- الإعلانات -

گلگت میں بھارتی جاسوس گرفتار

بھارت پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی سے کبھی بھی باز نہیں آیا ۔ اس وقت بھارت کی اندرونی و بیرونی حالت انتہائی خطرناک ہے ۔ بیرونی محاذ پر چین اس کے علاقوں پر قابض ہے جبکہ اندرونی محاذوں پر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو اپنی شناخت کا مسئلہ درپیش ہے ۔ ان حالات میں بھی بھارت پاکستان کیخلاف اقدام سے باز نہیں آیا ۔ ایس ایس پی گلگت بلتستان مرزا حسن کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے علاقہ سے یکیورٹی فورسز نے 2 بھارتی جاسوسوں نور محمد وانی اور فیروز احمد لونکو گرفتار کرلیا ۔ گرفتار بھارتی جاسوسوں کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے ۔ دونوں بھارتی جاسوسوں کو بھارت نے زبردستی لائن آف کنٹرول کراس کرایا تھا ۔ جاسوسوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان میں جاسوسی کے لیے داخل ہوئے تھے اور انہیں بھارت نے ڈرا دھمکا کر پاکستان میں جاسوسی کے لیے بھیجا تھا ۔ رواں سال اپریل میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کے اے ایس آئی کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ گرفتار پولیس اہلکار دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا ۔ اسی طرح گزشتہ برس ٹیٹوال سیکٹر چلہانہ کراسنگ پوائنٹ سے مقامی پولیس نے ایک مشکوک شخص کو حراست میں لیا جس نے اپنا نام پولیس کو ونود ولد دل پریت بتایا ۔ اس کے ساتھ مزید چھ افراد تھے جوکہ اسلحہ کی نشان دہی کےلئے لائے تھے ۔ پولیس نے مذکورہ شخص کو فوج کے حوالے کیا جہاں سے خفیہ ایجنسیوں نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے ۔ مذکورہ شخص کی عمر سترہ سے اٹھارہ سال لگ رہی تھی بقول اس کے ، اس نے کشتی کے ذریعے دریائے نیلم کو عبور کیا تھا ۔ پاکستان میں پچھلے چار عشروں میں ایک درجن سے زیادہ بھارتی جاسوسوں کو سزا ہوئی جن میں بعض کو موت کی سزا سنائی گئی لیکن ان کی سزا پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوا ۔ البتہ ان میں کئی لوگ جیل میں ہی وفات پا گئے ۔ اس سے قبل بھی پاکستان میں 9انڈین جاسوس گرفتار ہوئے ۔ کسی نے یہاں اپنا جرم قبول کیا کسی نے بھارت جا کراعتراف کیا ۔ کشمیر سنگھ کو مشرف کے حکم پر رہائی ملی ۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یاد یو کو سزائے موت سنا ئی گئی ۔ کلبھوشن کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے پاکستان میں جاسوسی، انتشار پھیلانے پر سزا سنائی گئی ۔ عالم عدالت انصاف نے بھی کلبھوش یادو کو بھارتی جاسوس ثابت کیا ۔ بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو کو 3مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا ۔ جس کے بعد بھارت نے تسلیم کیا تھا کہ بلوچستان سے پکڑا جانے والا جاسوس کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی کا افسر تھا ۔ کلبھوشن یادیو نے کراچی اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا اعتراف کیا تھا جبکہ یہ بھی اعتراف کیا تھا وہ بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘کے مشن پرتھا ۔ رویندرا کوشک نامی بھارتی خفیہ ایجنٹ 1975 میں 23 سال کی عمر میں پاکستان آیا ۔ اسے اردو اور پنجابی زبان سکھا کر اور یہاں کے بود وباش کی بہت اعلیٰ تربیت دے کر بھیجا گیا تھا جس کی بنا پریہاں اس نے کئی سال ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے گزارے ۔ 1983 میں یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آیا اور اسے سزائے موت سنائی گئی تھی ۔ وہ طویل عرصے مختلف جیلوں میں قید رہا اور بالاخر 1999 میں ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوکر ملتان جیل میں اپنے انجام کو پہنچا ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے افسر سربجیت سنگھ عرف منجیت سنگھ کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور اور فیصل آباد میں 1990 میں ہونے والے بم دھماکوں میں 14 افراد کے جاں بحق ہونے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔ سربجیت سنگھ لاہور کی جیل میں قید تھا جہاں 26 اپریل 2013 کو جیل میں اس کے ساتھیوں نے اس پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور چھ دن اسپتال میں زیرِ علاج رہ کر دم توڑ گیا ۔ سرجیت سنگھ کو اسی کی دہائی میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور آرمی عدالت نے اسے 1989 میں سزائے موت سنائی تھی ۔ سربجیت سنگھ لگ بھگ تیس سال پاکستان کی جیل میں گزار کر 73 سال کی عمر میں واپس بھارت لوٹ گیا ۔ رام راج نامی بھارتی جاسوس ایک پیشہ ور فوٹو گرافر تھا اور پاکستان بھیجے جانے سے قبل وہ 18 سال تک خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوسوں کےلئے گائیڈ کا کام کرتا رہا ۔ پاکستان میں 18 ستمبر2004 کوداخل ہونے والے رام راج کو پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے اگلے ہی دن دھر لیا تھا ۔ پاکستان میں آٹھ سال اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد جب وہ بھارت واپس گیا تو اسے پاکستان بجھوانے والے بھارتی خفیہ ایجنسی کے افسران نے اسے پہچاننے سے بھی انکارکر دی تھا ۔ بلویر نامی بھارتی جاسوس سنہ 1971 میں پاکستان میں داخل ہوا اور 1974 میں گرفتار ہوا ۔ بلویر کو 12 سال قید کی سزا سنائی گئی ۔ بھارت دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہا ہے ۔ بھارت جاسوسوں کے علاوہ جاسوس ڈرونز ، گولہ بارود اور مائنز بھی ندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے پاکستان بھیجتا رہتا ہے ۔ گزشتہ ماہ بھی پاک فوج نے ایل او سی کے سانکھ سیکٹر میں داخل ہونے والے بھارتی ڈرون کو مار گرایا تھا ۔ اس سے قبل 2019ء میں پاک فوج نے پاکستان کی حدود میں گھسنے والے بھارت کے 3 ڈرون مار گرائے تھے ۔ ظفر وال کے نواح میں واقع نالہ ڈیک گاؤں لہڑی کلاں کے مقام سے بھارتی ساختہ دو اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں برآمد ہوئیں ۔ یہ ٹینک شکن مائن 30 اور 10 پاوَنڈ وزنی اور بھارتی ساختہ ہے ۔ ریت بھرنے والے مزدورں نے بم دیکھ کر متعلقہ پولیس کو فوری طور پر اطلاع دی ۔ سیلابی پانی میں بہہ کر آنے والی بارودی سرنگوں کو بی ڈی ایس نے اپنی تحویل میں لے کر ناکارہ بنا دیا ہے ۔ آئے روز بھارت پانی میں بارودی سرنگیں بہا دیتا ہے اگر ان پر وزن آ جائے تو بڑا سانحہ بھی رونما ہو سکتا ہے ۔