- الإعلانات -

خطے کا امن، افغانستان میں قیام امن سے مشروط

جنوبی ایشیاء میں چند ممالک ایسے ہیں جو خطے کا پرامن ماحول خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں ۔ ان میں سے ایک افغانستان بھی ہے جو دہائیوں سے جنگ کا میدان بنا ہوا ہے ۔ امریکی مداخلت کے بعد یہاں خونریز جنگ لڑی گئی ۔ لاکھوں افغانیوں کو تہ تیغ کیا گیا ۔ امریکیوں کا بھی کافی جانی و مالی نقصان ہوا مگر اس کے عوض کیا ملا ۔ ایک تباہ حال افغانستان جو خود اپنے اندر کی لڑائی بھی نہیں روک سکتا ۔ افغان جنگ کی وجہ سے پاکستان میں جمہوری اداروں اور معیشت کی بحالی کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ۔ بھارت نے افغانستان میں پنجے گاڑے تو دہشت گردی کا سیلاب پاکستان آیا ۔ سابقہ فاٹا ، کے پی کے اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کے باقی حصوں میں بھی دہشت گردی ، خود کش حملوں کا ایک طوفان امڈ آیا جس نے ہماری معیشت، امن سب کچھ تباہ کر کے رکھ دیا ۔ افغانستان سے آ نے والی بھارتی دہشت گردی پر کئی بار افغان قیادت کو ثبوت دے کر بات کی گئی مگر حامد کرزئی سے لے کر موجودہ افغان قیادت تک سب بھارتی رنگ میں رنگی ہوئی ہے ۔ افغان دھرتی پر شروع کی گئی امریکی جنگ کے ردعمل میں افغانستان کے بعد سب سے زیادہ پاکستان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا جس کی سکیورٹی فورسز کے دس ہزار کے قریب اہلکاروں اور کئی چوٹی کے سیاست دانوں سمیت پاکستان کے 80 ہزار کے لگ بھگ شہری شہید ہوئے اور پاکستان کو اربوں ڈالر کا مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا جبکہ بدامنی کے اس ماحول میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی رک گئی اور اس طرح قومی ترقی کا پہیہ جامد ہوکر رہ گیا ۔ افغانستان سے درآمدہ دہشت گردی اس وقت اپنی انتہا پر پہنچی جب آرمی پبلک سکول کے تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد بچوں و اساتذہ کو چند گھنٹوں میں شہید کر دیا گیا ۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دوسرے دن ہی افغانستان کا دورہ کر کے افغان قیادت کو اس دہشت گردی کا تانا بانا افغانستان میں دکھایا مگر ان پر خاطر خواہ اثر نہ ہوا ۔ حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈی جی آئی ایس آئی کے ہمراہ افغانستان کا دورہ کیا اور افغان قیادت سے دہشت گردی بارے سنجیدگی سے بات کی ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی افغان صدر اشرف غنی سے حالیہ ملاقات کو افغان مفاہمتی عمل ، طالبان کے کردار،بارڈر مینجمنٹ اور پاک بھارت تناوَ کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ پاکستان نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے ، سٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھانے اور معاملات کا سیاسی حل نکالنے کے حوالہ سے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔ پاکستان کا شروع سے یہ کہنا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان کے استحکام سے مشروط ہے ۔ اب جب افغان دھرتی سے امریکی افواج کی محفوظ واپسی کا ٹرمپ انتظامیہ کو چیلنج درپیش آیا تو اس کیلئے اسے پاکستان کی معاونت کی ضرورت محسوس ہوئی چنانچہ اسکی معاونت سے ہی امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے مابین قطر‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مذاکرات کے مختلف ادوار ممکن ہوئے اور بالآخر قطر مذاکرات میں امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدہ طے پاگیا ۔ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار ہر دو فریقین کی جانب سے معاہدے کی ہر شق پر اسکی روح کے مطابق عملدرآمد پر ہے جس میں کابل انتظامیہ اب تک نہ صرف پس و پیش سے کام لیتی رہی بلکہ بھارتی انگیخت پر امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں بھی کرتی رہی ۔ معاہدے کے تحت افغان طالبان نے تو قیدی بنائے گئے افغان فوجیوں کو رہا کردیا مگر قیدی طالبان کی رہائی کے معاملہ پر کابل انتظامیہ نے مختلف اعتراضات اٹھانا شروع کردیئے جس کا مقصد امن مذاکرات کی بیل منڈھے نہ چڑھنے دینا تھا ۔ انتشار زدہ افغانستان کی آڑ میں بھارت نے معاشی مفادات اٹھائے اور پاکستان میں دہشت گردی کرا کے کمزور کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھی ہیں ۔ یہ افغانستان کا انتشار ہی ہے جس کے پردے میں بھارت یہ الزام لگاتا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کرا رہا ہے کیونکہ اس کے افغان طالبان سے رابطے ہیں ۔ افغانستان میں امریکی چھتری تلے جتنی بھی حکومتیں بنی ہیں ان کا جھکاوَ ہمیشہ پاکستان کی بجائے بھارت کی طرف رہا ہے ۔ اب بھی افغان صدر اشرف غنی پاکستان پر الزام لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور بھارت کے کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں ۔ اکثر اوقات تودہ بھارت کی زبان بولتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں جیسے بھارت افغانستان کا بہت مخلص دوست ہے ۔ مگر اب افغان مسئلہ حل ہونے جا رہا ہے تو بھارت مچھلی کی طرح اس لئے تڑپ رہا ہے کہ اس کی وہاں سے بساط لپیٹی جانے والی ہے ۔ امریکی ایلچی زلمے خلیل گزشتہ چند ماہ سے افغانستان اور پاکستان میں امن معاہدے کی کامیابی کی راہ نکالنے میں مصروف ہیں جنہوں نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے خصوصی ملاقات کی جبکہ اب جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دورہ کابل میں افغان صدر اور اعلیٰ مفاہمتی کونسل کے چیئرمین سے الگ الگ ملاقاتوں میں امریکہ طالبان معاہدے پر عملدرآمد کی راہ ہموار کی ہے ۔ اس سلسلہ میں کابل انتظامیہ کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی خوش آئند ہے تاہم اس کیلئے کابل انتظامیہ کو طالبان قیدیوں کی رہائی عمل میں لانا ہوگی جس کے بغیر عملی پیش رفت نہیں ہو سکتی ۔ جہاں تک افغان مفاہمتی عمل کا سوال ہے تو اس میں پاکستان کے مثبت کردار کو امریکا، اس کے اتحادی اور دنیا سراہتی نظر آ رہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے خود اپنے مفاد میں اس عمل کو آگے چلایا ۔ افغان انتظامیہ نے بھارتی آشیرباد پر معاہدے پر اثرانداز ہونے کیلئے ممکنہ کوششیں کیں لیکن انہیں اس محاذ پر مایوسی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا ۔ افغان قیادت کا کہنا تھا کہ ہم افغان طالبان کے ساتھ تنازعات کے حل کیلئے تیار ہیں جبکہ پاک فوج کے سربراہ نے بین الافغان مذاکرات کیلئے بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ افغانستان میں امن کے قیام اوربین الافغان مذاکرات کیلئے پاکستان انتہائی مثبت کردارادا کررہا ہے ۔