- الإعلانات -

کوروناکے مریضوں میں اضافہ۔۔۔وزیراعظم کوتشویش

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایس او پیز پر عمل نہ ہونے سے اموات بڑھ رہی ہیں ، عوام نے لاپرواہی دکھائی اب سختی کرونگا، معاملات کی خود نگرانی کرونگا، جہاں عمل نہیں ہوگا وہ علاقہ بند کر دینگے،جن کارخانوں ، مارکیٹوں ، مالز، ٹرانسپورٹ، محلوں اور گلی میں کورونا نکلے گا وہ علاقے سیل ہونگے،آج پوری دنیا کو احساس ہوگیا ہے کہ مکمل لاک ڈاءون مسئلے کا حل نہیں ہے، اللہ کا شکر ہے حکومت دباءو میں نہیں آئی، اپوزیشن چاہتی ہے، لاک ڈاءون سے معیشت بیٹھے اور اموات بڑھیں ،اسمارٹ لاک ڈاءون پر فخر ہے، ہمارے حالات بھارت جیسے نہیں ، اپنا کامیاب احساس پروگرام بھارت کیساتھ شیئر کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے جمعرات کو کورونا وائرس کی صورتحال اور وبا سے نمٹنے کیلئے اقدامات پر اظہار خیال اور سماجی رابطے کی ویب ساءٹ اپنے بیان کیا ۔ دوسری جانب سندھ حکومت کورونا کیسز اور اموات کی شرح میں مسلسل اضافے اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کی روشنی میں دو ہفتوں کے لاک ڈاءون اور دیگر پابندیوں پرغور کررہی ہے ۔ کورونا وائرس کی حالیہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی سفارشات پر عمل کیا جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست کہاہے کیونکہ کوروناء وائرس کی وباء پھیلنے سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہوتاجارہاہے جوکہ ایک تشویشناک عمل ہے ملک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران مزید چھ ہزار تین سوستانوے افراد میں کوروناوائرس کی تشخیص کے بعد اس وبا ء سے متاثرہ افرادکی مجموعی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار نوسو تینتیس ہوگئی ہے ۔ پنجاب میں کوروناوائرس کے47ہزار382،سندھ میں 46ہزار826، خیبرپختونخوا میں 15ہزار787، بلوچستان میں 7ہزار673، اسلام ;200;باد میں 6ہزار699، گلگت بلتستان میں 1038اور ;200;زاد کشمیر میں 534مریض ہیں ۔ گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران مزید107اموات کے بعدا س وباء سے جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد2ہزار463ہو گئی ۔ اس دوران کوروناوائرس کے 28ہزار344 ٹیسٹ کئے گئے ہیں ۔ اب تک اس وباء سے40ہزار247مریض صحت یاب ہو چکے ہیں ۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کوروناوائرس سے بچاءو کے ایس او پیز پر عمل نہ کرنیوالے کسی معافی کے مستحق نہیں ہیں جن علاقوں میں کورونا کے مر یضوں کی تعداد خطر ناک حدتک بڑ ھ رہی ہے وہاں لاک ڈاءون سمیت سخت اقدامات کئے جائیں اورکورونا سے بچاءو کیلئے ایک بھی لمحہ کی کوتاہی برداشت نہ کی جائے ۔ کورونا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے سب کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی ۔ خدا کیلئے عوام کورونا کو لینے اور دوسروں کو دینے کیلئے خود گھروں سے باہر نہ جائیں ۔ عید سے قبل لاک ڈاءون میں نرمی کی گئی تو لوگ اس طرح بازاروں میں نکلے جیسے کرونا ختم ہو گیا ہے ۔ حکومت نے بتدریج کاروبار کھولنے کاعمل شروع کیا ۔ ان حالات میں ہر قدم پر خطرات موجود ہیں ۔ ان سے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرکے ہی محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔ اب ہر پاکستانی پر فرض ہے کہ وہ حکومتی احکامات پر عملدر;200;مد یقینی بنائے اور کورونا کے خلاف جدوجہد میں بے خوف و خطر حکومت کا ممدومعاون بنے ۔ اس سلسلے میں حفاظتی تدابیر سمیت لیبارٹری ٹیسٹ اور قرنطینہ تک تمام ایس او پیز کی پابندی کرے ۔ بدقسمتی سے کورونا وباء میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہورہا ہے اور ہلاکتیں بھی بڑ ھ رہی ہیں اس لیے وقت آچکا کہ ایس او پیز پر ایک بھی لمحہ کی کوتاہی کے بغیر مکمل عملدرآمد کیا جائے ۔ حکومت بھی واضح کر رہی ہے کہ جو لوگ کورونا سے بچاءو کیلئے اقدامات مکمل نہیں کر ینگے انکے خلاف سخت ایکشن لیا جائیگا کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائیگی ۔ سندھ حکومت نے کوروناوائرس کے پھیلاءوکے بڑھتے ہوئے خدشے کے پیش نظرصوبہ بھر میں دوبارہ مکمل لاک ڈاءون پرغورشروع کیاہے ۔ مرکزی حکومت کو سندھ کے معاملات پر زیادہ توجہ دینی اور معاونت کرنی چاہئے ۔ لوگوں نے لاک ڈاءون میں نرمی کاناجائزفائدہ اٹھایا اورایس اوپیزکی دھجیاں بکھیریں جس سے یہ وائرس قابوسے باہرہوتادکھائی دیا مگر وزیراعظم باربار عوام سے ایس او پیزپرعمل کرنے کی اپیل کر رہے مگر کچھ لوگ اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ۔ خداراکورونا وائرس ایک حقیقت ہے جو اپنی پوری شدت کے ساتھ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے ۔ بحیثیت قوم ہ میں تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس موذی وائرس کے خاتمے میں کرداراداکرناہوگا ۔

معیشت کی بحالی حکومت کے لئے بڑاچیلنج

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے مالی سال2019-20 میں ملک کی معاشی کارکرگی کے بارے اقتصادی سروے کا اجرا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے ملک کی معیشت کو تین ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، ڈی پی گروتھ منفی 0;46;4 فی صد رہی، صنعت، ہول سیل اور ریٹیل، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ کی گروتھ بھی منفی ہو گئی ۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بجٹ میں نئے ٹیکس نہ لگائے جائیں اور موجودہ ٹیکسوں پر نظر ثانی کر کے ان میں کمی کی جائے ۔ آئی ایم ایف اس لئے نہیں بنایا گیا کہ وہ پاکستان کے لوگوں پر خصوصی ظلم کرئے ۔ وہ ایک بینک کی طرح ہے جو چاہتا ہے کہ معیشت کو ایسے چلائیں کہ قرض کو واپس کریں ۔ کرونا سے قبل ملک کی معیشت کے انڈی کیٹرز بہت بہتر تھے ۔ موجودہ حکومت کو بحران ورثے میں ملا، 20ارب ڈالر کے کرنٹ اکاونٹ خسارے کو کم کرکے ہم 3 ارب ڈالر تک لے آئے ۔ باہر کے قرضوں کو خوش اسلوبی سے واپس کیا گیا ۔ ملک کے ترسیلات میں کمی کا خدشہ ہے ۔ یہ حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے کہ پہلے سال اور خصوصی طور پر اس سال کرنٹ اکاءونٹ خسارے میں 73فیصد کمی کی گئی ۔ یہ ایک بہت اہم چیز ہے کہ ایک ملک ماضی میں لیے گئے قرضے چاہے وہ کتنے ہی بڑی تعداد میں کیوں نا ہوں ، وہ واپس کرے ۔ موجودہ حکومت نے ماضی کے قرضوں کے بوجھ کوواپس کرنے کےلئے قرضے لئے اور ماضی کے قرضوں کی مد میں 5 ہزار ارب روپے واپس کئے ۔ تیسری بہت اہم چیز جو اس سال ہوئی ہے وہ یہ کہ اس سال بہت سخت انداز میں حکومتی اخراجات کو کنٹرول کیاگیا ۔ یقینا جہاں کوروناوباء کی وجہ سے عالمی معیشت کودھچکالگاہے وہا ں پاکستان کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے جو پہلے ہی بڑی مشکل سے ا پنے پاءوں پرکھڑی ہوئی تھی اب اسے دوبارہ بحال کرنے کے لئے حکومت کو وقت درکارہے ۔ حکومت کے آگے بہت سے مسائل ہیں جن کوحل کرنایقیناً ایک بہت بڑاچیلنج ہے ۔

بھارت ہندوتوا پالیسیوں سے خطے کا امن تباہ کرنا چاہتا ہے

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کہاہے کہ بھارت اپنے مسائل سے توجہ ہٹانے کےلئے مسلسل سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، بھارت نے جو کشمیریوں سے رویہ روا رکھا ہوا ہے، اس صورتحال میں بھارت سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور دنیا بھر میں کشمیر پر بات کرنے سے ہ میں کوئی نہیں روک سکتا، بھارت میں کورونا وائرس کی صورتحال بہت پیچیدہ ہو گئی ہے، وہاں مسلم اقلیت کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ دنیا بھر میں بھارتی پالیسی پر تنقید کی جا رہی ہے، ہم تو اپنا دفاع اللہ کے کرم سے کرلیں گے لیکن بھارت لداخ پر جواب دے ۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، پاکستان کشمیر کے مسئلے کا حل چاہتاہے اور بھارت کی بربریت کے خلاف آواز اٹھاتارہے گا، اگر بھارت نے کوئی حماقت کی تو منہ توڑ ،بھرپور اور فی الفور جواب دیاجائے گا ۔ خطے کے تمام ممالک بھارت سے نالاں ہیں ، بھارت بتائے نیپال اور بنگلا دیش آپ سے کیوں نالاں ہیں ;238; چین سے آپ کا مسئلہ کیا ہے;238;، امیت شاہ اور نریندر مودی بتائیں کہ لداخ میں کیا ہورہا ہے;238; بھارتی میڈیا اس حوالے سے کیوں خاموش ہے;238; ۔ بدقسمتی سے پاکستان کو شروع دن سے مکار شاطر اور کینہ پرور دشمن بھارت کا سامنا ہے ۔ بھارت کی لیڈرشپ نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور اکھنڈ بھارت کے منصوبے کی تکمیل کیلئے خطے کے دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت اور اس طرح علاقائی کشیدگی کی راہ ہموار کرنا اپنا شعار بنالیا ہے ۔