- الإعلانات -

ٹیڑھی دُ میں

سیانے کہتے ہیں کہ ٹیڑھی دم سو سال بھی اگر ;200;پ کسی پاءپ وغیرہ میں سیدھا ہونے کے لئے رکھ دیں ،جب بھی نکالیں گے ٹیڑھی ہی ہو گی ۔ یہ کہاوت یا ضرب المثل عمومی طور پر ضدی، ہٹ دھرم یا کسی کوڑھ مغز کےلئے استعمال ہوتی ہے ، جسے جتنے مرضی ہے فلسفے سناوَ ، جتن کرو ،یا اس کی ہاں میں ہاں ملاوَ سیدھی بات اسکے پلے نہیں پڑتی ۔ اس کی مثال آپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی لے سکتے ہیں ۔ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے بھی کوئی ایسی ہی کوشش کی ہے ، شاید انہیں کامیابی کی امید ہو ، لیکن ماضی گواہ ہے کہ انہیں کامیابی نہیں ملے گی جس طرح وہ چاہ رہے ہیں ۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے پشتون تحفظ موومنٹ المعروف پی ٹی ایم جس کا دائرہ کار چند قبائلی علاقوں تک محدود ہے ۔ کو ایک بار پھر حکومت کے ساتھ تمام اختلافی مسائل پر بات چیت کےلئے مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی ہے ۔ بلاشبہ اپنے تیءں یہ ایک اچھی کوشش ہے سنجیدہ حلقے اسے سنجیدگی سے لے رہے ہیں ،لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں بھی قومی اسمبلی کے فلور پر پی ٹی ایم کے حمایت یافتہ آزاد اراکین اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی وفاقی وزراء کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد حکومت نے کچھ شرائط پر پی ٹی ایم کو مذاکرات کی دعوت دی تھی ۔ اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اس شرط کےساتھ پی ٹی ایم کو مذاکرات کی دعوت دی تھی کہ اگر وہ صرف پاکستان کے ایجنڈے کی پیروی کرنے کی یقین دہانی کرائیں گے اور اپنی تقاریر میں مسلح افواج جنہوں نے ملک میں امن و سلامتی کو یقینی بنایا اس کو نشانہ نہیں بنائیں گے تو تب انہیں سنا جائیگا ۔ تازہ پیشکش میں وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ہم پختون ایک ہی صوبے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے ہ میں خیبر پختونخوا کی ترقی کےلئے مل کر کام کرنا چاہئے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سابق فاٹا کو صوبے میں اس لیے ضم کیا گیا تا کہ قبائلی عوام کو مرکزی دھارے میں لایا جاسکے ۔ قبائلی اضلاع کے عوام تعلیم، صحت کی سہولیات بنیادی مواصلات کے ڈھانچے کے اعتبار سے پیچھے ہیں اس لئے یہ وقت محاذ آرائی کے بجائے مل کر کام کرنے کا ہے ۔ عالمی وبا کی وجہ سے ملک سخت مشکل حالات سے گزر رہا ہے، ملک میں بالخصوص خیبر پختونخوا میں سیاسی عدم استحکام سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا ۔ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ ایک تو وبا کی وجہ سے کئی مسائل جنم لے رہے اور اوپر سے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے کوئی عوام کو گمراہ کرتا ہے تو یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہو گا ۔ پرویز خٹک چونکہ وفاقی وزیر ہیں یقینا اس پیش کش کے پیچھے پوری حکومت کی سوچ ہو گی جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ حکومت اختلافی امور مل بیٹھ کر حل کرنا اس کی اولین ترجیح ہے نا کہ سوشل میڈیا پر محض اودھم مچانے پر یقین رکھتی ہے، جیسا کہ پی ٹی ایم کی قیادت کا چلن ہے کہ وہ کسی کی خوشنودی کےلئے نان ایشوز پر صرف شور شرابے کو ترجیح دیتی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر پی ٹی ایم کسی بھی حوالے سے قبائلی عوام کی ہمدرد ہوتی تو وہ یقینا قبائلی عوام کے جینوئن مسائل کےلئے ;200;واز اٹھاتی ناکہ صوبائیت اور لسانیت کو ہوا دیتی ۔ گزشتہ سال جب اس ٹولے کی طرف سے سطحی طرز عمل کی انتہا ہوئی تو حکومت نے بات چیت کی دعوت دی تھی،لیکن اس وقت مثبت جواب دینے کی بجائے ایک اور ویڈیو سامنے ;200;ئی جس میں انہوں نے نفرت اورتعصب کو ہوا دی ۔ یہی اس ٹولے یا جماعت کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ وہ مسائل کے حل پر یقین نہیں رکھتی ۔ ان کا ایجنڈا وہی ہے جو ان کے بیرونی ;200;قا چاہتے ییں ۔ ان مٹھی بھرعناصر کی بقاء بلوچ اور پشتون علاقوں میں عدم استحکام کو ہوا دینے سے جڑی ہے ۔ بعض ناقدین درست کہتے ہیں کہ ان کی روزی روٹی اسی میں ہے کہ وہ رائی کا پہاڑ بنائیں اور سادہ لوح عوام کو گمراہ کریں ۔ ان کے ناقدین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ یہ ٹولہ تب کہاں تھا جب چوراہوں پر لاشیں لٹکائی جاتی تھیں اور دہشت گردوں کی مرضی کے بغیر سانس لینی کی کسی کو اجازت نہیں تھی ۔ قبائلی عوام تب بھی تو پشتون تھے، ان کے حقوق کے تحفظ کےلئے افواج پاکستان نے ہی جانوں کے نذرانے دیئے اور امن قائم کیا ۔ اب جب امن قائم ہو گیا ہے اور قبائلی عوام کو تعلیم، صحت ،روز گار اوراپنی مرضی کی زندگی جینے کا حق مل رہا تو یہ ٹولہ پکی پکائی کا مالک بنناچاہتا ہے ۔ سب پشتون محب وطن ہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پی ٹی ایم کس کے ایما پر شور شرابا مچائے رکھتی ہے ۔ ان کے پشت پناہ کون ہیں اور ان کی ڈوریاں کہاں سے ہلائی جا رہی ہیں ۔ امریکہ اور یورپی ممالک میں بیٹھے پاکستان مخالف بھگوڑے انہیں شہ دے رہے ہیں ۔ رہ گئی اختلافی امور پر مذاکرات کی بات تو یہ اصولی طور پر ایک خوش ;200;ئند فیصلہ ہے ۔ ملک کی تمام چھوٹی بڑی جماعتوں سب کو ساتھ لے کر چلنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ اسی ذمہ داری کے تحت پی ٹی ایم کو دعوت دی گئی ہے ۔ اگر وہ دیانتدارانہ طریقے سے قبائلی عوام کے مسائل کے حل کےلئے مخلص ہے تو یہ ایک اچھا موقع ہے علاقے کے وسیع تر مفاد میں بیٹھ کر بات کرے ۔ اگر انہوں نے ماضی کی طرح صرف ہٹ دھرمی سے کام لیا اور سوشل میدیا پر منفی تاثر ابھارنے کی کوشش کی تو بات کسی صورت ;200;گے نہیں بڑھے گی ۔ اس کا نقصان سادہ لوح عوام کوپہنچے گا ۔ پی ٹی ایم کی قیادت قومی دھارے کی سیاست کرے ، دوسروں کے اشاروں پر ناچنے والوں کے ہاتھ نہ پہلے کبھی کچھ ;200;یا تھا اور نہ ;200;ئندہ کچھ ;200;ئے گا ۔ الطاف حسین اور دیگر کی مثالیں سب کے سامنے ہیں ۔