- الإعلانات -

پاکستان کےلئے ریلیف،پیرس کلب نے قرض کی ادائیگی موخرکردی

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشت تباہ و برباد ہوکر رہ گئی ہے جس سے پاکستان بھی خاصا متاثر ہوا جس کی معیشت پہلے ہی زبوں حالی کا شکار تھی اور کوروناوائرس کی وباء سے مکمل طورپردھچکالگاہے مگر حکومت موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کےلئے اقدامات کررہی ہے ۔ عام ;200;دمی کو ریلیف دینے کےلئے حکومتی اقدامات تسلی بخش ہیں اور ان کے ثمرات بھی کافی حدتک عوام تک پہنچے تاہم اگر کہیں رکاوٹیں ہیں یا ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث عوام کماحقہ مستفید نہیں ہو پا رہے تو اس کا تدارک بھی ضروری ہے ۔ یہ امر خوش ;200;ئند ہے کہ وزیراعظم عمران خان ہمیشہ عوام کو بھوک و افلاس سے بچانے کےلئے ہی فکر مندنظر ;200;ئے ۔ جہاں تک مہنگائی کم ہونے کے بارے میں وزیراعظم کے جذبہ ہمدردی کا تعلق ہے تو اس کےلئے سخت ترین اقدامات کی ضرورت ہے ۔ بلاشبہ پاکستان کی معاشی مشکلات میں کمی وزیراعظم کی بڑے ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں میں ریلیف سے ہوئی جس کے باعث حکومت نے عام ;200;دمی کے مسائل حل کرنے کی پوری تندہی سے کوشش کی ۔ ممکنہ حد تک وسائل اسی ایک مقصد کیلئے استعمال کئے گئے ۔ یہ سب اپنی جگہ مگر معاشی چیلنج بہت بڑا ہے ۔ کورونا وائرس کب تک رہتا ہے اسکے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر اسکے انسانی زندگی اور ملکوں کی معیشت پر اثرات تادیر برقرار رہیں گے ۔ یقینا ان بڑے چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے ہ میں اپنے دستیاب وسائل سے ہٹ کر خطیر رقوم کی ضرورت ہے ۔ یہ پاکستان کےلئے خوش آئند ہے کہ پیرس کلب نے پاکستان سمیت مزید چار غریب ممالک کے قرض کی ادائیگیاں ایک سال کیلئے موخر کردیں ، دنیا کے 20امیر ترین ممالک کے گروپ جی ٹوئنٹی کے قرض دینے والے 11ممالک کے گروپ پیرس کلب نے اس حوالے سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا ہے کہ عالمی وباء کورونا وائرس سے نمٹنے کےلئے پاکستان کا قرضہ موخر کیا گیا ہے ۔ اس طرح پاکستان کو رواں برس 1;46;8ارب ڈالر کی قسط میں سہولت مل گئی ۔ پیرس کلب اعلامیے میں کہا گیا کہ ;71;-20 ممالک بھی قرضوں کو موخر کرنے کی توثیق کرچکے ہیں ۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پیرس کلب نے پاکستان کے ساتھ ساتھ افریقی ممالک چاڈ، ایتھوپیا اور جمہوریہ کانگو کا قرضہ بھی موخر کیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے سب سے پہلے غریب ممالک کیلئے قرض موخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کےلئے 50 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی ۔ اعلامیے کے مطابق قرض غریبوں کے تحفظ، صحت کی سہولتوں میں توسیع اور کوروناصورتحال کے دوران روزگار کے مواقع پیدا کرنے کےلئے ہوگا ۔ صدر ایشیائی ترقیاتی بینک مساسوگا اساکاوا کا کہنا تھا کہ مشکل صورتحال میں پاکستان کی مکمل مدد کا عزم رکھتے ہیں ۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ایشیائی ترقیاتی بینک اور حکومت پاکستان کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں جس کے تحت اے ڈی بی 30 کروڑ ڈالر قرض اور 50 لاکھ ڈالر امداد کی صورت میں دے گا ۔ اب ان رقوم کا صحیح استعمال ہی حکومتوں کیلئے بڑا چیلنج ہے ۔ ;200;ج عملاً ملک کی ;200;دھی سے زیادہ ;200;بادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے جو موجودہ صورتحال میں بھوک کی زیادہ زد میں ;200;ئیگی اس لئے کرونا ریلیف فنڈ میں وصول ہونیوالی رقوم تمام متاثرین کا مکمل ڈیٹا حاصل کرکے شفافیت کے ساتھ استعمال کرنا ہوں گی اور انہیں اللے تللوں پر لٹانے والے ہمارے روایتی کلچر سے بچانا ہوگا کیونکہ لاک ڈاءون کرنا کوئی علاج نہیں بلکہ عارضی اقدام ہے ہ میں فیصلے اپنے زمینی حقائق اور عوام کی حالت زار کو دیکھ کر کرنے ہیں ۔ ہ میں یہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ جب تک ہماری معیشت بحال نہیں ہوجاتی غریب اور نادار طبقے کی مشکلات بڑھتی رہیں گی ہ میں بھوک اور وباء کی روک تھام کے حوالے سے حفاظتی اقدامات میں توازن قائم کرنا ہوگا ۔ یقینا غریب اور ترقی پذیر ممالک کی خبرگیری کیلئے کورونا وائرس کی بنیاد پر عالمی پیشرفت کا ;200;غاز بہت بڑا سہارا ہے ۔ یہی درحقیقت اخوت اور صلہ رحمی کا وہ جذبہ ہے جس پر شعائر اسلامی میں سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے ۔

ای سی سی اجلاس،اربوں کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا ۔ قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال 2020-21 کیلئے 1324ارب روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ اور اقتصادی شرح نموکے 2;46;1 فیصد ہدف کی منظوری دے دی ۔ 1324 ارب روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ میں 650 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)اور صوبوں کیلئے 674 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ۔ قومی اقتصادی کونسل نے پی ایس ڈی پی کے 650 ارب روپے میں کارپوریشنز کیلئے 158 ارب 63کروڑروپے جن میں این ایچ اے 118 ارب 68 کروڑر وپے، این ٹی ڈی سی اور پیپکو کیلئے 39 ارب 65 کروڑر وپے مختص کرنے ، ایرا کیلئے 3 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی ،فاٹا کیلئے48ارب،آزاد کشمیر 32 ارب ، دیامربھاشا ڈیم 25 ارب،ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے کیلئے 6 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی ، قومی اقتصادی کونسل کی جانب سے آئندہ مالی سال کےلیے میکرو اکنامک فریم ورک کی بھی منظوری دی گئی ، آئندہ مالی سال کیلئے اقتصادی شرح نمو کا متوقع ہدف 2;46;1 فیصد کردیا گیا ،زراعت کا متوقع جی ڈی پی کا ہدف 2;46;8 فیصد ، صنعتوں کا 0;46;1 فیصد اور سروسزکا ہدف 2;46;6 فیصد رکھنے کی منظوری دی گئی ، آئندہ مالی سال کیلئے کرنٹ اکاءونٹ خسارے کا متوقع ہدف1;46;6 فیصد ، برآمدات کی گروتھ کا ہدف 1;46;5فیصد اور درآمدات کا ہدف1;46;1 فیصد رکھنے کی منظوری دی گئی ، تجارتی خسارہ کا متوقع ہدف 7;46;1فیصد رکھنے کی منظوری دی گئی ،کونسل نے آئندہ مالی سال کےلئے پی ایس ڈی پی میں انفراسٹرکچر کیلئے 364 ارب ، توانائی 80 ارب ، ٹرانسپورٹ و مواصلات 197 ارب ، پانی70 ارب روپے اور فزیکل پلاننگ کے شعبے کےلئے 35 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی ہے، وزارتوں اورڈویژنوں کےلئے 307 ارب ،سماجی شعبے 249 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی سماجی شعبے کےلئے منظور کیے گئے فنڈز میں سے صحت کےلئے 20 ارب روپے، تعلیم و اعلیٰ تعلیم کےلئے 35 ارب روپے ، پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کےلئے 24 ارب روپے اور ماحولیاتی تبدیلی کےلئے 6 ارب روپے ،گورننس کےلئے 4ارب روپے اور 2 ارب روپے متفرق منصوبوں کےلئے مختص کیے گئے ، کورونا سے نمٹنے کےلئے خصوصی طورپر 70 ار ب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔

پٹرول بحران جاری ۔ ۔ ۔ ۔

وزیراعظم عمران خان کا پٹرول کی قلت سے متعلق ہنگامی اجلاس میں کہنا ہے کہ مجھے کسی کے دبا ءوکی پروا نہیں ، اداروں کو اپنا کام کرنا ہوگا ۔ اجلاس میں وزیراعظم نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ قلت دور کرنے کیلئے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں ;238; مجھے کسی کے دباءوکی پروا نہیں ، اداروں کو اپنا کام کرنا ہوگا ۔ اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ اٹک ریفائنری کے پاس ایک کروڑ 75 لاکھ لیٹر ہے جو سپلائی نہیں کیاجارہا، اٹک ریفائنری شمالی ریجن کو تیل سپلائی کرتا ہے اور زیادہ مسائل بھی وہیں ہیں ۔ ملک بھر میں پٹرول کا بحران جاری ہے ۔ چھوٹے بڑے شہروں میں پٹرول نایاب ہے ۔ چند پمپس مالکان صرف50یا 100روپے کا پٹرول دے رہے ہیں جہاں جہاں پٹرول دستیاب ہے گاڑیوں موٹرسائیکلوں کی قطاریں لگی ہیں جبکہ بعض مقامات پر پمپس اور منی ایجنسیوں پر 100سے150روپے لٹر تک پٹرول فروخت کیا جا رہا ہے ۔ مختلف شہروں میں موجودہ صورتحال پر صارفین سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے شرح کے مطابق مہنگائی میں کمی کردی جائے تو عوام کو خاطرخواہ ریلیف مل سکتا ہے ۔ پٹرول کے نرخوں میں کمی کے باوجود عوام اسکے ثمرات سے محروم ہیں ۔ وزیراعظم بارہا باور کرا چکے ہیں کہ مصنوعی مہنگائی کرنےوالوں ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے لیکن نظر یہی ;200;تا ہے کہ مافیامن مرضی کرکے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ لہٰذا مافیا کیخلاف سخت کارروائی کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عوام تک پہنچائے جائیں ۔