- الإعلانات -

وفاقی کابینہ کے فیصلوں پرعملدرآمدکی ضرورت

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تو ہوئی مگرعوام کی پریشانی کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی، شہری پٹرول کی تلاش میں خوارہو رہے ہیں اور سستے پٹرول کے ثمرات سرمایہ دار اٹھا رہے ہیں ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب ایک طرف کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے تودوسری طرف مافیا بھی سرگرم عمل ہے جس نے عوام کاخون نچوڑنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی ۔ اسی مافیانے لاک ڈاءون سے کئے گئے حکومتی اقدامات کا کوئی خاص ریلیف عوام تک نہیں پہنچنے دیا ۔ یقیناوزیراعظم عمران خان کو عوام کی اس کسمپرسی کا احساس اوردرد ہے اور وہ ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی کیلئے مختلف اجلاسوں میں انتظامی مشینری کو متحرک کرنے کے احکامات صادر کرتے ہیں اور کورونا ریلیف پیکیج سمیت اب تک عوام کیلئے متعدد ریلیف پیکیجز بھی جاری کئے ہیں مگر کرپشن، مہنگائی ،ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری نے حکومتی رٹ کو غیر موثر بنا دیا ہے ۔ بلاشبہ یہ صورتحال تشویشناک ہے جس پر قابو پانے کیلئے وزیراعظم عمران خان کو سخت فیصلوں کے ساتھ اُن پرعملدرآمدکرانابھی ضروری ہے اب جبکہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور وزیراعظم نے اس کافائدہ عوام تک پہنچانے کےلئے پٹرولیم مصنوعات میں پینتیس سے چالیس روپے فی لیٹرکمی تومافیانے پٹرول پمپ ہی بندکردیئے اورپٹرول بلیک میں فروخت کرناشروع کردیا جس کا وزیراعظم نے سختی سے نوٹس لیا اورایسے عناصرکے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیاہے ۔ عوام کی جیبوں پرڈاکہ ڈالنے والوں کےخلاف سخت ترین کارروائی کی ضرورت ہے ۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا ۔ وفاقی کابینہ نے اسٹیل ملزملازمین کو برطرف کرنے کے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کی ۔ وفاقی کابینہ نے کہا کہ سالہال سال سے غیر فعال اسٹیل ملز کا سارا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے، ملکی مفاد میں اصلاحاتی ایجنڈے کو مزید آگے بڑھا جائے گا ۔ کابینہ نے پولٹری کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ملک کے بعض علاقوں میں پٹرول اور ڈیزل کی مصنوعی قلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مصنوعی قلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ،وزارت پٹرولیم اور اوگرا آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں میں پٹرول کی باقاعدہ سپلائی کو یقینی بنانے کےلئے تمام ضروری اقدامات کرے ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو فائدہ نہیں نقصان ہوا،مصنوعی قلت پیداکرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے، پٹرول کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی ،عام اشیاء کی مناسب قیمتوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے ،ماضی میں سیاسی اثرورسوخ استعمال کرکے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا، عوام نے احتساب کے نام پر ووٹ دیا ہے، سیاست کو کاروبارکیلئے استعمال کرنےوالوں سے حساب لیاجائے گا،شوگر انکوائری کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، چینی کی قیمت میں ہر صورت کمی لائیں گے، جو بھی اس معاملے میں ملوث ہوگا اس کے خلاف ایکشن ضرور ہوگا ۔ ملک بھر میں پٹرول کی قلت کے باعث عوام کو انتہائی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ اہے ۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایساہوا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں 35 سے 40 روپے تک کی کمی کی گئی جس سے کچھ پٹرول پمپ مالکان نالاں نظر ;200;تے ہیں جبکہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ہمیشہ اضافہ ہوا ہے جس کا مالکان کو ہی فائدہ پہنچا ہے ۔ حکومت کو ایسے مافیا کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لانی چاہیے ۔ بلاشبہ وزیراعظم نے پٹرول مافیاکی کمر توڑنے کے سخت احکامات دیئے ہیں مگر یہ جاننا ضروری ہے کہ پٹرول بحران کون پیدا کر رہا ہے;238;اوگرا حالیہ بحران میں بحیثیت ریگولیٹر ناکام دکھائی دیتاہے ،کیا ملک میں 7دن کا پٹرولیم اسٹاک رہ گیاہے اس ضمن میں مناسب منصوبہ بندی کیوں نہیں کی گئی اورذمہ داروں کے خلاف اب تک ایکشن کیوں نہیں ہوا;238;ان کیخلاف بھی کاروائی کی جائے ۔ لہٰذا وفاقی کابینہ کوفیصلے کرنے کے ساتھ ساتھ اُن پرعملدرآمدکرانابھی ضروری ہے ۔

افغانستا ن میں قیام امن کےلئے پاکستان کامثبت کردار

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کا ایک روزہ دورہ کیا، جنرل قمرجاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات ، بارڈر مینجمنٹ سے متعلق معاملات ، افغان مفاہمتی عمل اور سرحدی امور پرتبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقاتوں میں افغان قیادت میں امن عمل میں سہولت دینے کیلئے ضروری اقدامات، تجارت اور روابط بڑھانے میں سہولت دینے کے اموربھی زیر غور آئے ۔ ملاقاتوں میں اتفاق کیا گیاکہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی حالات معمول پر لانے کا اہم ذریعہ ہے، صدر اشرف غنی نے طورخم اور چمن سرحدیں کھولنے پر وزیراعظم پاکستان کی تعریف کی اور پاکستان میں پھنسے افغان باشندوں کی واپسی کےلئے زمینی اور فضائی راستہ کھولنے کو بھی سراہا ۔ افغان صدر نے امن عمل کےلئے پاکستان کے کردار کی بھی تعریف کی ۔ قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کے بعد اپنے ٹوءٹر پیغام میں کہا کہ ہم نے جنرل قمرجاوید باجوہ کو یقین دلایا ہے کہ ہم افغان طالبان کے ساتھ تنازعات کے حل کیلئے تیار ہیں جبکہ پاک فوج کے سربراہ نے بین الافغان مذاکرات کیلئے بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ افغانستان میں امن کے قیام اوربین الافغان مذاکرات کیلئے پاکستان انتہائی مثبت کردارادا کررہا ہے ۔ بلاشبہ افغان امن عمل سے افغانستان میں امن کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے ۔ افغانستان کے امن سے خطے کا امن بھی وابستہ ہے ۔ افغانستان میں امن قائم ہوتا ہے تو تیس سال سے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین بھی باعزت طریقے سے واپس جاسکیں گے ۔ پاکستان نے افغانستان میں ہر حوالے سے اہم کردارادا کیا ہے ا وردنیا پاکستان کے کردارکو سراہتی ہے ۔

عالمی ادارہ صحت کاپاکستان کوانتباہ

عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں کورونا کے تیز ترین پھیلاءو والا ملک بن گیا ہے، عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے پاکستان میں 2 ہفتے مکمل لاک ڈاءون ضروری ہے،پاکستان میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 24فیصد ہے جو بہت زیادہ ہے، پاکستان نئے کیسز میں 10ویں نمبرپرآئسولیشن کانظام کمزور، شہری ہاتھوں کی صفائی، ماسک،سماجی فاصلہ اپنانے سے گریزاں ہیں ، ہانگ کانگ کے اسٹڈی گروپ نے کورونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی پر پاکستان کو ایشیا اور بحرالکاہل کا چوتھا خطرناک ملک قرار دیدیا، جبکہ لاک ڈاءون نرم کرنے پر عالمی ادارہ صحت نے بھی پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان لاک ڈاءون نرم کرنے کی 6 میں سے کسی ایک شرط پر بھی پورا نہیں اترتا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں لاک ڈاءون نہیں کرسکتے، ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جائے ۔ دنیا کے دوسرے ملکوں میں جہاں کورونا وائرس کی تباہ کاریوں میں بتدریج کمی دیکھی جا رہی ہے وہاں پاکستان میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے جو انتہائی تشویشناک ہے ۔ مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہاہے ۔ گزشتہ 24گھنٹے میں مزید 107مریضوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی جس کے بعدملک میں اب تک ہونےوالی اموات کی تعداد ڈھائی ہزار کے قریب ہے ۔ وزیراعظم لاک ڈاءون کے شروع ہی سے حامی نہیں ہیں اور باربار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عوام اپنی جانوں کی حفاظت کےلئے خود احتیاطی تدابیر کی پابندی کریں تاکہ حکومت کو سختی نہ کرنا پڑے ۔ وزیراعظم بجافرماتے ہیں کہ ایک طرف کورونا کاخطرہ ہے اور دوسری طرف لوگوں کوبھوک سے بچانے کاچیلنج ہے ۔ بحیثیت قوم ہ میں کورونا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی ،اگرایسا نہ کیاگیاتوپھرسخت لاک ڈاءون کی نوبت آسکتی ہے ۔