- الإعلانات -

اگلا مرحلہ ۔ پاک چین اقتصادی راہداری

1965کی پاک بھارت جنگ کے دنوں میں ایک پنجابی ملی نغمہ خاصا مشہور ہوا جس کے بول یہ تھے کہ’’چین و انڈونیشیا ایران تیرے نال نے،اللہ دا حبیب تے قرآن تیرے نال نے‘‘ ماہرین کے مطابق شائد اسی ایک بات سے پاک چین دوستی کی مضبوطی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے پہلے ہی سی پیک کے ہر ایک منصوبے کو مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں ۔ پاک چین سی پیک منصوبوں سے معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، سی پیک فیز ٹو کا بھرپور تیاری سے آغاز کرنے جا رہے ہیں ۔ اس مرحلے میں تمام منصوبوں میں شفافیت کو خاص طور سے ترجیح حاصل ہے ۔ اس مرحلے میں مکمل ہونے والے منصوبے انشا اللہ پاکستانی عوام کو ترقی کے مواقع فراہم کریں گے ۔ یاد رہے کہ چین کی چھ کمپنیوں کے ساتھ پاکستان کے مزید معاہدے طے پاگئے ہیں اور ایچ ایم سی میں نئی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اس معاہدے سے صنعتوں کو فروغ ملے گا ۔ اسی تناظر میں معاون خصوصی برائے اطلاعات نے مزید بتایا کہ سی پیک دوسرے مرحلے کے تحت نئے ریلوے ٹریک بنائے جائیں گےا،علاوہ ازیں حویلیاں میں ڈرائی پورٹ بنایا جائے گا، تمام ریلوے ٹریکس کو بدلا جائے گا،امید ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے ریلوے زیادہ منافع بخش ادار ہ بن کر سامنے آئے گا اور پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر سکے گا ۔ 18جون 2020 کو اسی حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عاصم سیلم باجوہ نے کہا کہ سی پیک دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کا عکاسی کرتا ہے ۔ سبھی جانتے ہےں کہ دونوں دوست ہمسایہ ممالک کے تعلقات کسی ایک حکومت یا پارٹی تک محدود نہیں بلکہ ان دوستانہ تعلقات کی اپنی ایک تاریخ ہے جس سے لگ بھگ ساری دنیا آگاہ ہے ۔ عاصم سلیم باجوہ نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبوں کے تحت صوبوں میں خصوصی اکنامک زونز بنائے جائیں گے، ان اقدامات سے معیشت کو فروغ ملے گا، روزگار پیدا ہوگا ۔ انہوں نے بعض حلقوں کی طرف سے گمراہ کن پروپیگنڈا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک تیزی سے ایک حقیقت بن کر سامنے آرہا ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے باوجود سی پیک کے منصوبوں پر کام پوری رفتار سے جاری ہے ۔ اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مزید چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گی جس کے نتیجہ میں حکومت پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں کمی آئے گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی مشینری ملک میں بنائی جائے گی جو ہم باہر سے منگواتے ہیں ، 8 انرجی کے منصوبے مکمل ہوچکے ہےں ، اقدامات سے قرضوں پر انحصار کم ہوگا ۔ پاکستان میں چین کے سفیر یاءو چنگ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ایچ ایم سی اور چینی کمپنیوں کے درمیان بزنس تعاون پاک چین دوستی کا نیا باب ہے اور اس معاہدے سے باہمی اقتصادی تعاون کو مزید فروغ اور استحکام ملے گا ۔ مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعاون کے بے پناہ مواقع موجود ہیں کیوں کہ دونوں ممالک کی دوستی اور تعاون 7 دھائیوں پر محیط ہے ۔ اسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے معاشی ماہرین نے کہا کہ سی پیک باہمی تعاون کو نئی جہت تک لے جارہا ہے،پہلے مرحلے میں متعدد انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر توجہ دی گئی، اب دوسرا تاریخی مرحلہ شروع ہوچکا ہے جو ترقی کی نئی راہیں کھولے گا ۔ واضح رہے کہ چین گزشتہ برسوں سے مینوفیکچرنگ کی بنیاد پر حیرت انگیز حد تک اقتصادی ترقی کی راہیں طے کررہا ہے اور زیادہ سے زیادہ مصنوعات کی تیاری کی صلاحیت نے صورتحال بدل کر رکھ دی ہے ۔ ساری دنیا اس امر پر متفق ہے کہ آنے والے برسوں میں سی پیک خطے میں ترقی اور استحکام کی نئی داستانیں رقم کرے گا ۔ چوں کہ پاک چین دوستی ضرب المثال کی حیثیت اختیار کر چکی ہے کہ ان دونوں ملکوں کا مستقبل انتہائی روشن اور تابناکیوں کا امین ہوگا ۔ چین ط پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) انفراسٹرکچر پروجیکٹس کا ایک مجموعہ ہے جو 2013 سے پورے پاکستان میں زیر تعمیر ہے ۔ 2017 کے مطابق سی پیک منصوبوں کی مالیت 62 ارب ڈالر ہے ۔ سی پیک کا مقصد پاکستان کے مطلوبہ معاشی اور صنعتی ڈھانچے کو تیزی سے بہتر بنانا ہے اور جدید ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس، متعدد توانائی منصوبوں اور خصوصی اقتصادی زون کی تعمیر سے ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے ۔ یاد رہے کہ 13 نومبر 2016 کو سی پیک پر عمل درآمد کا آغاز ہو گیا جب چینی کارگو کو بحری جہاز کے لئے افریقہ اور مغربی ایشیاء کے لئے گوادر پورٹ منتقل کیا گیا جبکہ 2017 کے آخر تک بجلی کے کچھ اہم منصوبے شروع کردیئے گئے ۔ دوسری جانب کچھ دنوں سے چین اور بھارت کے مابین کشمکش بڑھتی دکھائی دے رہی تھی جس پر چین نے حتی الامکان کوشش کی کہ معاملہ افہام و تفہیم سے گفتگو کے ذریعے حل ہو جائے لیکن بھارت نے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی چین کی پیشکش کو سنجیدہ نہیں لیا ۔ اس ضمن میں 20 سے زیادہ بھارتی فوجیوں ‘ افسران کی اموات ہو چکی ہیں جو کہ ایک غیرمعمولی واقعہ ہے‘ کئی دہائیوں کے بعد خونی تصادم کی یہ صورت دیکھنے میں آ رہی ہے اور یہ سب بھارت سرکار کی ہندوتوا سوچ کا کیا دھرا ہے ۔ یاد رہے کہ تبت اور لداخ کا 3500 کلو میٹر کا علاقہ بھارت اور چین کا متنازع سرحدی علاقہ ہے ۔ ایسے میں اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے ہضم کر لے گا تو شاید یہ چین کےلئے قابل قبول نہ ہو ۔ بھارت جب ہندوتوا سوچ اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کریگا تو حالات خراب ہوں گے ۔ 5 اگست کو بھارت نے جو یکطرفہ اقدام اٹھائے انہیں پاکستان بھی مسترد کر چکا ہے ۔ لگتا ہے کہ ہندوستان معقولیت کی بجائے جنونیت کی سوچ پر گامزن ہے ۔ جو رویہ انہوں نے اپنے ملک میں اپنی اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ دنیا بھارت کو لگام ڈالنے کی کوشش کریگی ۔