- الإعلانات -

بھارت کی گیدڑبھبکیاں ۔۔۔عالمی برادری نوٹس لے

بھارت پاکستان کی امن کی خواہش کو اسکی کمزوری نہ سمجھے اگر اس مکاردشمن نے حماقت کی تو اس کا جواب 27 فروری 2019 سے بھی بڑھ کر ملے گا ۔ ;200;ج بھارت جس طرح اپنی جنونیت میں جنگ کا ماحول گرما رہا ہے اسکے تناظر میں ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے جو یقینا شوکیس میں سجانے کیلئے نہیں ۔ بھارت نے اپنے انتہا پسندانہ ایجنڈے کی بنیاد پر پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو کسی بھی حوالے سے چیلنج کیا تو ٹھوس جواب ملے گا ۔ بھارت نے تین جنگیں مسلط کیں اورہرباراسے شکست ہوئی ۔ دشمن کو امن سے کوئی سروکار نہیں اس لئے وہ ہر وقت علاقائی امن و سلامتی سے کھیلنے میں مصروف رہتا ہے جس کی مودی سرکار نے دنیا میں مذہبی انتہا پسندی اور جنونیت کی نئی مثالیں قائم کی ہیں ۔ پاکستان علاقائی اور عالمی امن کا داعی ہے اور اس کیلئے موثر کردار بھی ادا کررہا ہے تاہم وہ اپنے دفاع کے تقاضوں سے بھی ہرگز غافل نہیں جس کیلئے ہماری افواج ہمہ وقت مستعد اور چوکنا ہیں ۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شا ہ کی دوبارہ ہرزہ سرائی اور دھمکیوں پر ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے کہا ہے کہ بھارت کو گزشتہ برس فروری میں اپنی مہم جوئی کے بعد پاکستان کا تیز ترین اور موثر جواب یاد رکھنا چاہئے ۔ ہم نے اپنی صلاحیتوں اور اپنے عزم کا بھرپور مظاہرہ کر دیا تھا ۔ ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فضائی حملے کی بھارتی دھمکی پر ردعمل میں کہا کہ بھارت یہ حماقت نہ کرنا پاکستان دفاع کرنا جانتا ہے ۔ امیت شاہ پر واضح کرتا ہوں بھارت نے حملے کی غلطی کی تو منہ توڑ دیں گے ۔ بھارت نے حملہ کیا تو فوری جواب دیا جائے گا ۔ بھارت یہ گیدڑ بھبکیاں بند کرے ۔ امیت شاہ کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے ۔ دنیا بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان کا نوٹس لے ۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے ۔ بھارت معصوم زندگیوں سے کھیل رہا ہے ۔ بھارت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے ۔ بھارت میں اقلیتیں حکومت سے نالاں ہیں ۔ بھارت میں معاشی حالات بگڑ چکے ہیں ۔ کشمیر میں بھارت نے ظلم کی انتہا کی ہوئی ہے ۔ بھارت افغانستان کے امن عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے بھارت اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے ۔ پاکستان کوئی تر نوالہ نہیں ہے ۔ پاکستان کا دفاع بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔ اصل میں نریندر مودی کی حکومت دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے دیئے گئے ہندوتوا کے منشور پر عمل پیراہے اس نے 5فروری2019ء کو کشمیر کے متعلق بھارت کے سیکولر آئین میں خصوصی شقوں 370 اور35اے کو بھونڈے انداز میں بھارتی پارلیمنٹ میں ایک بل کے ذریعے ختم کیا اس کے بعد سے آج تک کشمیر میں کرفیونافذ ہے،ایک کروڑ کشمیریوں کو محصور کیا گیا ہے ۔ مقبوضہ وادی کو کھلی جیل میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ ہر روز بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو مختلف حیلے بہانوں سے گرفتار کر کے نا معلوم مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے جہاں ان پر بے پناہ تشدد کیا جاتا ہے،اس کے علاوہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جس میں نہتے کشمیریوں کو شہید نا کیا جاتا ہو اورکشمیری خواتین کی عزتوں کو پامال نہ کیا جاتا ہو ۔ بھارتی مظالم جو کہ تھمنے کانام نہیں لے رہے مگرکشمیریوں کے جذبے کو سلام ہے کہ وہ تحریک آزادی سے لیکرآج تک بھارتی مظالم کا ڈٹ کرمقابلہ کررہے ہیں ۔ بے شرمی کی انتہاء دیکھیں کہ اس تمام صورت حال میں بھارتی حکمران اور فوجی جنرل پاکستان کو آئے روز دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ۔ یہ بد حواسی کی انتہا ہے یا بے شرمی کی ۔ اپنے ملک کے شہریوں کو آئینی حقوق اور شہریت سے محروم کرنے والے اور مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور مظلوم باشندوں سے خوفزدہ بھارتی حکمران اور فوجی قیادت بجائے شرمسار ہونے کے پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان ان کی گیڈر بھبکیوں سے نہ پہلے ڈرا ہے اور نہ ہی اب ڈرنے والا ہے بلکہ حسب روایت بھارت کو ہی منہ کی کھانی پڑی ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی میں بھارت ، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شامل رہا ہے ۔ قوم پرست افغانستان کے ساتھ مل کر آئے دن پاکستان میں دہشت گردی کراتا رہتا ہے ۔ مودی آر ایس ایس کے ہٹلر والے ایجنڈے پر عمل کر کے مسلمانوں کے ساتھ ہٹلر جیسی ہولو کاسٹ والا معاملہ کر رہا ہے ۔ پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کئے اب اس کے مزیددس ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے جو صرف اس کے خواب ہی ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے جارحانہ اقدام کو اقوام متحدہ میں زبردست طریقے سے للکارا ۔ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے ہندوتوا اور آر ایس ایس کے نظریہ کو فروغ دینے کی خاطر اپنے ملک کی اندرونی سیکورٹی کو بھی داءو پر لگا دیا ہے ۔ شہریت قانون کے نام پر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر وہاں کی سر زمین تنگ کر دی ہے ۔ اب یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کے جنونی ہاتھ روک کر اسکے جارحانہ عزائم کے ;200;گے بند باندھے ۔ پاکستان کو اپنے تحفظ ودفاع کیلئے کوئی بھی قدم اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے ۔

متفقہ لاءحہ عمل طے کرنے کی ضرورت

سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کے باعث ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم واپس لے لیا ۔ عدالت نے حکومت کو کورونا کے خاتمے اور سینیٹری ورکرز کے تحفظ کےلئے قانون سازی کی ہدایت کی ہے ۔ عدالت نے این ڈی ایم اے سے طبی سامان کی تیاری کےلئے مشینری امپورٹ کرنے اور ترکی سے ٹڈی دل سپرے کےلئے جہاز لیز پر لینے کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی صورتحال سے قوم کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عوام نے کورونا وائرس سے بچاءو کےلئے احتیاط نہ کی تو بہت مشکل وقت آنےوالا ہے ۔ پاکستان میں جولائی کے اواخر اور اگست میں کورونا کے کیسز عروج پر ہونگے ۔ ہم سب احتیاط کریں تو پاکستان تباہی سے بچ جائےگا،عوام ایس او پیزپر عمل کریں تو کیسز تیزی سے نہیں پھیلیں گے ۔ ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے تاحال اس پر قابو پانے کی کوئی صورت نظر ;200;رہی ہے نہ کوئی تدبیر کارگر ثابت ہو رہی ہے اس کاصرف اورصرف واحد حل احتیاطی تدابیرہیں ۔ اس سلسلے میں احتیاطی تدابیر کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے ورنہ پانی سر سے گزر جانے پہ کف افسوس ملنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ ملک میں کاروبارکو مرحلہ وار کھولنے کےلئے حکومت کی طرف سے عوام کو ایس او پیز پر عمل کرنے کی تنبیہ کی گئی مگر اس کے خاطر خواہ نتاءج سامنے نہیں ;200;ئے ۔ لاک ڈاءون میں نرمی کےلئے جو قواعد وضع کئے گئے ان پر ہر صورت سختی سے عمل کرنا اور کرانا ہو گا ۔ اگر قواعد و ضوابط پر عمل نہ ہوا تو کورونا بے قابو ہو سکتا ہے جس کے باعث حکومت کو پھرلاک ڈاءون کرنا پڑسکتاہے ۔ سیاسی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے پرالزام تراشی اورسیاسی گیم بلیم سے باہرنکلیں اورعوامی تقاضوں کومدنظررکھتے ہوئے پارلیمنٹ میں قانون سازی کریں ۔ ایک دوسرے پرالزام تراشی سے تلخیوں میں اضافہ ہوگا اور حکومتی و اپوزیشن قائدین سنجیدہ فکر عمل کے ساتھ کورونا وائرس کا پھیلاءو روکنے کے بجائے ایک دوسرے کے گریبانوں میں ہی جھانکتے رہیں گے ۔ عوام کو کسی ٹھوس متفقہ قومی پالیسی کے تحت ہی لاک ڈاءون کے ایس او پیز پر مکمل عملدر;200;مد کی راہ پر لایا جا سکتا ہے ۔ وزیراعظم درست فرماتے ہیں کہ کورونا وائرس کا پھیلاءو روکنے کے ساتھ ساتھ ہ میں لوگوں کا کاروبار تباہ ہونے اور انہیں فاقہ کشی کا شکار ہونے سے بھی بچانا ہے اس کےلئے موثر اور ٹھوس حکمت عملی طے کرنے کیلئے سب کومل بیٹھ کر کوئی متفقہ لاءحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے ۔ سپریم کورٹ نے بجافرمایا ہے کہ حکومت قانون سازی کرے ۔ اب عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کریں تاکہ جلدازجلد اس وباء پرقابوپاکرمشکل صورتحال سے نکلاجائے ۔