناڈول اور اس بخار کو ملیریا سمجھتے ہوئے باسو کوئین دوا لی جس کے مسلسل استعمال سے بخار اترنا شروع ہو گیا لیکن 4دن کے بعد میرا گلا درد کرنا شروع ہو گیا اب چونکہ عالمی ادارہ صحت اور پاکستانی وزارت صحت کی جانب سے ایسی کوئی گائیڈ لائنز نہیں دی گئی تھیں جن میں ایسا بتایا گیا ہو کہ کورونا علامات میں ایک علامت ٹھیک ہو کر دوسری علامت ظاہر ہو سکتی ہے ۔ اب تک کی معلومات کے مطابق بخار ہونا اور پھر اسکے ساتھ ہی گلا خراب اور سانس میں تکالیف اور بدبو آنا ہی تھیں مگر عام فہم یہی بات تھی کہ ساری علامات باری باری ظاہر ہوتی ہیں مگر کوئی علامت ختم نہیں ہوتی اگر مرض موجود رہے ۔ دو دن گلے میں شدید درد رہی جس دوران پانی پینا بھی موت نظر آتا تھا ۔ گلے میں ایسی درد زندگی میں پہلے کبھی نہیں ہوئی ۔ دو دن گلا خراب رہنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے نزلہ ہو گیا مگر میری ناک نہیں بہتی تھی ۔ مجھے چھینک آنے کا احساس ہوا لیکن آنے سے پہلے ہی رک جاتی ۔ اس کیفیت کو بھی میں نے اپنا وہم سمجھ کر جھٹلا دیا ۔ چوتھی علامت کے طور پر مجھے ناک سے بدبو آنے لگی جس پر مجھے کورونا کا وہم ہوا تاہم مجھے ایسا لگتا تھا کہ مجھے کورونا نہیں ۔ میں نے بدبو آنے کے بعد اپنا کورونا ٹیسٹ کرایا جو کہ پازیٹو آیا ۔ ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد میں ذہنی طور پر مضبوط رہا کسی بھی صورت ڈپریشن کا شکار نہیں ہوا ۔ پمز ہسپتال گیا جہاں سے ادویات اور ضروری ہدایات کے بعد ڈاکٹرز نے مجھے گھر بھیج دیا ۔ اب میری طبیعت بالکل ٹھیک تو نہیں تاہم بہت بہتر ہے ۔ بخار، گلا خراب اور چھینک کا رک جانا یہ کرونا میں وہ ازیت ناک مراحل ہیں جو آپ نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھے ہو ۔

یہ تمام آپ بیتی اسلام آباد میں ایک کورونا مریض کی ہے اور انکو تحریر کرنے کا مقصد عام لوگوں تک حقیقی معلومات پہنچانا اورکچھ پہلووَں پر حکومتی توجہ دلانا ہے ۔ جس نوجوان کورونامریض کی آپ بیتی بتائی جب اس نے اپنا کورونا ٹیسٹ کرایا تو کورونا ایس او پیز کے تحت کسی ادارے نے مریض کا تعاقب نہیں کیا اور نہ ہی اس کو قرنطینہ کیا گیا ۔ یہ ٹیسٹ پمز ہسپتال میں کیا گیا تھا اور اسی طرح ایک اور مریض نے نجی لیبارٹری سے کورونا ٹیسٹ کرایا انکو بھی قرنطینہ نہیں کیا گیا یہاں تک کہ دونوں مریضوں کے ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد بھی ان کو قرنطینہ نہیں کیا گیا جو کہ میرے لیے حیرت کی بات ہے او ملک میں کورونا مریضوں کی تعداد1لاکھ 8ہزار سے تجاوز ہونے کی واضح دلیل ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جہاں عوام کی لاپرواہی کے باعث کورونا پھیل رہا ہے وہیں پر حکومتی نا اہلی اور غفلت بھی اس میں برابر کی حصہ دار ہے ۔ پی ٹی وی پر آکر بار بار تقاریر کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے جب حکومتی ادارے ہی کورونا پر قابو پانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔ حکومت کو ہوش کے ناخن لینا ہونگے ۔ حکومت کو چاہئے کہ ان دونوں کیسز کو سامنے رکھ کر ذمہ داران کیخلاف کارروائی کرے ۔ سپریم کورٹ میں بھی کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت ہو رہی ہے ۔ عدالت کو چاہئے کہ ان پہلووَں کے بارے بھی حکومتی اداروں کی باز پرس کی جائے تاکہ حکومت اپنی کارکردگی بہتر بنائے کیونکہ ابھی بھی پانی سر سے نہیں گزرا ۔ اب میں وزیراعظم عمران خان کی توجہ ایک او ر اہم پہلو کی طرف دلانا چاہتا ہوں ۔ نیشنل کونسل فار ہومیو پیتھی کی جانب سے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کو ایک خط لکھا گیا جس میں کورونا مریضوں کے علاج میں حکومتی مدد کرنا تھا لیکن مشیر صحت نے انتہائی بے دردی سے یہ کہ کر خط کو واپس کر دیا کہ ابھی ملک میں اتنا زیادہ کورونا نہیں آیا جب ضرورت محسوس ہوئی تو آپ کو مطلع کیا جائے گا ۔ آج جب ملک میں کورونا تقریبا بے قابو ہے مگر شائد ابھی وہ نوبت نہیں آئی جس کا مشیر صحت کو انتظار ہے اسی لیے ابھی تک وزارت صحت کی جانب سے رابطہ نہیں کیا گیا حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ طاعون کی بیماری میں ایگنیشیا نے اپنا لوہا منوایا اور لاتعداد جانوں کو بچایا ۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد پھوٹنے والی وبا انفلوئنزا میں بھی ہومیو میڈیسن انفلوائنزیئم نے جوہر دکھاتے ہوئے اس وبا پر قابو پانے میں مدد دی ۔ اسی طرح جب ایلو پیتھی میں کورونا مریضوں کو کلوروکوئین،پینا ڈول اوراریتھرومائی سین جیسی ادویات اور صحت مند کورونا مریض کے پلازما سے علاج کے تجربے ہو سکتے ہیں تو پھر ہومیو ادویات آرسینی کم البم،ایکونائیٹ،بیلا ڈونا،برائیٹا کارپ،نیٹرم میور،رسٹاکس،بلاٹا اوریئنٹ،ایپی کاک پر نیشنل کونسل فار ہومیو پیتھی سے بات کیوں نہیں کی جاسکتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ابھی تک بات کیوں نہیں کی گئی;238;( میں نے جان بوجھ کر ہر علامت کی علیحدہ ہومیو میڈیسن کا نام اس لیے نہیں لیا تاکہ عام لوگ بغیر ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا نہ شروع کر دیں ) ۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ پاکستان طب کونسل اور نیشنل کونسل آف ہومیو پیتھی سے مشورے کے بعد ٹاپ کے ڈاکٹرز اور طبیبوں کے الگ الگ بورڈ بنا دیتی جن سے کورونا کے علاج پر مشورہ کیا جاتا اور انکی تجویز کردہ ادویات کورونا مریضوں پر آزمائی جاتیں اگر نتاءج اچھے آتے تو بہت اچھی بات بصورت دیگر اس آزمائشی پروگرام کا نقصان کوئی نہ ہوتا ۔ جس طرح ہماری وزارت صحت سوئی ہوئی ہے اور لکیر کے فقیر کی طرح دنیا کی ریسرچ اور تحقیق کے مطابق ہی کورونا سے نپٹ رہی ہے ٹھیک اسی طرح ہماری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا کردار ہے ۔ آج تک نہیں بتایا گیا کہ ہم نے این 95ماسک کتنے بنائے اور روزانہ کتنے بنا کر کس کو دے رہے ہیں ،سرجیکل ماسک کتنے بنا رہے ہیں ،کورونا ٹیسٹ کون کون بنا رہا ہے;238;وینٹی لیٹرز کون کون بنا رہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کتنے وینٹی لیٹر بنانے کی استعداد ہے;238;ان چیزوں سے متعلق ہم کس اسٹیج پر ہیں ۔ یہ سوالات کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بقول حکومتی اداروں کے یہ سب اچیو کر لیا مگر گراوَنڈ پر صورتحال ویسی کی ویسی ہی ہے ۔ آج بھی باہر سے ہی وینٹی لیٹر،ماسک اور کورونا ٹیسٹ کٹس درآمد کی جا رہی ہیں باقی سب باتیں تو چھوڑیں اس حکومت نے آج تک کورونا پھیلاوَ کے اسباب پر ریسرچ نہیں کی اور نہ ہی اس کی زہمت اٹھانے کا کسی نے سوچا کیونکہ مندرجہ بالا کورونا مریضوں کا جو زکر کیا گیا ان میں ایک مریض کی بیوی کو کورونا پازیٹو آیا اور اسکے بچوں کا کورونا ٹیسٹ نیگیٹو آیا جبکہ دوسرے مریض کے روم میٹس اور آفس کے بالکل ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر 8گھنٹے کام کرنے والے افراد متاثر نہیں ہوئے ۔ تمام افرادکے کورونا ٹیسٹ نیگیٹو آئے ۔ پاکستانی اداروں نے اپنی قوم کو یہ تک بتانا گوارا نہیں کیا کہ کورونا وائرس کاغذ پر کتنا عرصہ زندہ رہتا ہے،انسانی جلد پر اسکی کتنی زندگی ہے،کپڑے پر کتنی مدت ہے،سٹیل اور لوہے یہ کب تک مہلک رہتا ہے،کھانے پینے کی چیزوں پر کب تک متحرک رہتا ہے،کیا کھانے پکانے کے دوران بے اثر ہوتا ہے،زمین پر کتنا کورونا وائرس کتنا عرصہ رہ سکتا ہے،اسی طرح پودوں پر یہ کب تک رہتا ہے ۔ ڈیٹول سے یہ وائرس مر جاتا ہے یا نہیں ،بلیچ کا کیا کردار ہے کورونا مارنے میں ،سپرٹ کورونا وائرس کو مارتا ہے یا نہیں ۔ بہت سے سوالات کے جوابات حکومت نے دینے ہیں مگر ہم چونکہ لکیر کے فقیر ہیں اس لیے دنیا کی تحقیق پر ہی چل رہے ہیں اور ہاں ہم نے یہ تحقیق ضرور کر لی کہ پاکستان میں کورونا وائرس یورپ سے مختلف ہے اور اسی پر ہم نے چپ سادھ لی یا پھرصوبے اور وفاق دونوں قوم کو بے خبر رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔