- الإعلانات -

پاکستان میں اقلیتوں کومکمل تحفظ حاصل ہے

پاکستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے 50 کے قریب ہندو خاندان گزشتہ ماہ واہگہ بارڈر کے راستے ہری دوار جانے کےلئے بھارت میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے مذہبی تہوار میں شرکت کرنی تھی تاہم ان پاکستانی ہندو خاندانوں کے بھارت پہنچنے کی خبر کو بھارتی ذراءع ابلاغ میں کچھ اس انداز میں پیش کیا گیا کہ یہ خاندان مبینہ طور پر بھارتی شہریت کے خواہش مند ہیں ۔ پاکستان سے مذہبی تہوار میں شرکت کے لیے جانے والے ہندو خاندانوں کو 25 دن کا سیر و تفریح کا ویزہ دیا گیا ہے ۔ بھارتی میڈیا نے مذکورہ ہندو خاندانوں کے انٹرویوز اپنی پاکستان دشمن پالیسی کے تحت ہی شاءع کیے جس کے مطابق پاکستان سے آنے والے ہندو خاندانوں پاکستان کو برا نہیں کہنا چاہتے کیونکہ وہ ان کا ملک ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہاں اقلیتوں کے لیے صورت حال سازگار نہیں ہے ۔ پاکستانی ہندو لکشمن داس کا کہنا ہے کہ ہری دوار میں شبھ اشنان کرنے کے بعد میں اس بارے میں سوچوں گا کہ آیا مجھے بھارت میں ہی رہنا ہے یا نہیں ۔ ایک ہندو اینکر کا کہنا تھا کہ چار ہندو خاندان اپنی زندگی اور مذہبی عقیدے کو بچانے کےلئے پاکستان چھوڑ کر آئے ہیں ۔ میں خود انہیں لینے کےلئے بارڈر پر گیا ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ سے درخواست ہے کہ وہ انہیں جلد از جلد شہریت دے دیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ان رپورٹس کو ’من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اپنے ملک میں شہریت بل تبدیل کرنےوالا اور ملک میں موجود اقلیتیوں کو اْن کے حق سے محروم کرنے والا بھارت اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کےلئے پاکستان پر الزام تراشیاں کر رہا ہے ۔ یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش ہے ۔ بھارت اپنے اندرونی معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ پاکستان میں موجود اقلیتوں کو اْن کے حقوق میسر ہیں اور وہ یہاں آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں ۔ اقلیتوں کے حقوق کی واضح مثال کرتار پور راہداری ہے، جس سے دنیا بھر کے سکھوں کےلئے ان کے مقدس مقام تک رسائی آسان بنائی گئی ہے ۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور اسلام میں اقلیتوں کی جان و مال کے تحفظ کےلئے مثالی اقدامات ہیں ۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے محمد علی جناح نے صرف 11 اگست کی تقریر ہی نہیں بلکہ لگ بھگ اپنی 33 تقریروں میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بات کی ۔ ریاست کا کسی کے مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہوگا ۔ ہر کسی کو مذہبی آزادی ہوگی اور ریاست نہ تو کسی مذہب کو فروغ دے گی اور نہ ہی کسی کو دبائے گی ۔ ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان مسلمان نہیں رہیں گے ۔ مذہبی اعتبار سے نہیں بلکہ سیاسی اور قومیت کے اعتبار سے ۔ آج بھی ہماری اقلیتیں تعمیر وطن میں اپنا بھرپور احصہ ڈال رہی ہیں ۔ حکومت اقلیتوں کو یقین دہانی کراتی ہے کہ وہ قائداعظم محمدعلی جناح;231; کے غیرمسلم شہریوں سے کئے گئے وعدے پورے کریگی ۔ ہم پاکستان کو ایسا روادار معاشرہ بنائیں گے جہاں ہرشہری کے حقوق محفوظ ہوں ۔ اس خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں اقلیتیں زیادہ محفوظ ہیں ۔ پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں میں سب سے زیادہ تعداد ہندووَں کی ہے ۔ مسیحی آبادی کے اعتبار سے دوسری بڑی اقلیت ہیں جبکہ ان کے علاوہ سکھ، پارسی، بودھ اورکیلاشی نمایاں ہیں ۔ پاکستان میں بودھوں کی تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے ۔ اقلیتوں کے حقوق اور انکی مذہبی و تہذیبی شناخت کا تحفظ قرارداد پاکستان کا اہم پہلو تھاجسے بنیاد بنا کر برصغیر پاک و ہند کی اقلیتی برادری نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا اور قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں علیحدہ وطن کے حصول کی جدوجہد اور قیام پاکستان کے بعد قومی تعمیر و ترقی کے عمل میں بھر پور حصہ لیا ۔ اقلیتیں ہمارے قومی وجود کا لازمی جزو ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کیلئے اقلیتی برادری کی خدمات اور قربانیوں میں قابل قدر تیزی آئی ہے ۔ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اقلیت دوست ملک کے طور پر جانا جائے گا ۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور انہیں معاشرے میں جائز مقام دلانے کےلئے ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح;231; کے رہنماء اصولوں کے مطابق اقلیتوں کو بنیادی حقوق اور مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ اقلیتی برادری نہ صرف پاکستان سے والہانہ محبت اور عقیدت رکھتی ہے بلکہ ملک کی خوشحالی میں بھی شانہ بشانہ ساتھ دے رہی ہے ۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل کیلئے حکومت بھرپور اقدامات یقینی بنارہی ہے ۔ اس ضمن میں اقلیتی رہنماء اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔ اقلیتوں کی مالی مدد ، طلبہ کیلئے اسکالر شپ، میڈیکل سہولیات اور عبادت گاہوں کی تعمیر و مرمت کےلئے بھی حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ پاکستان تمام اقلیتوں کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے ۔ کرتار پور راہداری پاکستان کی جانب سے امن و محبت کا پیغام ہے ۔ سکھ کمیونٹی کی شدید خواہش تھی کہ کرتارپور راہداری کھلے لہذا پاکستان نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے کرتار پور راہداری نہ صرف کھول دی بلکہ سکھ برادری کو بلا روک ٹوک اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی بھی پوری آزادی دی ۔ پاکستان کے تمام شہری برابر ہیں اور تمام افراد کے مذہب، ذات اور عقائد سے بالاتر ہو کر ان کے حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔ حکومت پاکستان اقلیتوں کی فلاح کےلئے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے جن میں ان کےلئے نوکریوں میں 5 فیصد کوٹہ اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں آبادی کے لحاظ سے نشستوں کا مختص کرنا شامل ہے ۔ بانی پاکستان نے اقلیتوں کو مکمل آزادی اور تحفظ کی ضمانت دی تھی ۔ آج بھی اقلیتیں تعمیر وطن میں بھرپور حصہ ڈال رہی ہیں ۔ اقلیتوں کی فلاح و ترقی روز اول سے ہمارے منشور کا لازمی جزو ہے ۔