- الإعلانات -

لداخ کا 90 ہزارمربع کلومیٹر علاقہ چینی قبضے میں

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ مشرقی لداخ میں ایکچوئل کنٹرول لائن (ایل اے سی) سے ’بڑی تعداد میں ‘ چینی فوجی انڈین علاقے میں داخل ہو گئے ہیں ۔ گو کہ انہوں نے یہ کہہ کر بات ٹالنے کی کوشش کی کہ دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے ،لیکن وہ حقائق کو نہیں جھٹلا سکے ۔ چین اور بھارت کے درمیان لداخ خطے کی وادی گلوان کے علاقے میں تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب چینی فوجیوں نے اپنے علاقے میں بھارتی فوجیوں کو ایک سڑک کی تعمیر کرنے سے روکا ۔ بھارت نے فوجی نقل و حرکت کےلئے اس خطے میں دربوک سے دولت بیگ اولڈی تک 255 کلومیٹر لمبی سڑک تعمیر کی ہے ۔ اس سڑک کی تعمیر سے بھارت کی وادی گلوان تک رسائی آسان ہو گئی ہے اور یہ درہ قراقرم کے نزدیک ختم ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس چین وادی گلوان کو اپنا خطہ تصور کرتا ہے ۔ دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان پینگونگ سو جھیل کے شمال میں ایل اے سی کے نزدیک جھڑپ ہوئی تھی جس میں کئی فوجی لوہے کے راڈ اور لاٹھیوں کی زد میں آ کر زخمی ہوئے تھے ۔ بھارتی فوج کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے کیلئے چینی فوج بھارتی حدود میں داخل ہوگئی تھی اور وادی گولان میں اپنے فوجی تعینات کر دیئے ۔ جس پر بھارت نے الزام عائد کیا کہ چین نے مغربی ہمالیہ میں ہمارے 38 ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ چین کا موقف ہے کہ بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں 90 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ اس کی ملکیت ہے ۔ اس سرحدی تنازع کی وجہ سے ہی دونوں ممالک کے درمیان کئی مرتبہ سرحدی علاقوں میں کشیدگی پیدا ہوئی ۔ حال ہی میں کشیدگی میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ چین اور بھارت کی فوج لداخ میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں ۔ بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ سینکڑوں چینی فوجی 3 ہزار 500 کلو میٹر لمبی سرحد کے ساتھ متنازع زون میں داخل ہوگئے ہیں ۔ دونوں ممالک کی افواج لداخ کی وادی گالوان میں خیمہ زن ہوئے تھے اور ایک دوسرے پر متنازع سرحد پار کرنے کا الزام عائد کیا تھا ۔ چین کی جانب سے تقریباً 80 سے 100 ٹینٹ نصب کردیے گئے ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے بھی 60 خیمے لگائے گئے ہیں ۔ سرحد پر تنازع کی اصل وجہ بھارت کی جانب سے سڑکوں اور رن ویز کی تعمیر ہے ۔ چین نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا اورجنگی طیارے بھی پہنچا دیئے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چینی فوج زیر زمین بنکرز بنانے مصروف ہے جبکہ کچھ بھارتی فوجیوں کو گرفتارکرلیا ہے جبکہ بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں نے بھاک کرجان بچائی ہے ۔ بھارتی میڈیا ہی کی بعض خبروں میں بتایا گیا تھا کہ چینی افواج نے اس علاقے میں توپ اور ٹینک بھی نصب کر دیے ہیں اور جھیل کے نزدیک پختہ عمارتیں تعمیر کرنا شروع کر دی ہیں ۔ دونوں ممالک نے سرحد کے قریب بھاری تعداد میں اسلحہ،جنگی گاڑیاں پہنچا دی ہیں ، فوجی اڈوں میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے ۔ بھارت نے چین کے ساتھ اعلی سطح پر فوجی مذاکرات کی درخواست کی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ بھارتی میڈیا کی یہ خبریں غیر تصدیق شدہ ہیں ۔ حقیقت میں لداخ میں چینی قبضے کو تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے مگر ایک بھی بھارتی میڈیا چینل لداخ نہیں پہنچا ۔ بھارتی سرکار نے بھارتی میڈیا کو دبا کر رکھا ہوا ہے کہ لداخ بارے کوئی بھی خبر لیک نہ ہو ۔ مگر بعض دفاعی تجزیہ کار اور اینکرز ڈھکے چھپے انداز میں اس لڑائی میں بھارتی شکست کا ذکر کر رہے ہیں ۔ چین نے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ۔ اس کے ثبوت کے طورپر سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر ہیں جن کے مطابق لداخ کے قریب چینی ساءڈ پر موجود ایئر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے ۔ اگر چینی فوجی بھارتی توقعات کے مطابق اپنی پرانی پوزیشن پر لوٹ جاتے ہیں تو یہ بھارت کی بہت بڑی عسکری، سیاسی اور نفسیاتی کامیابی ہوگی لیکن اگر انھوں نے پوری وادی گلوان پر اپنا دعویٰ برقرار رکھا اور اپنی پوزیشن سے ہٹنے سے انکار کیا تو یہ بھارت کےلئے صرف ایک سرحدی پیچیدگی نہیں بلکہ چین سے ایک طویل سرحدی ٹکراوَ کے آغاز کا اشارہ ہو گا ۔ حقیقت حال یہ ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان 3500کلومیٹر طویل غیر متعین سرحد ہے جو ہمالیہ کے ساتھ ملتی ہے ۔ چین تبت اور اکسائی چن خطے تک تیز ترین ذراءع نقل و حمل کا بہترین انفراسٹرکچر اور روڈ نیٹ ورک تیار کر چکاہے تاکہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سرحد تک فوری رسائی حاصل کر سکے ۔ اس کے برعکس بھارت ابھی تک علاقے میں ایسی کوئی رسائی حاصل نہیں کر سکا تاہم وہ مسلسل کوشش کر رہا ہے ۔ تیز ترین ذراءع نقل و حمل کا بہترین استعمال کرتے ہوئے چینی افواج نے بھارتی لداخ میں اپنے کیمپ بھی لگا لئے ہیں جو کہ بھارتی دعووں کے مطابق اسکا علاقہ ہے ۔ اس وقت لداخ میں 5ہزار سے زائد چینی فوجی موجود ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل ہونے کے بعد خطے میں ایک نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملک چین نے بھی بڑی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک جموں و کشمیر اور دوسرا لداخ ۔ لداخ کو اپنا علیحدہ صوبہ یا ریاست بنانے کی وجہ سے بھارت اور چین کی کشیدگی میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ یہ علاقہ چین کے زیر کنٹرول اکسائی چن کے علاقے سے متصل ہے جہاں چینی فوجیں بڑی تعداد میں متعین ہیں ۔ اس علاقے میں بھارت اور چین کی فوجوں میں کئی مرتبہ جھڑپیں ہو چکی ہیں ۔