- الإعلانات -

سندھ حکومت کورونا کے علاج میں ناکام

کراچی کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کےلئے گنجائش ختم ہو گئی ہے ۔ اسی وجہ سے مریضوں کے علاج سے انکارکیا جا رہا ہے اور مریضوں و لواحقین کے ساتھ بہت غلط رویہ روا رکھا رہا ہے ۔ گویا سندھ حکومت ہسپتالوں میں علاج فراہم کر نے میں ناکام ہو گئی ہے ۔ سندھ حکومت اس سے بھی بے خبر ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں کورونا مریضوں کی گنجائش کتنی ہے اور کورونا کیسز کتنے ہیں ;238; سرکاری ہسپتالوں میں کتنے وینٹی لیٹرز ہیں اور بیرون ملک کے فنڈز سے مزید کتنے وینٹی لیٹرز خریدے;238;ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کےلئے کیا انتظامات کئے گئے ہیں ۔ سندھ کے ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے خلاف حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے پاس تیاری کے لیے شروع میں دو سے تین مہینے تھے لیکن انہوں نے اس سلسلے میں خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ۔ اس سلسلے میں پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) ، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن اور دعا فاوَنڈیشن کے اراکین کا کہنا تھا کہ مریضوں کی جانب سے شکایت کی جاتی ہے کہ مناسب دیکھ بھال نہیں کی جاتی لیکن سہولیات کی فراہمی حکومت کا کام ہے اور اس کو دیکھنا چاہیے ۔ ڈاکٹروں کے لیے ایک اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں طبی عملے کا کورونا مثبت ہونے کی شرح دنیا کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹرز کو صحیح سہولیات نہیں دی گئیں ۔ انہی ناکافی سہولیات کیو جہ سے اب ایک اور مسئلہ کھڑا ہوا ہے کہ کسی ہسپتال میں مریض کے علاج میں تاخیر ہوتی ہے یا جو مریض فوت ہوجاتا ہے تو وہاں لواحقین ڈاکٹروں پر تشدد کرتے ہیں اور ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے ۔ ڈاکٹر دوہرے حملوں سے بہت پریشان ہیں اس لیے ایک تجویز آئی تھی کہ ڈاکٹر ہڑتال کریں لیکن اس وقت ہڑتال نہیں کرسکتے ۔ اگر ڈاکٹر ہڑتال پر چلے گئے تو انہیں جو تھوڑی بہت سہولیات مل رہی ہیں وہ بھی نہ ملیں گی ۔ سندھ میں ٹیسٹ کی سہولیات ناکافی ہیں اس لیے مطالبہ ہے کہ ٹیسٹ کی سہولیات کو بڑھایا جائے کیونکہ ڈاکٹر کسی مریض کو ٹیسٹ کا کہتے ہیں تو وہ متعدد جگہوں پر رابطہ کرتے ہیں لیکن ان کا ٹیسٹ نہیں ہوتا ۔ کورونا کا ٹیسٹ نجی لیبارٹریز میں بہت مہنگا ہے لیکن جہاں مفت ہوتا ہے وہاں سفارش ہوتو ٹیسٹ ممکن ہوتا ہے ورنہ دھکے کھاتے ہیں ۔ اس وقت کراچی کی نصف آبادی نہیں سمجھتی کہ کورونا واقعی میں ایک بیماری ہے اس کی وجہ سوشل میڈیا میں چلنے والا گمراہ کن پروپیگنڈا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ٹیکا لگا کر مار دیں گے اور پیسے لینے کے لیے جھوٹ بولا جارہا ہے جو بالکل غلط ہے اور اس طرح کے پروپیگنڈے سے ڈاکٹروں کا مورال بھی گرجاتا ہے ۔ پورے ملک سے روزگار کی تلاش میں کراچی جانے والے افراد بہت پریشان ہیں ۔ حالات معمول پر تھے تو اتنا کما لیتے تھے کہ گزربسر کے بعد گھروالوں کو بھی کچھ رقم بھیج دیتے تھے لیکن کوروناوائرس کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاون کے سبب اب دہاڑی بھی نہیں لگ رہی ۔ فیکٹریاں بند ہونے کی وجہ سے ملازمین فارغ ہیں ۔ ٹرانسپورٹ اور ٹرینیں بند ہونے کی وجہ سے گھر جانے سے بھی قاصر ہیں ۔ ان فیکٹریوں کے مالکان جنہوں نے انہی مزدوروں کے توسط سے اربوں روپے کمائے اب مشکل وقت میں ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں ۔ اپنی فیکٹری کے مستقل مزدوروں کی بھی کوئی مدد نہیں کر رہے ۔ یہ بیچارے مزدور روزانہ اسی امید پر فیکٹری جاتے ہیں کہ شاید کام مل جائے یا پھر مالک ترس کھا کر کچھ امداد ہی دے دے مگر مایوس واپس آجاتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں درجنوں ملازمین متعلقہ فیکٹری سے اپنی تنخواہ وصول کرنے آئے تھے مگر فیکٹری انتظامیہ نے انہیں زبانی طور پر بتایا کہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاوَن کی وجہ سے فیکٹری کو بہت مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اور اب انتظامیہ کو ان مزدوروں کی خدمات کی ضرورت نہیں ۔ وفاقی حکومت نے حال ہی میں ایسی فیکٹریوں کےلئے مراعات کا اعلان بھی کیا ہے جو لاک ڈاوَن کے دوران ملازمین کو برطرف نہیں کریں گی تاہم مزدور یونین تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے ہزاروں افراد کو روزگار سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں ۔ حکومت نے لاک ڈاوَن کے باعث روزگار متاثر ہونے کی وجہ سے احساس پروگرام کے تحت لوگوں کو 12 ہزار روپے تک کی رقم فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے اور اس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کی مالی معاونت کی جائے گی ۔ احساس پروگرام اس لئے شروع کیا گیا کہ مکمل لاک ڈاءون کی صورت میں اپنے کاروبار اور روزگار چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے لوگوں کی مناسب کفالت ہوسکے اور بے روزگاری کے ممکنہ نتیجہ کے طور پر ناچتی نظر آتی بھوک کے آگے بند باندھا جاسکے ۔ اس حوالے سے فنڈز اکٹھے کرنے کیلئے مخیر حضرات اور فلاحی ادارے بھی حکومت کا ہاتھ بٹا رہے ہیں اور وزیراعظم کی اپیل پر اوورسیز پاکستانی بھی کرونا کی لپیٹ میں آنے کے باوجود بڑھ چڑھ کر وزیراعظم ریلیف فنڈ میں عطیات جمع کرا رہے ہیں ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ کورونا وائرس نے پاکستان کے مزدور سسٹم کو بے نقاب کردیا ہے اور حکومت کو اب علم ہو رہا ہے کہ کس طرح ملک کے 78 سے 80 فیصد مزدور رجسٹرڈ ہی نہیں ، انہیں کوئی سماجی و معاشی تحفظ ہی حاصل نہیں ۔ ملک کے 80 فیصد تک مزدور ملازمت کے لیٹر کے بغیر ہی کام کرتے ہیں ۔ انہیں کوئی بھی سماجی، معاشی اور صحت کا تحفظ حاصل نہیں ۔ پاکستانی آئین کے مطابق 90 روز تک کہیں بھی کام کرنے والے مزدور کو مستقل کیا جانا چاہیے مگر زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں اور کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا ۔ دوسری طرف عوام بھی اس خطرناک ماحول میں اپنا حفاظتی بندوبست موَثر کریں ۔ وائرس اپنی علامات تیزی سے بدلتا ہے اور بچے جلدی متاثر ہوسکتے ہیں اس لیے بچوں کو شاپنگ اور دیگر مقامات پر نہیں لے کر جائیں ۔ بچوں کو حفاظتی ٹیکے ضرور لگائیں ۔