- الإعلانات -

یواین کےلئے بھارت کا چناوَ،سوال تو پھر اُٹھیں گے

جنوبی ایشیا میں تین ممالک چین ، پاکستان اور نیپال سے گھتم گتھا اور امن کےخلاف بر سرِ پیکار مودی کے بھارت کو اقوام متحدہ کا غیر مستقل رکن منتخب کر لیا گیا ہے ۔ یہ وہی بھارت ہے جو کشمیر ایشو پر اقوام متحدہ ہی کی قراردادوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ;200; رہا ہے ۔ یو این جنرل اسمبلی نے 17جون کو 2 سال کی مدت کےلئے سلامتی کونسل کے غیر مستقل اراکین کا انتخاب کیا ہے ۔ جس میں ناروے، میکسیکو اور آئرلینڈ بھی غیر مستقل رکن بن گئے ہیں ۔ دوسری جانب ترکی کے ولکان بزکیر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے ہیں ۔ بھارت کا رکن منتخب ہونا کوئی غیر معمولی کارروائی نہیں ہے کہ جس پر بھارت میں بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں ۔ سلامتی کونسل میں غیر مستقل ارکان کی نامزدگی عموماً ایک ترتیب کے ساتھ کی جاتی ہے ۔ اقوام متحدہ میں ایشیا پیسیفک گروپ جس میں پاکستان بھی شامل ہے،سات بار غیر مستقل رکن رہ چکا ہے ۔ پاکستان اب اگلی بار2024ء میں غیر مستقل رکن کی نشست کےلئے انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ ;200;خری مرتبہ پاکستان-13 2012ء میں منتخب ہوا تھا ۔ پہلی مرتبہ پاکستان کا انتخاب1952 ء میں کیا گیا تھا ۔ بھارت اور پاکستان اس نشست کےلئے عمومی طور ایک دوسرے کی توثیق کرتے ;200;ئے ہیں ،تاہم پہلی بار پاکستان نے بھارت کے چناوَ پر کھل کر اعتراض کیا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ بھارت کا 5 اگست کا اقدام اور بالا کوٹ واقعہ کے علاوہ بھارت میں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس پر بھی پاکستان سخت تحفظات رکھتا ہے ۔ بعض عناصر اسے بھارت کی سفارتی کامیابی کہتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس سے پاکستان کےلئے کشمیر کی وکالت مشکل ہو جائے گی لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے درست تبصرہ کیا کہ انڈیا کے سلامتی کونسل کا رکن بننے سے کوئی ;200;سمان نہیں ٹوٹ پڑے گا ۔ انڈیا اس سے پہلے بھی سات بار سلامتی کونسل کا عارضی رکن بن چکا ہے لیکن اس سے کشمیر کے مسئلے پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم اس موقع پر جو نکتہ اٹھانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنےوالے ملک کو سلامتی کونسل میں رکنیت نہیں ملنی چاہیے ۔ بی بی سی کے مطابق اسی طرح کی رائے بھارتی میگزین فورس کے ایڈیٹر پراوین سونہی جو سابق بھارتی ;200;رمی افسربھی ہیں کا کہنا ہے کہ انڈیا پہلے بھی سلامتی کونسل کا کئی مرتبہ رکن رہ چکا ہے لہٰذا میرے خیال میں اس وقت اس پیش رفت کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے ۔ پاکستان کے سابق خارجہ سیکریٹری نجم الدین شیخ بھی پراوین سوانہی ہی کی بات کی حمایت کرتے ہیں کہ انڈیا کا سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کی حیثیت میں منتخب ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ انڈیا اپنے گروپ میں اپنی باری ;200;نے کی وجہ سے منتخب ہوا ہے ۔ سلامتی کونسل میں 15ارکان ہوتے ہیں ۔ جن میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس مستقل ارکان جب کہ10غیر مستقل ارکان ہیں ۔ غیر مستقل نشستوں کو دنیا کے پانچ علاقائی گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ جنہیں دو برس کےلئے منتخب کیا جاتا ہے ۔ یہ عمل خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوتا ہے ۔ اس وقت ایشیا پیسیفک کی نشست انڈونیشیا کے پاس ہے جو رواں برس دسمبر میں خالی ہو گی ۔ دو برس کی مدت پوری کرنے کے بعد فارغ ہونے والا رکن ملک فوری طور پر دوبارہ انتخاب لڑنے کا اہل نہیں ہوتا ہے ۔ سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کے چھ کلیدی اداروں میں سب سے اہم اور بڑا طاقتور ادارہ ہے جس کے قیام کا بنیادی مقصد بین الاقوامی امن اور دنیا بھر کی اقوام کے مابین تنازعات کے سیاسی حل کو یقینی بنانا ہے ۔ سلامتی کونسل کے اس بنیادی مقصد اور کردار کو بھارت کس طرح ;200;گے بڑھائے گا جو خطے میں خود تنازعات اور اشتعال انگیزی کا موجب ہے ۔ یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب وہی دے سکتے ہیں جنہوں نے بھارت کا انتخاب کیا ہے ۔ تنازع کشمیر اسی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر 72 برسوں سے حل طلب پڑا ہے اور استصواب رائے کی قرارداد کی منظوری کے باوجود بھارت اس کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ علاوہ ازیں بھارت میں اقلیتوں کے حقوق غصب کرنے کے حوالے سے متعصبانہ قانون سازی، متنازع علاقے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے، چین اور کےساتھ سرحد پر جاری فوجی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے اعتراضات میں کافی وزن ہے ۔ پاکستان نے بھارت کے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے منتخب ہونے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے چارٹر کی خلاف ورزی کرنےوالے ملک کا غیر مستقل رکن منتخب ہونا بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے چناوَ پر تبصرہ کرتے ہوئے درست کہا ہے کہ بھارت نے 9 لاکھ قابض فوجیوں کے ذریعے اعلیٰ کشمیری قیادت سمیت 80 لاکھ کشمیریوں کو قید کر رکھا ہے اور وادی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام5اگست2019ء کو بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں کے بعد مسلسل 10 ماہ سے غیر انسانی لاک ڈاوَن اور فوجی محاصرے میں ہیں جبکہ وہ بین الاقوامی مانیٹرنگ ٹیم کو مقبوضہ کشمیر کا دودہ کرنے کی اجازت دینے سے مسلسل انکاری ہے ۔ بھارتی اقدامات مقبوضہ کشمیر میں ;200;بادی کے تناسب کی غیر قانونی تبدیلی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں ۔ دنیا کورونا وائرس کی وبائی صورتحال سے دوچار ہے، بھارت ;200;ر ایس ایس اور بی جے پی کے انتہا پسندانہ ’’ہندوتوا‘‘ نظریہ کو ;200;گے بڑھانے میں مصروف ہے ۔ بھارت جیسے ملک کو اعزاز دینے کی بجائے اس کا احتساب ہونا ضروری ہے ۔ ادھر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق نے بھارت کے عالمی ادارے کے غیرمستقل رکن منتخب ہونے پر عالمی برادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو ووٹ دینے کا مقصد اس کے غیرقانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے ۔ ہندوستان ;200;ر ایس ایس راج کی بدولت اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کےلئے مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکا ہے ۔ اسلامو فوبیا، دہلی فسادات، گجرات فسادات ، لوو جہاد ، تبلیغی جماعت کو بطور ’’کورونا دہشت گرد‘‘پیش کر کے اسلام کیخلاف پروپیگنڈا کرنا، پاکستان میں بدامنی کےلئے حاضر سروس فوجی اہلکار کلبھوشن یادیو کو بہروپ بدل کر بلوچستان بھیجنا،افغانستان کے راستے دہشت گردی کو فروغ دینا ایسے کئی بد نما داغ بھارت کے ماتھے پر ہیں ، اگر دنیا ایک اہم عالمی ادارے کےلئے ایسے ملک کا انتخاب کرے گی تو سوال تو پھر اٹھیں گے ۔