- الإعلانات -

ایوان میں سیاسی اونچ نیچ،وزیراعظم پُرعزم

پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل عوام سے بہت سے وعدے کئے تھے اب ان وعدوں کوپورا کرنے کےلئے حکومت کوششوں میں لگی ہوئی ہے ۔ بلاشبہ جب تحریک انصاف نے اقتدارسنبھالا تو اسے بہت سی مشکلات کاسامنا تھا جو یقینا ابھی تک درپیش ہیں ۔ پھربھی عمران خان اپنی بھرپورمحنت اورجدوجہد سے عوامی وعدوں کی تکمیل کےلئے پُرعزم ہیں ۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ موجودہ حکومت جب بحرانوں سے نکلنے لگی تو کوروناوائرس کی وباء نے اسے پوری طرح جکڑ کررکھ دیا اور یہ وباء کسی ایک ملک پرنہیں بلکہ دنیابھر میں چھائی ہوئی ہے اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے پوری تندہی سے اس سے نمٹنے کےلئے عوام کو مدنظررکھ کر فیصلے کئے ۔ یقینا لاک ڈاءون سے عوامی مشکلات بڑھیں اوربہت سے لوگ بیروزگارہوگئے اورنوبت فاقہ کشی تک پہنچ گئی اوروزیراعظم عمران خان کوعوام کی فکرلاحق تھی تو انہوں نے لاک ڈاءون ختم کرکے سمارٹ لاک ڈاءون کیا جس سے عوامی مشکلات میں کمی آئی ۔ چونکہ تحریک انصاف کی حکومت کو عام انتخابات میں واضح اکثریت نہیں مل سکی اس لئے اسے دیگرجماعتوں کے ساتھ ملکر حکومت بناناپڑی ۔ جمہوریت میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے جب اتحادیوں سے کئے گئے وعدے پورے نہ ہوں تو وہ بھی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دیکرالگ ہوجاتے ہیں جس سے حکومت مشکل میں پڑجاتی ہے ۔ وزیراعظم پُرامید ہیں کہ وہ اتحادیوں کے تحفظات دورکرینگے ۔ وزیراعظم نے سرکاری اداروں کے بوجھ کابھی اظہارکیاہے یقینا اداروں کی اصلاحات ہونی چاہئیں اداروں ٹھیک ہونگے تو ملک آگے بڑھے گا ۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور تنظیمی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس کو ملک میں کورونا کی صورتحال اور اس سے نمٹنے کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات سے متعلق بریفنگ دی گئی ۔ کورکمیٹی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا ۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت نے کورونا کے موثر انسداد کیلئے بروقت اور جامع اقدامات اٹھائے ہیں ۔ کور کمیٹی تحریک انصاف نے قرار دیا کہ پاکستان کے معروضی حالات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سازی قابل تحسین ہے کورونا کے انسداد کی حکومتی کاوشوں کو عالمی سطح پر پذیرائی میسر آ رہی ہے ۔ کورونا سے حفاظتی تدابیر کے حوالے سے عوام میں آگہی پیدا کرنے کیلئے جماعتی کاوشیں تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیراعظم نے اراکین پارلیمان کو آگہی مہم میں بڑھ چڑھ کر شریک ہونے کی ہدایت بھی کردی اور کہا کہ اراکین پارلیمان اپنے اپنے حلقوں میں عوام کو ایس او پیز کا خیال رکھنے اور حفاظتی تدابیر اپنانے کی ترغیب دیں ۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو اتحادیوں کو منانے کا ٹاسک بھی سونپا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کئے جائیں گے ۔ نیزایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سرکاری اداروں کے اربوں روپے کے نقصان کا بوجھ بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے، پی آئی اے جیسے قومی ادارے کو فعال اور منافع بخش بنانے کیلئے انتظامی اصلاحات تیز کرنے کے ساتھ ساتھ تمام موجود وسائل کا نہایت شفاف طریقے سے بہترین استعمال یقینی بنایا جائے ۔ اہم قومی اداروں کو نقصان سے نکالنا اور انہیں فعال و مستحکم ادارے بنانا موجودہ حکومت کے ایجنڈے کا اہم جزو ہے لہٰذا اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم نے قومی تہذیب و تمدن اور پاکستانیت کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماڈرن ذراءع ابلاغ، انٹرنیٹ پر ہر قسم کے مواد خصوصا قابل اعتراض مواد کی آسان دستیابی اور مغربی طور طریقوں اور بیرونی کلچر کی یلغار سے ہماری اقدار اور نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کو شدید چیلنجز درپیش ہیں ، نئی نسل کو قومی تشخص سے روشناس کرانے، معاشرتی اقدار اور پاکستانیت کے فروغ کیلئے ضروری ہے کہ اس حوالے سے فوری طور پر اقدامات اٹھائے جائیں ۔

سندھ میں دہشت گردی ، بھارت کے ملوث ہونے کاثبوت

سندھ کے مختلف علاقوں میں 3 دھماکوں میں 2 رینجرز اہلکاروں سمیت 4 افراد جاں بحق اور8 زخمی ہوگئے ۔ کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے احساس پروگرام دفتر کے قریب دستی بم حملہ کیا جس میں ایک شخص جاں بحق اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت 6 زخمی ہوگئے ۔ گھوٹکی ریلوے سٹیشن کے قریب بم دھماکے میں 2 رینجرز اہلکاروں سمیت 3 افراد شہیداور ایک شخص زخمی ہوا ۔ لاڑکانہ میں بھی شرپسندوں نے کارروائی کی اور وی آئی پی روڈ پر واقع رینجرز پبلک سکول کی چوکی پر کریکر حملہ کیا جس میں کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کراچی گھوٹکی اور لاڑکانہ میں احساس کیش سنٹر اور رینجرز اہلکاروں پر حملوں کی مذمت کی ہے اور متعلقہ اداروں سے واقعات کی رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ سی ٹی ڈی، رینجرز اور پولیس سمیت تمام ادارے کراچی، لاڑکانہ اور گھوٹکی میں کیے گئے دہشت گرد حملوں کی تحقیقات کررہے ہیں جس میں پیشرفت ہوئی ہے، کراچی میں روسی ساختہ دستی بم سے حملہ کیا گیا جس کی پلیٹ جائے واردات سے مل گئی ، لاڑکانہ میں گرنیڈ سے حملہ کیا گیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گھوٹکی میں بھی دستی بم استعمال کیے جانے کا شبہ ہے، یہ حملے گزشتہ حملوں سے مماثلت رکھتے ہیں ، جس روسی ساختہ گرنیڈ سے حملہ کیا گیا ویسے گرنیڈایک کارروائی کے دوران کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیل سے برآمد کیے گئے تھے اور ابتدائی تحقیقات میں ان وارداتوں کے تانے بانے بھی وہیں سے ملتے ہیں ۔ لاڑکانہ میں بھی حملے میں گرنیڈاستعمال کیا گیا جبکہ گھوٹکی میں رینجرز حکام کی گاڑی کے قریب دھماکے میں آئی ای ڈی ڈیوائس استعمال نہیں کی گئی اور ایسا لگتا ہے کہ گھوٹکی میں بھی حملے میں دستی بم ہی استعمال کیا گیا ۔ وارداتوں میں ایک ہی دہشت گرد گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے ۔ مختلف واقعات کی ذمہ داری سندھو دیش ریولیوشن آرمی نے قبول کی ہے ، حکومت نے مئی 2020 میں 3 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا تھا ،ان تنظیموں میں سندھو دیش ریولیوشن آرمی،سندھو دیش لبریشن آرمی اورجئے سندھ قومی محاذ، آریسر گروپ شامل ہیں ۔ 2018 میں سندھ میں ریلوے ٹریک پر حملوں کی ذمہ داری بھی اس گروپ نے قبول کی تھی،بھارتی خفیہ ایجنسی ;34;را;34;کی مدد ان تنظیموں کو حاصل ہے ۔

تین بڑے عالمی مالیاتی اداروں کاپاکستان کیساتھ تعاون

وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں پاکستان اور تین بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے درمیان ڈیڑھ ارب ڈالر کے مالیاتی معاہدوں پر دستخط کر دیئے گئے ۔ یہ معاہدے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ بینک کے ساتھ طے پائے ہیں ۔ یہ رقم آئندہ چند دنوں میں پاکستان کو فراہم کر دی جائے گی ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کوویڈ 19ایکٹو رسپانس اینڈ ایکسپینڈیچر سپورٹ پروگرام کےلئے 500 ملین ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرے گا ۔ اسی طرح ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک بھی کوویڈ ۔ 19ایکٹو رسپانس اینڈ ایکسپینڈیچر سپورٹ پروگرام کےلئے 500 ملین ڈالر کی معاون فنانسنگ فراہم کر رہا ہے ۔ اس کا مقصد کورونا وباکے اثرات پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں میں تعاون فراہم کرنا ہے ۔ اس کے علاوہ انسانی وسائل کی ترقی کےلئے ضروری صحت وتعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے، معاشی پیداوار میں خواتین کے کردار کی حوصلہ افزائی اور سماجی تحفظ کے منصوبوں میں کی بہتری میں معاونت کے سلسلے میں سیکورنگ ہیومین انویسٹ منٹس ٹو فاسٹر ٹرانسفارمیشن کےلئے 500 ملین ڈالر کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے سیکرٹری اقتصادی امور نور احمد جبکہ عالمی بنک کے کنٹری ڈائریکٹر پچھاموتھو ایلانگوان اورایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر مس شیاو ہونگ نے معاہدوں پر دستخط کئے ۔