- الإعلانات -

کرونا وائر کب ختم ہو گا ایک رپورٹ کا جائزہ!

یقینا ہر شخص اس بات میں دلچسپی رکھتا ہے کہ آخر یہ کرونا وائرس کب ختم ہو گا;238; تقریباََ چھ ماہ پیشتر چین کہ شہر;34; ووہان;34; میں کرونا نے اپنی موجودگی ظاہر کی تھی اور اس کے بعد دنیا کے مختلف سرحدیں عبور کرتا ہوا یہ امریکہ تک پہنچ گیاجب تک کرونا پاکستان میں داخل نہیں ہوا ہم پاکستانی لوگ کچھ مطمئن تھے لیکن بلا آخر کرونا وائرس نے یہاں بھی باہر کے زاہرین کے زریعے اپنی موجودگی ثابت کر دی،اب نوے ہزار مریضوں کی موجودگی اور دوہزار سے زائد اموات نے ہمارے لیے سراسیمگی پیدا کر دی ہے لیکن مختلف دستیاب معلومات کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بن بلایا مہمان آیا بھی اپنی مرضی سے تھا اور جائے گا بھی اپنی مرضی سے! بعض سائنسدان، طبی ماہرین اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے یہ کہہ کر ہ میں ڈرا دیا ہے کہ کرونا وائرس آئندہ بھی دیگر بیماریوں مثلا پولیو اور ایچ آئی وی کی طرح ہمارے ساتھ ساتھ ہی رہے گا ۔ دنیا کے بعض ممالک نے اس کی ویکسین بنانے کا دعویٰ کیا ہے لیکن ابھی تک اس کی کوئی باقاعدہ میڈیسن یا ویکسین مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے اس لئے ہمارے پاس سوائے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے اور کوئی علاج نہیں ہے ۔ جس طرح روزوں اور عید کے بعد چاند کا انتظار ہوتا ہے اسی طرح ہر فرد کی دلچسپی اس امر سے ہے کہ کروناکی واپسی کی راہ کب تک ہموار ہو گی اور کب اس سے چھٹکارہ ملے گا;238; نہ صرف سائنسدان، طبی ماہریں ، دانشور، بلکہ دنیا بھر کے ماہر فلکیات ملے جلے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اپنے حساب سے اس کی رخصتی کا حساب لگا رہے ہیں ۔ لوکل میڈیا اور ایک معاصر اخبار نیوز کی آرا ء کے مطابق انڈیا کے مختلف اسٹالوجرز نے امید ظاہر کی ہے کہ ستمبر تک کرونا کی واپسی کے اثار نظر آ رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ انڈیا پچیس مارچ سے لاک ڈاءون کی حالت میں ہے کینڈا کی ایک اسٹالوجردیویا بھوجک لاک ڈاءون سے پہلے ٹورناٹو سے انڈیا آئی تھی اور ابھی تک وہیں مقیم ہیں اور جو اعدار و شمار اور تاش کے پتوں کے ذریعے (;84;arot & ;71;raphology ;82;eader)قسمت کا حال بتاے میں بھی ماہر ہیں ، کا کہنا ہے کہ اگست تک کرونا کے حملوں میں کمی آ جائے گی ۔ کرونا کے بارے میں ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ سب کچھ انسان کا اپنا;34; کرما ;34;ٰٓ یا کیا دھرا ہے اس کرہ ارض کی حیثیت ہماری ماں کی سی ہے لیکن ہم نے اپنی اس مادر وطن سے ہر قسم کے ظلم و ستم روا رکھے ہیں اور قسم قسم کے ایٹمی ،کیمیائی اور صنعتی تجربات کر کے اس کے ماحول کو خراب کر کے اس سے اچھا سلوک نہیں کیا ہے انھوں نے خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ2020 میں نہ صرف اس سیارے ;80;lanet پر چھ، گرہین لگ رہے ہیں بلکہ اس کرہ ارض پر ان ستاروں اور;80;lanets کے تیور بگڑے ہو ئے نظر آ رہے ہیں جو ایک فرد بزنس مین اور زندگی کے دوسرے لوگوں کےلئے پریشانی کا باعث بن سکتے ہے ایک دوسرے اسٹالوجر کیڈر شرما کے مطابق جون کے بعد صورت حال بدلتی ہوئی نظر آتی ہے،زحل ;83;aturn اور مشتری ;74;upiter کی پوزیشن بھی کسی نقصان کے بغیر تبدیل ہو جائے گی ۔ نوجوان پا ءون نشانت اور ان کی ایک خاتون رشتہ دار شیلانی دیوی ویدی جنہوں نے کچھ غیر معمولی سیاسی پیشن گوئیوں میں بہت نام کمایا ہے کا کہنا ہے کہ ستمبر سے پہلے کسی بہتری کی امید نہ رکھیں کیونکہ مشتری ;74;upiterابھی اس پوزیشن میں نہیں کہ آپ پر کچھ مہربان ہو اور اپنی برکتیں نازل کرئے بلکہ انھوں نے کہا ہے کہ کرونا 10 جون کے بعد نہ صرف بڑھے گا بلکہ ایکسیڈینٹس، سیلاب اور دیگر بیماریوں کے بھی آئندہ آنے والے دنوں میں بڑھنے کا اندیشہ ہے !مشہور اسٹالو جر اجے ٹیلنگ نے ;6779867368;-19سے 27ستمبر کے بعد اسکی ویکسین کی آمد کی بنا پر اس مرض کی کچھ کمی کی نوید سنائی ہے انھوں نے یہ بھی بتایا کہ لوگوں کی تکالیف کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ چھ کے چھ ستارے زحل ;83;aturn، مشتری ;74;upiter، مریخ;77;ars، زھرہ ;86;enic، راہو ;82;ahu اینڈ عطار ;77;ercuryشرارتوں اور نقصان کے در پے ہیں ۔ جو دھ پور کے ایک اورسٹالوجر رامیش دیویدی ;82;amash ;68;wivediکے مطابق 30جون کے بعد اس بیماری میں کمی آئے گی اور ہلاکتوں کی تعداد بھی زیادہ نہیں بڑھے گی ۔ جولائی کے بعد مشتری ;74;upiterاپنی پوزیشن کو تبدیل کرئے گا جبکہ اس وقت تک اس وائرس کی میڈیسن بھی آ جائے گی اسی طرح نیشنل میوزم دہلی کے ایکس آفیسر اورورندا باران کے نوجوان اسٹالوجر جو ;66;hagwatam ;68;iscourse ;80;resentation(خدائی اور آسمانی طاقتوں کے پس منظر میں کام کرنےوالی قوتوں کو پیش کرنے کا طریقہ کار) کو پیش کرنے میں ایک بہت نامور شخصیت ہیں نے پیشن گوئی کی ہے کہ جون کہ مہینے میں کرونا آناََ فاناََ اوپر جائے گا لیکن اس سے ہلاکیتیں زیادہ نہیں ہو نگی ۔ دہلی کی اینجیلی گروہا کے مطابق بھی کرونا اور اس کے متعلق بڑھتی ہوئی بیماری کی ایک ہی اہم وجہ ایک ہی وقت میں سب ستاروں کا ایک جگہ اکٹھا ہونا ہے ۔ کیتو بھی ایک اہم ستارہ ہے اس کی وجہ شہرت بھی خاص طور پر وائرس کا پھیلاءو اور بڑھنا ہے اس خاتون نے ستمبر کے وسط تک اس میں کمی کی نشاندہی کی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ پیشن گوئیاں انڈیا کے ماہر فلکیات نے اپنے ملک کےلئے کی ہیں پاکستان کے ماہرین فلکیات نے دو زاءچے بنائے ہیں ملک کے مشہور اسٹالوجر سید انتظار حسین شاہ زنجانی (ایڈیٹر آئنہ قسمت) کے مطابق پہلا زاءچہ 14 اگست 1947;247;ء اور اس کے بعد جب پاکستان دو لخت ہوا 20 دسمبر 1971;247;ء کے د و زاءچے ہیں پہلے زاءچے کے مطابق ستارہ شمس جو ایک طاقت و عروج اور بلندی کا نشان ہے کا قیام 21مارچ سے برج حمل میں تھا جو ایک بہترین برج اور بہتری کا نشان ہے جس سے پاکستان میں کرونا کے اثرات نسبتاََ کم وارد ہوئے دوسرے زاءچے کے مطابق ستارہ شمس بارہویں گھر میں ہے یہاں اس کا قیام 14 اپریل سے 14مئی تک تھا ۔ چونکہ بارہویں گھر کا تعلق ہسپتالوں ، خیراتی اداروں ، انٹیلی جنس ایجنسیوں ، خانقاہوں اور حکومتی اداروں کی تدبیروں اور دعاءوں سے ہے اس لئے اللہ پاک سے امید ہے کہ آہستہ آہستہ کرونا ختم ہو جائیگا(انشاء اللہ) ۔