- الإعلانات -

وزیراعظم کا این سی او سی کادورہ اورپٹرولیم بحران پرفیصلے

ملک میں پٹرولیم بحران کے حوالے سے وزیراعظم نے سخت ایکشن لیکریہ ثابت کردیاہے کہ وہ حکومت کی جانب سے عوام تک ثمرات پہنچنے کے سلسلے میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے ۔ گوکہ وزیراعظم نے احکامات دیدیئے ہیں لیکن تاحال پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے بحران موجود ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کو پٹرول بحران پر رپورٹ پیش کر دی گئی جس پر وزیراعظم نے پٹرول بحران میں ملوث کمپنیوں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے ۔ کمپنیوں کے لائسنس منسوخ یا معطل ، ملوث افراد کو گرفتار اور ذخیرہ شدہ پٹرول مارکیٹ میں سپلائی کرنے کا حکم دیدیا گیا ۔ اوگرا نے پٹرول بحران کی ذمہ داری پٹرولیم ڈویژن پر عائد کر دی ۔ رپورٹ کے مطابق 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس اسٹاک موجودتھا مگر جان بوجھ کر سپلائی روکی گئی ،ڈی جی آئل ڈاکٹر شفیع آفریدی اورپٹرولیم ڈویڑن افسران اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے ۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کے ہمراہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹرکا دورہ کیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے کورونا وائرس کیخلاف متوازن انداز میں اقدامات اٹھائے ہیں ہر کسی کو انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا ہ میں آئندہ دو ماہ متحد و منظم ہو کر وبا ء کیخلاف لڑنا ہے ۔ ہمارے اقدامات بحران کی نوعیت اور مفاہمت کے ذریعے رد عمل کی کامیابی کا تعین کریں گے مرض کا پھیلاءوروکنے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں ۔ اسپتالوں میں ادویات، آکسیجن اور بستروں کی دستیابی یقینی بنائی جائے ۔ انہوں نے پوری قوم پر زور دیا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے مکمل طورپر یکجہتی قائم کی جائے،تمام پاکستانی عمر رسیدہ اور بیمار افراد کو محفوظ بنائیں ، خاص طور پر ایسے افراد جو دل اور شوگر کے امراض میں مبتلا ہیں ۔ ادھرملک میں کورونا سے اموات اور کیسز میں اضافے کے باوجود شہریوں کی جانب سے بے احتیاطی جاری ہے، کراچی، لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اسمارٹ لاک ڈان شروع ہوگیا، جسکے تحت انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کی گلیاں اور محلے سیل کردیئے ۔ اسمارٹ لاک ڈاون 2 جولائی تک جاری رہے گا، متاثرہ علاقوں میں پولیس اور رینجرز نے رکاوٹیں کھڑی کرکے عملدرآمد شروع کر دیا ۔ لاک ڈاءون کے بعد شہر کے چھ اضلاع کی مختلف یونین کمیٹیز کے نشاندہی والے علاقوں میں لوگوں کے غیر ضروری طور پر گھر سے نکلنے پر پابندی عائد ہوچکی ہے، ضروری کام سے نکلنے والوں کو ماسک لگانا لازمی ہوگا، فاصلہ رکھنا ہوگا، تجارتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہے البتہ کھانے پینے کے سامان کی دکانیں اور میڈیکل اسٹورز شام 7 بجے تک کھولے جا سکیں گے، گھر سے صرف ایک فرد کو سامان کی خریداری کیلئے باہر جانے کی اجازت ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ نیزایک اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام میں طبقاتی تفریق کو ختم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، یکساں نصاب تعلیم کو مرتب کرنے اور ملک بھر میں اس کے نفاذ کی کوششیں مزید تیز کی جائیں ۔ مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے خصوصا مدارس میں زیر تعلیم بچوں کو جدید علوم کی تعلیم سے آراستہ کرنے اور ان کو ہنرمند بنانے کے حوالے سے مدارس کے ساتھ طے شدہ لاءحہ عمل پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی کوششیں تیز کی جائیں ۔ کورونا کی صورتحال کے پیش نظر تمام صوبائی وزراء تعلیم کی مشاورت سے تعلیمی و تدریسی عمل کے ضمن میں مستقبل کے لاءحہ عمل کے حوالہ سے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات میں تعلیمی اداروں کی مالی مشکلات اور والدین کے فیسوں کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنے کی حکمت عملی بھی وضع کی جائے ۔ تعلیمی نظام کے حوالے سے حکومت کوکوئی نہ کوئی لاءحہ عمل طے کرنا چاہیے ۔ اب یہ حکومت پرمنحصرہے کہ وہ سکول کھولنے کے حوالے سے کیافیصلے کرتی ہے ۔ ایس او پیزپر سختی سے عمل کراتے ہوئے ایساطریقہ اختیار کرناچاہیے کہ تعلیمی ادارے کھل جائیں اور بچے تعلیم کے زیورسے آراستہ ہوسکیں ۔ گوکہ کوروناوائرس کا ایسابحران ہے جس کے بارے میں کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا،کون کس وقت اس شکنجے میں جکڑاجائے کسی کوعلم نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی ناگہانی آفت ہے ۔ ہ میں اپنے کرتوتوں کی معافی مانگنی چاہیے ۔ اب جبکہ چین میں اس وباء نے پھر سرا ٹھانا شروع کردیاہے ۔ لہٰذا جتنا احتیاطی تدابیرپرعمل کرینگے اتنا ہی محفوظ رہیں گے ۔

سلامتی کونسل میں رکنیت،بھارت پرسوالات جنم لینے لگے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیرمستقل ارکان کے لئے بھارت کا منتخب ہونا بہت سے سوالات کو جنم دیتاہے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی انتہاہے ظلم وستم عروج پر ہے، ایسے میں بھارت کامنتخب ہونا انتہائی معنی خیزہے اس وادی ہی میں نہیں مودی نے بھارت کے اندربھی اقلیتوں کے حقوق صلب کررکھے ہیں ۔ یہ ممبرمنتخب توہوگیا لیکن اس سے خیرکی کوئی توقع نہیں ۔ بین الاقوامی برادری دیکھ رہی ہے کہ مودی نہ صرف آرایس ایس کاممبرہے بلکہ ہٹلرکابھی پیروکارہے ،انہی تمام چیزوں کومدنظررکھتے ہوئے پاکستان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور اصولوں کے منافی اقدامات کے باعث سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے بھارت کے انتخاب نے سوالات کو جنم دیا ہے ، بھارت مقبوضہ کشمیر میں یواین چارٹرکی مکمل نفی کررہاہے ۔ دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات اقوام متحدہ چارٹر کے بنیادی اصولوں کے سراسر منافی ہیں ۔ دوسری جانب بھارتی ناظم الامور گورو اہلو وآلہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے باگسر اورنکیال سیکٹرز میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا ۔ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہیں ۔ پاکستان نے سلامتی کونسل کی غیرمستقل رکنیت کیلئے بھارت کیخلاف ووٹ دیا، بھارت نے پانچ اگست کے بعد سلامتی کونسل کی قراردادوں کی دھجیاں اڑادی ہیں ، بھارت مقبوضہ کشمیر اور اپنے ملک میں انسانی حقوق کو پامال کررہا ہے ۔ بھارت اپنی چالیں چلتا رہے گا اور پاکستان اپنا دفاع کرتارہے گا ۔

ملک کو مافیاز سے آزادکرایاجائے

مافیانے اس ملک کوشکنجے میں پھنسایاہواہے ،آٹا،چینی کابحران ابھی تک حل نہیں ہوسکا جوکہ سترروپے کلوکے حوالے سے عملدرآمدہورہاہے لیکن مارکیٹ میں چینی عنقا ہے آٹے کے ساتھ ساتھ روٹی اورنان کابھی مسئلہ درپیش ہے اگر حکومت کنٹرول ریٹ پرعوام کو روٹی دیناچاہتی ہے تونان بائی ایسوسی ایشن اس پرراضی نہیں انہوں نے روٹی اورنان کاوزن انتہائی کم کردیاہے ۔ عوام بیچاری کہاں جائے ایک غریب آدمی ایک وقت میں تیس روپے کی دوروٹیاں ہی کھاجاتاہے وہ بیچارا بچوں کے لئے کیالیکرجائے گا،سالن بھی مہنگاہوگیا ہے اس وجہ سے کاروبارتباہ ہوگیا ہے ۔ حکومت سنجیدگی سے اس مسئلے کو حل کرے کیونکہ یہ دووہ بنیادی چیزیں ہیں یاکم ازکم آٹا روٹی ایسی چیزہے جس کے بغیرزندگی کاپہیہ رواں دواں نہیں رہ سکتا ۔ ملک بھر میں یوٹیلٹی سٹورز سے چینی اور آٹا غائب ہوگیا، عوام اوپن مارکیٹ سے مہنگا آٹا اور چینی خریدنے پر مجبور ہو گئے ۔ وزیراعظم نے یوٹیلٹی سٹورز پر ریلیف پیکج دیا تھا ۔ وزیرعظم پیکج کے تحت آٹے چینی سمیت5اشیا ضروریہ پر سبسڈی دی تھی ۔ یوٹیلٹی سٹورز انتظامیہ نے آٹے اور چینی کی قلت کا اعتراف کر لیا ۔ ایم ڈی یوٹیلٹی سٹورز نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں کے سٹورز پر آٹا اور چینی کی قلت آئی ۔ پاسکو سے گندم کی خریداری آئندہ 2دن تک ممکن ہو جائے گی ۔ آندہ چند دنوں میں یوٹیلٹی سٹورز پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائیں گے ۔ وزیر اعظم پیکج کے تحت یوٹیلٹی سٹورز پر آٹے کے 20کلو تھیلے کی قیمت 800روپے مقرر ہے ۔ وزیراعظم پیکج کے تحت سٹورز پر چینی کی قیمت 68روپے فی کلو مقرر ہے ۔ گزشتہ سوا پانچ ماہ میں سے یوٹیلٹی سٹورز پر آٹا اور چینی کی یہی قیمت مقرر ہے ۔