- الإعلانات -

مشکل صورتحال میں وفاقی حکومت کاکامیاب اورٹیکس فری بجٹ

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے یقینا مشکل صورتحال میں کامیاب بجٹ پیش کیا ہے ۔ اس وقت جب پوری دنیا کوروناوائرس کی لپیٹ میں ہے جس سے معیشت بری طرح متاثرہوئی ہے اب اس کو سنبھالادینے کےلئے انتھک کوششوں کی ضرورت ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت کی شروع دن سے پالیسی رہی ہے کہ وہ عا م آدمی کو ریلیف فراہم کرے ۔ خود وزیر ِ اعظم عمران خان نے تسلیم بھی کیاہے کہ غربت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے ہرچیزمہنگی،نایاب ہونے سے عام آدمی کا جینا دوبھر ہو گیا ہے ۔ بلاشبہموجودہ صورتحال میں بجٹ پیش کرنا تحریک انصاف کی حکومت کےلئے بڑاچیلنج تھا مگر اس کے باوجود وفاقی وزیر حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2020-21 کا3437 ارب روپے خسارے کیساتھ 71کھرب 37ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ،بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا اور آئندہ برس کیلئے اس مد میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ۔ بجٹ میں درآمدی سگریٹ، سگار، انرجی ڈرنکس اور ڈبل کیبن گاڑیاں مہنگی کر دی گئیں ، سیمنٹ، سریا، پاکستان میں تیار ہونیوالے موبائل فون، آٹو رکشہ ، موٹرسائیکل سمیت 200سی سی تک کی گاڑیاں ، کپڑے، جوتے، ایل ای ڈی لاءٹ، سینٹری ویئرز سستے کردیئے گئے، شادی ہالوں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر دیاگیا،غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر آمدن میں ٹیکسوں میں ریلیف کیلئے کیپٹل گین کی مدت کو 8 سال سے کم کر کے چار سال کر دیا گیا ، ہرسال کیپٹل گین ٹیکس کی مقدار میں 25 فیصد کمی کی جائیگی اور کیپٹل گین ٹیکس کی شرح میں 50 فیصد کمی کر دی گئی،سروس سیکٹر، ٹول مینوفیکچرنگ کیلئے ٹیکس میں کمی، انشورنس پریمیم، ڈیلرز اور آڑھتیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم، ہوٹل انڈسٹری کیلئے ٹیکس میں دوتہائی کمی کردی گئی،کھیل، چمڑا، ٹیکسٹائل، ربڑ، کھاد ، بلیچنگ اور گھریلو اشیا میں استعمال ہونیوالے 20 ہزار درآمدی آءٹمز پر کسٹم اور ایکسائز ڈیوٹیاں ختم کردی گئیں ،اسمگلنگ روکنے اور مقامی صنعت کو فروغ دینے کیلئے ہاٹ رول کوائل، کمبل اور پیڈلاکس وغیرہ پر ڈیوٹیوں میں کمی کردی گئی ۔ آئندہ مالی سال کیلئے اقتصادی شرح نمو کا ہدف 2;46;1 فیصد رکھا گیا ہے، کرنٹ اکاءونٹ خسارے کا ہدف 4;46;4فیصد ، مہنگائی کی شرح کا متوقع ہدف 6;46;5فیصد مقرر کیا گیا ہے ۔ آئند ہ مالی سال قومی ترقیاتی بجٹ 1324 ارب روپے جس میں سے وفاقی ترقیاتی پروگرام کیلئے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، سود کی ادائیگی کیلئے 2946 ارب روپے مختص کیے گئے، آئندہ مالی سال کیلئے ایف بی آر کا ٹیکس ریونیو کا ہدف 4963ار ب روپے مختص کیا گیا ہے ، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 1610 ارب روپے مقرر کیا گیا ۔ این ایف سی کے تحت صوبوں کو 2874ارب روپے منتقل کیے جائینگے ، عام خریدار کیلئے شناختی کارڈ خریداری کی حد 50ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی گئی، آئندہ مالی سال بجٹ خسارےکا تخمینہ 7 فیصد اور پرائمری بیلنس کا تخمینہ منفی 0;46;5فیصد لگایا گیا ہے ۔ سماجی شعبے کے تحت احساس پروگرام کیلئے 208ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، سبسڈیز کیلئے209 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں توانائی ، خوراک اور دیگر شعبوں کو سبسڈیز دینے کیلئے 179ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ بجٹ میں کوروناوائرس کی وباء کے باعث اخراجات اورمالیاتی خسارے میں توازن برقرار رکھنے پر توجہ دی گئی ہے ۔ بجٹ میں احساس پروگرام کے تحت پائیدارسطح اورسماجی اخراجات کے تحفظ میں ابتدائی توازن برقراررکھاگیاہے جس کامقصد معاشرے کے نادارطبقوں کی مدد کرناہے ۔ ٹیکس کے ڈھانچے میں غیرضروری تبدیلیوں کے بغیروسائل کوبروئے کار لانا، عالمی مالیاتی پروگرام کوکامیابی سے جاری رکھنا، محرک پیکج کوآگے بڑھانا، معاشی ترقی کے لئے مناسب سطح پرترقیاتی بجٹ جاری رکھنا اور ملک کے دفاع اورداخلی سلامتی کی باضابطہ اہمیت کو مدنظررکھنابجٹ کے نمایاں خدوخال ہیں ۔ وفاقی وزیراطلاعات ونشریات سینیٹرشبلی فراز نے کہاکہ نئے بجٹ میں عوام کوریلیف فراہم کیاگیا ہے اوراس میں کوئی نیاٹیکس نہیں لگایاگیا ۔ عالمی معاشی منظرنامے اور کوروناوائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے ریلیف پر مبنی اورحقیقت پسندانہ بجٹ دیا ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے پیش کردہ دوسرے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ۔ شہبازشریف نے کہا کہ یہ غریب کش بجٹ ہے، اس کے نتیجے میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ کاروباری بدحالی نے تاریخی ریکارڈ قائم کردیے ہیں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوءٹ میں کہا کہ کنسٹرکشن سیکٹر کو تو پیکج دیا گیا مگر مزدور کےلئے کچھ نہیں ، غریب اور مزدور دشمن بجٹ کو پاکستان کے عوام مسترد کرتے ہیں ۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، ایوان اپوزیشن کے مختلف نعروں سے گونجتا رہا، بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے واک آءوٹ کردیا ۔ تاجر رہنماءوں نے بجٹ پر اپنے رد عمل میں کہا کہ کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کا فیصلہ خوش آئند ہے ۔ بجٹ میں کہیں آسانیاں تو کہیں مشکلات پیدا کی گئی ہیں ۔ ایک دور ہوتا تھا جب بجٹ پیش کیا جاتا تو سال بھر قیمتوں میں استحکام رہتا اب تو روزہی نیا بجٹ ہوتاہے، جب بھی مارکیٹ کارخ کیاجائے توچیزوں کانیا ریٹ ہی سامنے آتا ہے ۔ نئے مالی سال کا آغازہو یا معمول کے حالات، گرانی ہے کہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ حسب ِ معمول اس مرتبہ پھر یہی کہا جارہاہے کہ سب اچھا ہے عوام پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا پاکستان کی ہر حکومت ہر سال غریب عوام کو خوش کرنے کےلئے ایسے ہی دعوے، ایسے ہی وعدے کرتی ہے ہمیشہ بجٹ کے بعد قیامت خیز مہنگائی ہو جاتی ہے پھر عام آدمی اس بوجھ تلے دب کر رہ جاتاہے ۔ کورونا وائرس کے باعث ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور افراط ِ زر مسلسل بڑھ رہاہے ۔ اب جبکہ کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے مشکل حالات میں حکومت نے بجٹ میں غریب عوام اور تعمیرات کی صنعت کوریلیف فراہم کیاہے ۔ موجودہ صورتحال کومدنظررکھتے ہوئے حکومت کی طرف سے پیش کیاگیا بجٹ متوازن کہلایاجاسکتا ہے جسے مشکل کی اس گھڑی میں بہترین بجٹ قرار دیاجاسکتاہے اور حکومت ایک متوازن اورعوام دوست بجٹ پیش کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔ ٹیکسوں میں کمی ہمیشہ ایک مشکل کام رہاہے اور حکومت نے ایسا کیاہے اس لئے مجموعی طورپر یہ ایک متوازن بجٹ ہے ۔ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانا خوش آئند ہے کپڑے،جوتے،سیمنٹ، پاکستان میں بننے والے موبائل فون اور موٹرسائیکل سستے ہونے سے بھی عوام کی مشکلات میں کمی آنے کی توقع ہے ۔ حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کو ریلیف کی صورتحال میں نہیں گردانناچاہیے بلکہ اس بجٹ کے ذریعے معیشت کو سہارا دیاگیا ہے کیونکہ کوروناوائرس کی وجہ سے تمام کاروبار بند پڑے ہیں ،بے روزگاری پھیلی ہوئی ہے اس صورتحال کاسامناصرف ہمارے ملک کوہی نہیں پوری دنیا کو درپیش ہے لہٰذا ایسے میں اس نوعیت کابجٹ بھی پیش کرنا ایک کامیابی سے کم نہیں ۔ گوکہ اپوزیشن کا احساس اورمختلف طبقہ ہائے فکرکے مطالبات اپنی جگہ ان سب کی مجبوریاں تو درست ہیں ، مہنگائی بھی عروج پرہے،ذراءع روزگارمفقودہے ، تعلیمی ادارے بند ہیں ،صنعتو ں کاپہیہ رکا ہوا ہے درآمدات ،برآمدات متاثر ہیں ،وباء نے دنیابھرکی معیشت کو جکڑ کے رکھا ہوا ہے ایسے میں کسی ملک کا اپنے پاءوں پرکھڑے ہوجانا بہت بڑی کامیابی کی بات ہے ۔ کیونکہ حالات کامقابلہ تنہانہیں کیاجاسکتا اس کےلئے پوری دنیا کو ایک متحدہ پلیٹ فارم سے کاوشیں کرناہوں گی ۔ ایک دوسرے کےلئے ممدومعاون ثابت ہوناہوگا ۔ اس بجٹ میں بھی حکومت ان ہی زاویوں پر عمل کرتی ہوئی نظرآتی ہے ۔ ایسے میں عوام اوراپوزیشن کوچاہیے کہ وہ حکومت سے تعاون کرے جہاں تک سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اورپنشن نہ بڑھانے کاسوال پیدا ہوتا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ اگر ملازمین کوریلیف نہ دیاتوہرصورت مہنگائی کو کنٹرول کرے اوراس کے ثمرات نچلی سطح پرپہنچنا انتہائی ضروری ہیں ایسا نہ جیسے کہ پٹرولیم مصنوعات سستی کیں اورعوام ان کے حصول کےلئے آج بھی ذلیل وخوار ہورہے ہیں ۔