- الإعلانات -

مثالی رویے کی ضرورت

اسلام دین فطرت ہے اس کے اساسی تصورات عدل واعتدال پر مبنی ہیں یہ وہ عظیم نعمت ہے جو انسانیت کو ایک عظیم تحفہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہو اہے ۔ یہ انسانی حیات کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے اور یہ واحد دین ہے جو دیگر ادیان باطلہ اور دوسرے افکار سے کلی طور منفرد بھی ہے اور مختلف بھی ایک ایسا نظام جو ایک صورت میں بندے کو اپنے خالق سے ملاتا ہے تو دوسری صورت میں اسی مخلوق کا رشتہ بندگان خدا سے بھی استوار کرتا ہے ۔ بلکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں میانہ روی پیدا کرتا ہے جس طرح عمل کے بغیر علم کا ہونا اور انسانیت کے بغیر انسانوں کا ہونا، ایک ادھورا عمل ہے اسی طرح حسن اخلاق، خدمت خلق اور صلہ رحمی کے بغیر مسلمان ومومن بھی ادھورا ہے ۔ اسلام نے جہاں زندگی کے دیگر گوشوں اور مراحل کو سنوارنے کا انتظام مہیا کیا ہے وہاں خدمت خلق پر ایک خاص توجہ دی ہے ۔ اسلام نے اس معاملے میں بھی ایک ارفع واعلیٰ تصور پیش کیا ہے ۔ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا’’جو شخص کسی مومن سے دنیوی تکالیف میں سے کوئی ایک تکلیف دور کردیگا تو اللہ قیامت کے دن کی تکلیف میں سے اسکی تکلیف دور کردے گا ۔ جو شخص کسی تنگ دست سے نرمی کا معاملہ کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اسے نرم معاملہ کرے گا ۔ حضرت انس;230; اور حضرت عبداللہ;230; دونوں کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ’’ساری مخلوق خدا کا کنبہ ہے تو خدا کو اپنی مخلوق میں وہ شخص سب سے زیادہ محبوب ہے جو خدا کی مخلوق کے ساتھ بھلائی سے پیش آئے‘‘ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:’’اور جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے‘‘بخاری شریف کی حدیث میں آیا ہے:’’بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، مریضوں کی عیادت کرو اور قیدیوں کو چھڑاو‘‘یہی تعلیمات ہیں جو ایک معاشرے کا معاشی نظام سدھار سکتے ہیں ۔ بندوں کے حقوق کی ادائیگی سے جی چرانا یقیناًگناہوں میں شمار ہوتا ہے سورۃ المدثر میں اللہ فرماتے ہیں ’’تمہیں کیا چیزیں جہنم میں لے گئی وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں نہ تھے اور مسکین کو کھانا کھلاتے نہ تھے‘‘یہ بات عیاں ہے کہ انسان فطرت ایک انسان سے تقاضا کرتی ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ اخوت وبھائی چارے کے ساتھ پیش آئیں ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا : ’’بلاشبہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ ‘‘ (سورۃ الحجرات) گویا ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کا خیر خواہ اور غم خوار ہو ۔ ہر انسان پسند کرتا ہے کہ اُس کی عزت ہو،اس کو نفع پہنچے،اُس کی خیر خواہی کی جائے ۔ اُس کی غیر حاضری میں اُس کے اچھے کاموں کی تعریف کی جائے ۔ پس اخوت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مثالی رویہ رکھے،بلکہ ایسارویہ تو مسلمان ہونے کی علامت ہے ۔ حضرت انس بن مالک ;230; روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کےلئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ ‘‘نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’مومن جب مومن سے ملتا ہے،اسے سلام کرتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں ، جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں ۔ ‘‘حضرت انس بن مالک ;230; روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو خوش کرنے کےلئے اس طرح ملتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے خوش کر دے گا ۔ ‘‘(رواہ الطبرانی فی الصغیر)مسلمان بھائی کےلئے نیک تمنا اور اچھی دُعا بڑے اجر و ثوا ب کا باعث ہے ۔ اگر یہ دُعا کسی کی غیر حاضری میں کی جائے تو اس کی فضیلت زیادہ ہو جاتی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ;230; روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’جو کوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے ۔ ‘‘ (ابو داءود)گویا دوسرے مسلمان کی حاجت پوری کرنے سے بندہ اللہ کی ذمہ داری میں آ جاتا ہے ۔ مسلمان بھائی کو جس طرح کی مدد کی ضرورت ہو مشکل میں اُس کا ساتھ دینا اجروثواب کاباعث اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا سبب ہے ۔ حضر ت ابو سعید خدری ;230; سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے ۔ ‘‘ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی ۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہﷺ! مہمان کا اکرام کیا ہے ;238; ارشاد فرمایا:’’تین دن ۔ اور جو اس کے بعد بیٹھا رہے تو میزبان کا کھانا پلانا مہمان پر احسان ہے ۔ ‘‘(مسند احمد) مسلمان بھائی کا اکرام یہ بھی ہے کہ اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کی جائے ۔ عیادت کے موقع پر ایسی امید افزا گفتگو کی جائے کہ مریض کا دل خوش ہو جائے اور عیادت اس کےلئے سکون اور چین کا باعث ہو ۔ اگر کوئی مسلمان بھائی ضرورت مند ہو اور وہ قرض کا سوال کرے تو اُسے انکار کر کے مایوس اور بد دل نہیں کرنا چاہئے، بلکہ حسبِ استطاعت اس کی مدد کرنی چاہئے ۔ اس طرح ایک مسلمان بھائی اپنی ضرورت پوری کر لے گا اور ضرورت کے وقت کام آنے والا شخص بے حساب اجروثواب پائے گا اور اگر مقروض کے نامساعد حالات کی وجہ سے اسے قرضے کی ادائیگی میں مہلت دی جائے تو یہ عمل قرضے کے ثواب سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔ حضرت عمر ان بن حصین;230; روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص کا کسی دوسرے شخص پر کوئی حق (قرضہ وغیرہ)ہو اور وہ اس مقروض کو ادا کرنے کےلئے دیر تک مہلت دے تو اسے ہر دن کے بدلے صدقے کا ثواب ملے گا ۔ ‘‘(مسند احمد) اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں بدگمانی سے منع کیا گیا ہے اور ہر اس طرزِ عمل اور گفتگو سے باز رہنے کا حکم ہے جس سے اس کی عزت میں فرق آتا ہو یا اہانت ہوتی ہو ۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ایک مسلمان کی عزت و حرمت خانہ کعبہ سے بھی زیادہ ہے ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کیا ہم مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں کیا ہم نے کبھی اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ ہمارے پڑوس میں رہنے والے کس حالت میں ہیں ہم نے کبھی سنجیدگی سے ان کی پریشانیوں کو حل کرنے کی کوشش کی ہے اسلام تو یہ کہتا ہے کہ اگر تم ان کو پھل وغیرہ پیش نہیں کر سکتے تو رات کی تاریکی میں دور جا کر پھلوں کے چھلکے پھینکا کرےں تا کہ ان میں احساس محرومی پیدا نہ ہو ۔