- الإعلانات -

بھارت کی اشتعال انگیزیوں کیخلاف پاک فوج کاعزم

بھارت کاجنگی جنون کارویہ خطے کے امن واستحکام کےلئے سنگین خطرہ ہے ۔ بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے اس کی کسی بھی مہم جوئی کامنہ توڑ جواب دیاجائے گا ۔ پاکستان کی سلامتی کیخلاف اس نے سازشوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہوا ہے،نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے عملہ کو ہراساں کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی ۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کا تسلسل جاری ہے ۔ بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی تمام حدیں پار کر چکی ہے، آئے روز ایل او سی کی خلاف ورزی اس نے معمول بنالی ہے جس میں اب تک متعدد افراد شہید و زخمی ہو چکے ہیں او ر متعدد گھروں کو نقصان پہنچ چکا ہے ۔ گزشتہ روزلائن آف کنٹرول کے قریب آزاد جموں و کشمیر کے دو مختلف علاقوں میں بھارتی فوج کی شیلنگ سے ایک خاتون سمیت 4 افراد شہید ہوگئے ۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے ٹوئیٹرپر تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فوج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 4 معصوم شہریوں کو شہید اور ایک کو زخمی کیا ۔ پاک فوج نے بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا ۔ رواں برس بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 12 ہوگئی ہے جبکہ 102 دیگر شہری زخمی ہوچکے ہیں ۔ دوسری جانب کور کمانڈرز کانفرنس نے ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں مسلسل کمی، افغان مفاہمتی عمل میں بتدریج مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ اس خطے کا امن افغان امن عمل کی کامیابی سے ہی مشروط ہے جس کیلئے پاکستان نے بلاشبہ کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ بالخصوص سی پیک کے حوالے سے افغانستان میں امن کی بحالی زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ پاکستان نے اسی بنیاد پر افغانستان میں امن عمل کی ہر کوشش کی حمایت اور اس میں معاونت کی ہے ۔ فورم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارتی جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے ، کشمیر میں بےگناہ شہریوں کو بھارت کی طرف سے نشانہ بنانے اور دہشت گرد گروپوں کی کھلے عام حمایت کرنے کے بھارتی منصوبوں کو بے نقاب کرنے کا سلسلہ جاری رہےگا ۔ اگر بھارت علاقائی اور عالمی امن سے ہی کھیلنے پر تلا ہوا ہے تو پاکستان نے بہرصورت اپنے دفاع کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے ہیں ۔ قیام پاکستان سے لیکراب تک بھارت نے پاکستان کو ایک لمحہ بھی سکون سے نہیں رہنے دیا اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی بنیاد پر اسکے ساتھ چھیڑچھاڑ جاری رکھی اس پر تین جنگیں مسلط کیں مگر اپنے دفاع کے تقاضوں سے بھی ہرگز غافل نہیں جس کیلئے ہماری مشاق اور جری و بہادر افواج ہمہ وقت مستعد اور چوکنا ہیں ۔ مودی سرکار نے اپنے انتہا پسندانہ ایجنڈے کی بنیاد پر پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو کسی بھی حوالے سے چیلنج کیا تو اسے ہماری جانب سے 27 فروری سے بھی زیادہ ٹھوس جواب ملے گا ۔ اگر عالمی برادری بھارتی جارحانہ عزائم کو بھانپ کر بھی خاموش تماشائی بنی رہی تو مودی سرکار تیسری عالمی جنگ کی نوبت لا کر رہیگی جو خطے کےلئے تباہ کن ثابت ہوگی ۔ لہٰذا عالمی برادری مودی سرکارکولگام ڈالے اوراس کی جارحیت کافوری نوٹس لے ۔ کانفرنس کے شرکا ء نے اتفا ق کیا کہ کووِڈ 19کو یکجہتی سے ہی شکست دی جاسکتی ہے ہر شخص کو احتیاطی تدابیر پر عمل پیراہوکر کامیابی یقینی بنانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا ۔ پورا ملک جب کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے مسلح افواج اس موذی وائرس کا پھیلاءو روکنے اور متاثرین کی بحالی و امداد کے کاموں میں حکومت اور عوام کا بھرپور ہاتھ بٹا رہی ہیں ۔ اب ہرشخص کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومتی اقدامات اورایس اوپیزپرعملدرآمدکرے تاکہ جلد سے جلد اس وباء سے نمٹاجائے ۔

اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے وزیراعظم کی فکرانگیزگفتگو

عمران خان کو اس وقت مافیا کاسامناہے ۔ موجودہ بحران اُن کو ورثے میں ملے ہیں پھربھی اُن کی پوری کوشش ہے کہ وہ اس بحران سے جلد نکلیں اورعوام سے کئے گئے وعدوں کو پوراکریں ۔ کورونا کی وباء نے ملکی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ وزیراعظم نے سندھ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین بلدیاتی نظام لاناچاہتے ہیں کیونکہ اس سے عوام کے مسائل حل کرنے میں مدد ملتی ہے ،وزیراعظم نے 18 ویں ترمیم کو نظرثانی کے قابل اور قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو ناقابل عمل قرار دے دیا ۔ اختیارات صوبوں کو پہنچ گئے لیکن صوبوں نے اختیارات بلدیات کو نہیں دیے جبکہ وزیراعلیٰ کے پاس وہ اختیارات ہیں جو کسی آمر کے پاس بھی نہیں تھے ۔ چینی انکوائری کمیشن رپورٹ کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چینی مہنگی ہونے پرکمیشن کی رپورٹ آئی تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کردیا گیا،کبھی سنا ہے کہ کسی کمیشن کی رپورٹ پر عدالت نے اسٹے دے دیا ہو;238; سیاسی اشرافیہ شوگر انڈسٹری میں موجود ہے جو حکومت کی ساری پالیسیز ہائی جیک کر بیٹھے تھے، ملک میں خراب کوالٹی کی چینی دنیا سے مہنگی بیچی جاتی ہے اور سبسڈی لے کر ٹیکس چوری کی جاتی ہے ۔ لاک ڈاءون سے لے کر ایک ایک چیز پر تمام صوبوں کو ساتھ لے کرچلے، ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کس صوبے میں ہماری حکومت ہے اورکس میں نہیں ، اپوزیشن کے صوبوں سے پوچھ لیں ہم نے سامان کی تقسیم میں کسی سے کوئی نا انصافی نہیں کی ۔

اخترمینگل کی علیحدگی ،حکومت اتحادیوں کے تحفظات دور کرے

پاکستان تحریک انصاف کےلئے یہ مشکل وقت ہے یقیناً اسے اپنے اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے ہونگے کیونکہ اتحادیوں کے بغیرحکومت کاچلنامشکل ہے ۔ ایم کیوایم، جمہوری وطن پارٹی اوردیگراتحادی بھی حکومت سے علیحدہ ہوگئے تو حکومت کے پاس اتنی عددی ا کثریت نہیں ہے کہ وزیراعظم ایوان سے اعتمادکاووٹ حاصل کر سکیں ۔ عمران خان کیلئے اس وقت اتحادیوں کو راضی کرنا بہت ضروری ہے ۔ حکومت کی اہم اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) نے حکمران اتحاد چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسال پی ٹی آئی کے وعدوں کی تکمیل کا انتظار کیا مگر لاپتا افراد کا مسئلہ حل ہوا نہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل، اسلئے حکومتی اتحاد سے نکل رہے ہیں ۔ اختر مینگل نے کافی دنوں سے حکومت کی مختلف شخصیات کے حوالے سے رابطہ کیا تھا اور ان کو بتایا تھا کہ ان کا تحریک انصاف کے ساتھ تحریری معاہدہ تھا اور اس معاہدہ میں جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے نہیں ہو رہے ۔

آہ!طارق عزیز،،،،،ایک عہد تمام ہوا

معروف ٹی وی پروگرام نیلام گھر سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے والے طارق عزیز 84 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے سے لاہور میں انتقال کرگئے ۔ طارق عزیز کے گھر والوں کے مطابق انہیں گلے میں تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبرنہ ہوسکے ۔ مرحوم کو نماز جنازہ کے بعدمقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ۔ نماز جنازہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ طارق عزیزنے ریڈیو سے کیریئر شروع کیا 1974 میں نیلام گھر شو کا آغاز کیا،انہیں سرکاری ٹی وی کے پہلے اینکر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے، انہیں ان کے پروگرام نیلام گھر سے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی ،پروگرام کا آغاز عمومادیکھتی آنکھوں ، سنتے کانوں کوطارق عزیز کا سلام پہنچے کے الفاظ سے کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے فلموں میں بھی کام کیا جبکہ فنی خدمات پر انہیں 1992 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ وہ 1997 سے 1999 تک رکن قومی اسمبلی بھی رہے ۔ طارق عزیز 1936 میں بھارت کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے ، ان کے والد میاں عبد العزیز 1947 میں پاکستان ہجرت کر آئے تھے ۔ طارق عزیز نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے حاصل کی جس کے بعد انہوں نے 1964 میں لاہور سے سرکاری ریڈیو سے اپنے پیشہ وارانہ کیرئیر کا آغاز کیا ۔ طارق عزیز نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ چونکہ ان کی کوئی اولاد نہیں اس لیے وہ اپنے تمام اثاثے و املاک پاکستان کے نام کرتے ہیں ۔ طارق عزیز نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں پاکستانی فلموں میں سائیڈ رولز میں اداکاری بھی کی ۔ طارق عزیزیہ دنیا چھوڑ چکے ہیں مگر لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔