- الإعلانات -

پیر صاحب اور مراثی

پیر صاحب کی اپنی شادی تھی ۔ جب لاک لینے نائی آیا تو پیر صاحب نے نائی سے کہا نورے تم پیسے لو گے یا دعائیں ۔ نورے نے کہا پیر جی دعا ئیں ۔ اب مراثی پیر صاحب سے لاگ لینے آگے بڑا ۔ پیر صاحب نے اس سے بھی یہی پوچھاتو مراثی نے جواب دیا پیر جی پچاس روپے کی مجھے دعا دے دیں اور پانچ سو مجھے نقد دے دیں ۔ پیر صاحب نے ہاتھ اٹھائے اور دعا پڑھنی شروع کر دی ۔ پھر پیر صاحب مراثی سے مخاطب ہو کر کہا میں نے غلطی سے پانچ سو کی دعا پڑھ دی ہے ۔ اب تم مجھے اس میں سے پچاس کاٹ کے چار سو پچاس روپے واپس کر دو ۔ آخری خبریں آنے تک مراثی بھی ایسے ہی بے ہوش تھا جیسے مہنگائی سے عوام بے ہوش ہیں ۔ موجودہ بجٹ کے اعدادو شمار بھی عوام کی سمجھ میں ایسے ہی آئیں ہیں جیسے مراثی کو پیر صاحب کا حساب سمجھ نہیں آیا ۔ اس وقت عوام کو مہنگائی بھارت ،کرونا اور ٹڈی دل لشکر کا سامنا ہے ۔ مہنگائی کا جن کنٹرل میں نہیں آ رہا جبکہ کرونا اور ٹڈی دل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ قدرتی آفات ہیں ۔ یہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے جبکہ بھارت کومکار دہشت گرد ملک ہے ۔ اس کے مقابلے میں پاکستان سیدھا سادہ ملک ہے ۔ اس وقت ساری دنیا کرونا وائرس سے پریشان ہے لیکن بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جو اپنے عوام اور پڑوسیوں کو پریشان کر رہا ہے ۔ بھارت پہلے کشمیریوں پر ظلم و تشدد کرتا رہا ،بعد میں ان پر قبضہ کر لیا اور اب کرونا کی آڑ میں بھارت میں بسنے والے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ یہ اپنے مسلمان بھارتیوں کو کہہ رہا ہے کہ یہ وہی تبلیغی مسلمان ہیں جو بھارت میں جان بوجھ کر کروناکی بیماری بھارت میں لے کر آئے ۔ اب ان کے اپنے منسٹر بوتل میں گائے کاموتر پی کر بتاتے ہیں کہ اس کے پینے سے کرونا ختم ہو جاتا ہے لہٰذا آپ بھی پیا کریں ۔ تمام دنیا میں ان کی اس سوچ سے ایکٹ سے بھارت کی جگ ہنسائی ہورہی ہے ۔ یہ قدرت کا ان پر عذاب ہے ۔ اس وقت مہنگائی کرونا ،ٹڈی دل اور بھارت ہمارے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں ۔ کرونا شروع ہوا چین سے پھر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ لگتا یہی ہے کہ یہ کرونا آیا کسی کی مرضی سے ہے اور جائے گا اب اپنی مرضی سے ۔ اس کرونا نے پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے ۔ اس بیماری سے جو لوگ شکار ہوچکے ہیں ان میں وہی زندہ رہے گے ۔ جو اس کا مقابلہ جوانمردی کریں گے ۔ کرونا بھی باقی بیماریوں کی طرح ایک بیماری ہے ۔ جس سے لوگ شفا یاب ہوتے ہیں اور مرتے ہیں ۔ بس اپنے اوپر موت کا بوت سوار نہ کریں ۔ ہر بیماری اتنی ہی خطرناک ہے جتنی کہ کرونا کی ۔ بیماریاں انسانی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں ۔ ہ میں یہ سمجھنا چائیے کہ یہ بیماریاں انسانوں کو انسان بنانے اور انسانوں کو گناہوں سے پاک کرنے کےلئے لگتی ہیں ۔ بیماریاں انسانوں کے گناہوں کو پاک کرنے کا رول ادا کرتی ہیں ۔ اس وقت ساری دنیا کے انسان گناہوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ انسان انسان کے خون کا پیاسا ہے کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارے برے کرتوتوں کی وجہ سے انسان منہ پر ماسک لگانے پر مجبور ہے لگتا ہے کہ وہ ذات اب ہمارے چہرے بھی دیکھنا نہیں چاءتی ۔ عبادت گاہوں سے قریب نہیں آنے دے رہی ۔ ٹڈی دل کیا ہے ۔ جس پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا ۔ یہ جہاں جاتی ہے کھیتوں کو باغات کو اجاڑ جاتی ہے ۔ یہ جہاں بھی جاتی ہے اس ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کر جاتی ہے ۔ اس وقت کرونا اور ٹڈی دل کے پاکستان پر حملہ آور ہونے سے صحت اور زراعت دونوں تباہ ہو رہے ہیں ۔ بھارت اگرآج سینہ تان کر کھڑا ہے تو ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے ہے بھات کا بھی ہمارے لئے وہی رول ہے جوکرونا اور ٹڈی دل کا ہے ۔ بلکہ بھارت کا رول ان دونوں سے زیادہ خطرناک ہے ۔ کرونا بھارت میں بھی ہے لیکن بھارت کرونا پر بھی سیاست کر رہا ہے اور اپنے ملک کے مسلمانوں پردہشت گردی کر رہا ہے ۔ بھارتی مسلمانوں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک بھارت کر رہا ہے وہ نا قال برداشت ہو چکا ہے ۔ دنیا دیکھ رہی ہے لیکن خاموش ہے ۔ خاموش تو ہم بھی ہیں ورنہ جو کچھ بھارت کر چکا ہے ہے ہم اس کی اینٹ سے اینٹ بجا چکے ہوتے ۔ پھر دیکھتے بھارت کشمیر پر میلی آنکھ سے کیسے دیکھتا ۔ بھارت کے حوصلے اس و قت بلند ہوئے جب بھارت نہتے کشمیریوں پر چڑ دوڑا اور کوئی اسے روک نہ سکا ۔ کشمیر پر بھارت کا اب تک تین سو پچاس دن سے زیادہ کا قبضہ ہو چکا ہے ۔ ایسا کرنے پر کوئی اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکا ۔ بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں پر بھارت غیر انسانی سلوک کرنے کا ریکارڈ بنا چکا ہے ۔ یہ سب اس لئے کہ ہمارے اسلامک ممالک بھارت انکی آنکھوں کا تارا ہے ۔ بھارت کا کشمیر پر قبضہ کرنے سے قبل کشمیری بچارے ہم پر اور مسلم ممالک پر امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ بھارت نے اگر ایسا کیا تو ہم ان کے لئے اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ۔ اگر اس وقت ہم بھارت کو روک لیتے تو بھارت اب جو کچھ کر رہا ہے یا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ کبھی بھی ایسانہ کرتا ۔ ہم نے بھارت کو ازلی دشمن تو سمجھے رکھا مگر اس سے مقابلہ کےلئے عملی طور پر کچھ تیاری نہ کی ۔ ہم ایک ایٹمی پاور تو ہیں مگر ہم اپنی ملکی معاشی حالت کو بہتر نہ کر سکے ۔ یہ مانا پڑے گا کہ ہم نے اس پر توجہ ہی نہیں دی ، جس کی وجہ سے بھارت اب شیر ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ، ہائے روز کشمیر کے باڈر پر گولہ باری کر رہا ہوتا ہے ۔ کبھی کہتا ہے کہ میں آپ کے کشمیر پر بھی قبضہ کر کے دکھاءو ں گا ۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ اب تک ہم نے نر می اختیا کئے رکھی ۔ جس سے بھارت کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ اب ضرورت اس بات کی نہیں کہ بھارت ہی کچھ کرے تو پھر ہی ہم اس کا منہ توڑ جواب دیں ۔ اب تو ہ میں کوئی جواز بنا کر بھارت کیخلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح ہم سب کو ملکر مہنگائی کرونا اور ٹڈی دل کا ایک ساتھ مقابلہ کرنے کی بھی اشد ضرور ت ہے ۔ سوچنے کا وقت گزر گیا اب عملی اقدامات کرنے کا وقت ہے ۔