- الإعلانات -

مودی کےلئے ’سرینڈر مودی‘ کا لقب اور خالصتان ریفرنڈم

راہول گاندھی بھارت میں اپوزیشن کی سب بڑی اور پاپولر جماعت کانگریس کے رہنما ہیں ۔ وہ ہندوستان کے سابق صدر اور نہرو خاندان کی پانچویں پشت کے سیاست دان ہیں ۔ انہیں نو عمری میں دو بڑے سانحے دیکھنا پڑے ۔ جب وہ چودہ سال کے تھے تو ان کی دادی اور اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا اپنے سکھ باڈی گارڈزکے ہاتھوں قتل ہو گیا ۔ اندرا گاندھی ہی کے دور حکومت 1984ء میں سکھوں کے گولڈن ٹیمپل پر ریاستی حملہ ہوا تھا جس کا بدلہ انہوں نے اندرا گاندھی کے قتل کی صورت میں لے لیا ۔ بھارتی حکومت سمجھتی تھی یوں سکھ تحریک دب جائے گی لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اب رواں برس سکھ الگ وطن کےلئے ریفرنڈم کی تیاری کر رہے ہیں ۔ 21مئی 1991کو انتخابات کے دوران راہول کے والد راجیو گاندھی کا چنئی میں قتل ہو گیا ۔ 2007 میں پارٹی کے جنرل سیکریٹری بنے ۔ 2013 میں پارٹی کے نائب صدر اور 2017 میں کانگریس کے صدر بنے ۔ 2019 کے الیکشن میں پارٹی کی شکست کے بعد جولائی 2019 میں منصبِ صدارت سے استعفیٰ دے دیا ۔ اب ان کی ماں سونیا گاندھی پارٹی صدر ہیں لیکن جماعت میں متحرک کردار ان ہی کا ہے ۔ خصوصاً ان دنوں وہ وزیراعظم نریندر مودی کی خوب کلاس لے رہے ہیں ۔ نریندر مودی چونکہ لداخ کا اہم علاقہ،گلوان وادی چین کے ہاتھوں گنوا بیٹھے ہیں جس پر بھارت بھر میں مودی اور سرجیکل سٹرائیکل فلمی شاہکار بنانے والی فوج کی شامت ;200;ئی ہوئی ہے ۔ اس ساری صورتحال پر راہول نے اپنے وزیراعظم پر خوب پھبتی کسی ہے ۔ انہوں نے چینی فوج کے ہاتھوں شرمناک شکست پر نریندر مودی کو’’سرینڈر مودی‘‘قرار دیا ہے ۔ سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹیوٹر پر اپنی ٹویٹ میں انہوں نے جاپان ٹائمز کی ایک خبر کا لنک بھی شیئر کیا جس میں لداخ میں چینی فوج کے ہاتھوں بھارتی فوج کی شکست اور ایک گاؤں پر قابض ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ جاپانی اخبارنے مودی سرکار کی ناکام خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا ۔ قبل ازیں راہول نے لداخ میں بھارتی فوج کے اہلکاروں کی ہلاکت پر وزیراعظم نریندر مودی کی معنی خیز خاموشی کو مجرمانہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی تھی اور مودی سےٍ مطالبہ کیا تھا کہ کہیں چھپ کر بیٹھنے سے بہتر ہے سامنے آئیں اور حقائق بتائیں ۔ چین کا معاملہ مودی حکومت کےلئے گلے کا پھانس بنا ہوا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ مودی حکومت کا’’ ہندوتوا‘‘ پالیسی کی پیروی ہے ۔ چین سے کشیدگی کب کم ہوتی ہے اس کے امکان فوری طور پر تو نظر نہیں آتے مگر ایک اور ہزیمت جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے وہ بھارت کےلئے سراٹھا رہی ہے، اور وہ ہے سکھوں کی ریفرنڈم کی تیاری ۔ دنیا بھرکی سکھ تنظیموں کی طرف سے 4جولائی سے خالصتان کےلئے ریفرنڈم ٹوئنٹی20کی رجسٹریشن شروع کرنے کے اعلان سے بھارتی حکومت کی نئی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ریفرنڈم کےلئے ووٹنگ نومبر2020 میں ہوگی ۔ خالصتان تحریک سے جڑے اہم سکھ رہنما اور برٹس سکھ کونسل برطانیہ کے رکن سردار سربجیت سنگھ بنور کے مطابق ہم خالصتان گولی کے ذریعے نہیں بلکہ پرامن جمہوری طریقے سے لینا چاہتے ہیں ، اس کےلئے ہم دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کی رائے جاننا چاہتے ہیں کہ وہ خالصتان چاہتے ہیں یا نہیں ، اس مقصد کےلئے ہم نے ریفرنڈم ٹوئنٹی 20کا اعلان کیا تھا اب 4جولائی سے دنیا بھر میں ریفرنڈم کےلئے ;200;ن لائن رجسٹریشن شروع ہوجائے گی جبکہ نومبر میں ووٹنگ کروائی جائیگی ۔ رواں ماہ6جون کو شری اکال تخت صاحب پر بھارتی فوج کے حملے کی برسی کے موقع پر شری اکال تخت صاحب کے جتھ دارگیانی ہرپریت سنگھ نے کہا تھا کہ خالصتان ہر سکھ کا خواب ہے، ان کے اس بیان پر بھارت میں ان کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے اور پھانسی دینے جیسے مطالبات سامنے ;200;ئے ، سکھوں کی سب سے بڑی نمائندہ جبکہ شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی پر بھارتی حکومت کی طرف سے دبا ڈالا جارہا ہے کہ گیانی ہرپیت سنگھ کو ان کی ذمہ داری سے ہٹایاجائے ۔ حالانکہ اسی پریس کانفرنس میں شرومنی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے پردھان بھائی گوبند سنگھ لنگووال بھی موجود تھے اورانہوں نے بھی گیانی ہرپیت سنگھ کے بیان کی حمایت کی تھی،گیانی ہرپریت سنگھ کیخلاف بھارتی حکومت کی کسی بھی کارروائی کے خطرہ کی پیش نظران کی سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے ۔ سکھ فارجسٹس تنظیم کے ایک رہنما کے مطابق بھارتی حکومت کی طرف سے کینیڈا اور برطانیہ کی حکومتوں کو خطوط لکھے گئے ہیں جن میں ان سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں سکھ تنظیموں کو بھارت کے خلاف کسی تحریک اور جدوجہد سے روکیں لیکن بھارتی خطوط مسترد کرتے ہوئے اسے پرامن احتجاج سکھوں کا حق قرار دیا گیا ہے ۔ سکھ کمیونٹی کی حالیہ جدوجہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کازسے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔ ریفرنڈم کہاں تک کامیاب ہوتا ہے اس بارے تو حتمی رائے نہیں دی جا سکتی لیکن مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت دنیا میں خصوصاً خطے میں تنہا ہو چکا ہے ۔ بھارت کے تمام پڑوسی ممالک سے سرحدی تنازعات چل رہے ہیں ، کہیں کشیدگی کم اور کہیں عروج پر ہے ۔ پاکستان اور چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی بارے تو دنیا جانتی ہے،ذراءع ابلاغ کا موضوع بھی رہتی ہے لیکن اس کے دیگر پڑوسیوں کے ساتھ پھڈا بازی عموی طور پر میڈیا سے اوجھل رہتی ہے ۔ مثلاًبھوٹان کےساتھ انڈیا کی بین الاقوامی سرحد 699 کلومیٹر لمبی ہے ۔ انڈیا کی ریاستوں ، سکم، ارون ;200;نچل پردیش اور مغربی بنگال کی سرحدیں بھوٹان سے ملتی ہیں ۔ اتر ا کھنڈ،اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال اور سکم کی سرحدیں نیپال سے ملتی ہیں ۔ یہاں بھی دونوں ملکوں کی سرحدوں کا تعین پوری طرح سے نہیں ہو پایا ہے ۔ حالیہ دنوں میں دونوں کے درمیان کشیدگی دیکھنے کو ملی ۔ انڈیا نے کالا پانی کے علاقے میں سڑک کی تعمیر کر کے نیپال کے علاقے پر قبضہ جمایا تو نیپال نے شدید ردعمل دکھایا اور اب اپنا سرکاری نقشہ بھی جاری کر دیا ہے ۔ نیپال میں اب بھارت کے خلاف نفرت عروج پر ہے اور بھارت مخالف نغمے جاری کئے جا رہے ہیں ۔ میانمار کے ساتھ انڈیا کی 1643 کلومیٹر لمبی سرحد ہے ۔ اس میں 171 کلومیٹر لمبی سرحد کی حد بندی کا کام نہیں ہوا ہے ۔ انڈیا بنگلہ دیش سرحد4096;46;7لمبی ہے یہ سرحد پہاڑوں ، میدانوں ، جنگلوں اور ندیوں پر مشتمل ہے ۔ بنگلہ دیش کے ساتھ بھی بھارت کا ایک دریائی پانی کا تنازعہ ہے ۔ سری لنکا بھی بھارت کی ہندوتوا پالیسی کا شکار رہتا ہے ۔ تامل ٹائیگر فورس جو سری لنکا کی تقسیم کے در پے تھی ،اسے بھارت کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی ۔