- الإعلانات -

بھارتی دہشت گردی کا منہ توڑ جواب

بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم صوبہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان بے پناہ وسائل اور بلوچ نوجوانوں کو صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔ افواج پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ ملکر ہمیشہ کوشش ہے کہ معاشی اور معاشرتی ترقی کےلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے ۔ بلوچستان کی ترقی اصل میں پاکستان کی ترقی ہے اور پاک فوج اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے ۔ پاکستان دشمن ممالک نے بلوچستان میں مختلف عناصر کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے انھیں نہ صرف سرمایہ اور ہتھیار فراہم کیے ہیں بلکہ بلوچستان میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے لسانی ،فرقہ وارانہ اور قبائلی تعصبات کے شعلے بھڑکائے اور ایسی تنظی میں بنوائیں جو اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کے تحت قومی سلامتی کے ضامن اداروں کیخلاف منافرت پھیلا رہے ہیں ۔ بلوچستان میں نسلی ،لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی بناء پر سینکڑوں بیگناہ افراد کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا کر غیر ملکی قوتوں کے پروردہ آلہ کار تخریب کاروں نے خطرناک خونی کھیل کھیلا ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے متنبہ کیا ہے کہ بلوچستان کو بھارتی سازشوں کا شکار نہیں بننے دیں گے ۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مقامی دہشت گردوں کو بھارت کی سرپرستی حاصل ہے ۔ اس بات کا اعتراف بھارتی میڈیا اوراس کے فوجی افسرخود کر رہے ہیں ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واشگاف الفاظ میں اس امر کی نشاندہی کی کہ بلوچستان کے ان علیحدگی پسند عناصر کو بھارت کی سرپرستی حاصل ہے ، جو اپنی ایجنسی ;34; را ;34; کے ذریعے انکی تربیت اور فنڈنگ کر رہا ہے ۔ اور انہیں پاکستان مخالف مہم کےلئے عالمی اداروں تک رسائی دلا رہا ہے ۔ بھارت افغانستان کے راستے ;34; بلوچستان لبریشن فرنٹ ;34; اور دوسری تنظیموں کو تخریب کاری کے ارتکاب کےلئے اسلحہ اور مالی مدد بھی فراہم کر رہا ہے ۔ ایشین ہیومن راءٹس کمیشن نامی ایک تنظیم بلوچستان میں نفرت کے بیج بو رہی ہے ۔ پاک فوج اور بلوچ عوام کے درمیان جھوٹ بول کر غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں ۔ سیاسی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے ۔ اے ایچ آر سی باغی بلوچوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔ اس تنظیم کے پاکستان دشمن ممالک سے بھی رابطے ہیں ۔ وہ بلوچستان میں ترقیاتی کاموں اور سی پیک کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ جہاں تک بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی اور مداخلت کا سوال ہے تو اس کا جواب صرف کلبھوشن ہے ۔ بھارت نے بلوچستان میں مختلف عناصر کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے انھیں نہ صرف سرمایہ اور ہتھیار فراہم کیے ہیں بلکہ بلوچستان میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کےلئے لسانی ،فرقہ وارانہ اور قبائلی تعصبات کے شعلے بھڑکائے اور ایسی تنظی میں بنوائیں جو اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کے تحت قومی سلامتی کے ضامن اداروں کیخلاف منافرت پھیلا رہے ہیں ۔ بلوچستان میں نسلی ،لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی بناء پر سینکڑوں بیگناہ افراد کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا کر غیر ملکی قوتوں کے پروردہ آلہ کار تخریب کاروں نے خطرناک خونی کھیل کھیلا ۔ سی پیک کے منصوبے بھی بھارت کی نظر میں کھٹک رہے ۔ بلوچستان اور سندھ میں بھی ایسے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کےلئے بھارتی ایجنٹ سرگرم عمل ہیں ۔ بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو بھی یہی مشن لے کر پاکستان آیا تھا ۔ اس نے سندھ میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی منصوبہ بندی کی اور بلوچستان میں سی پیک کے منصوبوں کو کسی نہ کسی انداز میں نشانہ بنایا ۔ سندھ سے جو لوگ بلوچستان جا کر سڑکوں پر کام کررہے تھے انہیں بھی نشانہ بنایا گیا ۔ چینی انجینئروں اور ماہرین کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی گئی ان کے اغوا کی وار داتیں بھی ہوئیں ۔ جس کی وجہ سے سی پیک کے منصوبوں کی حفاظت کےلئے خصوصی فورس بھی تشکیل کی گئی ۔ پاکستان کے دشمنوں کی یہ خواہش ہے کہ یہ منصوبہ کسی نہ کسی طرح آگے بڑھنے سے روک دیا جائے اور اس مقصد کےلئے چینیوں کو خاص طور پر نشانہ اس لئے بھی بنایا جارہا ہے کہ اس طرح چین اس منصوبے سے ہی بددل ہوسکتا ہے ۔ بعض لوگ منصوبوں کی مخالفت کرتے کرتے اپنی نکتہ چینی کا ہدف چین کو بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے اور اس کے حوالے سے بے سروپا اور حقائق کے منافی خبریں بھی اڑاتے رہتے ہیں ۔ جو منصوبے بھی سی پیک سے نتھی ہیں ان سب کا ایک ایک کرکے جائزہ لیں اور ان کی مخالفت کرنےوالوں کے بیانات کا تجزیہ کریں تو یہ بات الم نشرح ہو جائیگی ۔ ان سب کے پیچھے یا بھارت نظر آئیگا یا وہ بھارت نواز عناصر جو اس کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں ۔ بھارت، امریکہ ، اسرئیل اور دیگر دشمن ممالک کے ایما پر افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کےلئے استعمال کر رہا ہے ۔ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک‘ تحریک طالبان پاکستان‘ جماعت الاحرار‘ القاعدہ کے ٹھکانے موجود ہیں جو دہشت گردی کےلئے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں ۔ ’’را‘‘ افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا رہی ہے ۔ حالیہ دہشت گردی میں باہر کے لوگ ملوث ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں ۔ ہماری خفیہ ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہمارے بعض علماء اور سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ میں بھارتی ملوث ہیں ۔ دہشت گرد پاکستانی ہیں نہ مسلمان ، بلکہ دشمنوں کے تیارکردہ ہیں جنہیں مسلمان اور پاکستان کا لبادہ اوڑھا کر استعمال کیا جاتا ہے ۔ خود کش حملوں میں مدارس کے وہ بچے استعمال کئے جاتے ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا ۔ نام نہاد مولوی اپنے بیرونی عناصر کے نظریات کی بنا پر ان کی ٹریننگ کرتے ہیں اور انہیں خود کش حملوں کیلئے بھیج دیا جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں افغانستان میں موجود بھارت کے قونصل خانے بہت سرگرم عمل ہیں ۔ طالبان کے دور میں افغانستان میں بھارت کا ایک بھی قونصل خانہ موجود نہ تھا مگر نائن الیون کے بعد بھارت امریکہ کی شہ پر افغانستان میں قدم جما چکا ہے ۔ بھارت نے افغانستان سے یتیم بچے اپنے ملک میں لا کر ان کو دہشت گردی کی ٹریننگ دی اور پھر ان کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے بھیج دیا ۔ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ وطن عزیز میں فرقہ وارانہ (شیعہ سنی) فسادات کے پیچھے ’’را‘‘ کا ہاتھ ہے ۔ پاکستان میں مختلف وارداتوں میں گرفتار ہونیوالے افراد یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے بھارت میں را کے تربیتی کیمپوں سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی ۔ بلوچستان بدستور غیرملکی سازشوں کا نشانہ بنا ہواہے ۔