- الإعلانات -

اور اب پٹرول کا بحران!

کبھی آٹے کا بحران اور کبھی چینی کا بحران اور اب تازہ تازہ پٹرول کا بحران پاکستانی عوام ہمیشہ بحران اور مسائل سے دو چاررہتے ہیں نازک صورت حال سے گزرتے ہیں ۔ عوام کا جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ غربت اور مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے ۔ خاص طور پر مہنگائی نے تو لوگوں سے مسکراہٹ اور چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی چھین لی ہیں ۔ نعرے جمہوریت کے آلاپے جاتے ہیں مگر ایک طرف عوام ہیں جن کی اکثریت ہے اور دوسری طرف اشرافیہ ہے جس نے اکثریت کو یر غمال بنایا ہوا ہے ۔ اقتدار پہ اشرافیہ قابض ہے ۔ ان کی مرضی ہے جو کرے ۔ قیمتوں کا تعین سرمایہ داروں ، تاجروں ا ور صنعتکاروں پر چھوڑ دیا ہے ۔ عام مشاہدہ ہے کہ کاشت کاروں کا استحصال آڑھتی کرتے ہیں اور صارفین پر مہنگائی مسلط کرنے والے بڑے بڑے ڈیلر، مڈل مین اور دلال ہیں ۔ آڑتھ اور دلال جیسا چاہیں صارفین کا استحصال کریں ۔ گویا شہر ناپرساں ہے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ قیمتوں پر حکومتی کنٹرول نظر نہیں آرہا ہے اور جو تھوڑا بہت نظام موجود تھا وہ بھی تباہ ہو چکا ہے ۔ دکھادے کہ چھاپوں اور اجلاسوں کے علاوہ عملی طور پر کوئی ایسا نظام اور میکنزم موجود نہیں ہے جو کہ قیمتوں کو کنٹرول میں رکھ سکے اور ناجائز منافع خوری کو روکے ۔ عوام منتظر کہ ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے حرام خوروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کب ہوگی ۔ مڈل مین جسے عرف عام میں دلال کہا جاتا ہے قیمتوں کی تعین میں اس کے کردار کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کب ہوں گے اور ان منافع خوروں کو نکیل ڈالی جائے گی ۔ پٹرول کی قیمتوں میں کمی تو ہوئی مگرعوام کی پریشانی کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی،ملک بھر میں پٹرول ہی ناپید ہوگیا، شہری پیٹرول کی تلاش میں خوارہو گئے اور سستے پٹرول کے ثمرات بھی سرمایہ دار اٹھا رہے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی جس کے بعد 90 روز میں پٹرول کی قیمت میں 43 اور ڈیزل کی قیمت میں 47 روپے کمی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود اشیائے ضرویہ کی قیمتیں آسمان پر موجود ہیں ۔ پیٹرول کیا سستا ہوا کورونا کے ستائے عوام کو پمپ پرعوام کی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں ۔ اوراس مصنوعی قلت کے باعث عوام ہائی اوکٹین پیٹرول خریدنے پر مجبور ہیں ، ہائی اوکٹین کی قیمت عام پٹرول سے زیادہ ہوتی ہے ۔ جبکہ جمہوریت کے گیت گاکر ذہنی عیاشی کرناہمارا قومی مزاج بن چکا ہے کہ محض بیان بازی میں ہم سب سے آگے ہیں بڑے بڑے ہوٹلوں مختلف انواع واقسام کے کھانے کیمرے کے سامنے سجاکر ہم ملک میں غذائی بحران کا رونا روتے ہیں عالی شان بنگلوں کے ائیر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر ہم عوام کی غربت کے گیت گاتے ہیں اور نئی گاڑیوں کا دھواں اڑا کر عوام کے آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے ہم ملک میں توانائی کے بحران کا ذکر زور وشور سے کرتے ہیں بین الاقوامی سطح کے سیمینارز میں یہ فلسفہ جھاڑتے ہیں کہ ملک عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ملک کو غیر مستحکم کرنے کا ذمہ دار بھی ہم ہی ہوتے ہیں سٹیج پر فقہ واریت کے خلاف تقریر تو کی جاتی ہے مگر خود مقرر صاحب کسی نہ کسی فرقے کا ترجمان ضرور ہوتا ہے ۔ اور ہر فرقے کا دوسرے کے خلاف فتویٰ موجود ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام کے پنجے بڑے پیچ دار ہیں اس نظام کے کردار ملکوں کو پھانستے ہیں ان پر جنگ مسلط کرتے ہیں اور دنیا میں بھوک اور غربت کے بیج بوتے ہیں سرمایہ پرستانہ نظام ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تحفظ دیتا ہے کیونکہ اس نظام کے جتنے بھی کردار ہوتے ہیں ان کو دانہ پانی یہ کمپنیاں فراہم کرتی ہیں ایک ایسٹ انڈیا کپمنی نے پورے برصغیر کو لوٹا حالانکہ برصغیر کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا آج یہاں کے عوام فاقوں پر مجبور ہیں برصغیر کا دیوالیہ ایک کمپنی نے نکال دیا اور آج سینکڑوں کمپنیاں قوموں کو نگل رہی ہیں سرمایہ کے ہوس نے کروڑوں لوگوں کے جسموں کو بھوک کی وجہ سے پنجرے بنادیا ہے قوم کا دیوالیہ نکلتا ہے اور کمپنیوں کے مالکان کی توندیں باہر نکلتی ہیں اور ان کی گردنیں موٹی ہوتی جاتی ہیں ۔ اقوام کے وسائل لوٹ کر ان کو بھوکا مارنے کا پروگرام ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس ہے اور مقامی ملوں اور کمپنیوں کے مالکان ان کے طفل بچے ہیں جو کبھی آٹے کا بحران پیدا کرتے ہیں اور کبھی چینی اور کبھی سیمنٹ کا اور سب سے بڑا سامراج بے گناہ انسانوں پر ہزاروں منوں کے حساب سے بارود پھینک کر ان کے وسائل اور منڈیوں پر قبضہ کر تا ہے اور ان پر خون کے بادل برساتا ہے جس کے نتیجے میں خون کی ندیاں بہتی ہیں ، شہر اجڑتے ہیں اور ملک تباہ ہوتے ہیں اور جمہوریت کے علمبر دار اس کا تماشا کرتے ہیں ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے لبادے میں سامراجی کھیل کھیلا جارہا ہے اور سامراج چند مفاد پرستوں کو نوازتا ہے جن کاطرز حیات عوام کے ساتھ میل نہیں کھاتا ہے اور عوام بے چارے ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘ کا نمونہ بنتے چلے جاتے ہیں زرعی ملک ہونے کے باوجود ستر فیصد زمینیں بنجر ہیں اور جو تھوڑا بہت حصہ کاشت ہورہا ہے اس کا طریقہ کار بھی غیر سائنسی ہے اور تسلط اس پر سرمایہ دار اور جاگیردار کا ہے اور عوام اسکے ثمرات سے دور ہیں جسکے نتیجے میں غربت، مہنگائی اور بھوک کو فروغ مل رہا ہے اس کا واحد حل یہ ہے کہ تمام ملوں اور کارخانوں کو قومی تحویل میں لیا جائے اور ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کر کے غریب عوام کی کمائی پر ہاتھ صاف کرنے والے مجرموں کو عدالت کے کٹھیرے میں کھڑا کیا جائے اور اگر ان ملوں اور کارخانوں کو قومی تحویل میں نہ لیا گیا اور قوم کے مجرموں کو سزا نہ دی گئی تو اس کے نتاءج ہولناک ہوں گے جوکسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتا ہے! ۔