- الإعلانات -

پاکستانی بجٹ ۰۲۰۲ء ۔ ۱۲۰۲ء پر تبصرے

آجکل دنیا میں یہود و نصارا کا غلبہ ہے ۔ عیسائیوں کا امریکا اور یہودیوں کا اسرائیل سرغنہ ہے ۔ باقی عیسائی سلطنتیں ان کا دِم چھلا ہیں ۔ دونوں پیسے اور اسلحہ کے زور پر دنیا پر حکومتیں کر رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ ، مالیتی ادارے اور میڈیا ان کی لونڈیاں ہیں ۔ یہ جیسا چاہتے ہیں حکومتیں حکم بجا لاتیں ہیں ۔ ان ہی کے وضع کرد ہ احکامات پر دنیا کی حکومتیں عمل کرتی ہیں ، جن میں سالانہ بجٹ بھی شامل ہے ۔ حکومتیں بجٹ پیش کرتیں ہیں اوراپوزیشن پارٹیاں بجٹ پر بحث مباحثہ کرتے ہیں ، صحافی اور معاشیات کے ماہر تبصرے کرتے ہیں ۔ اس لے دے کے بعدپھر اگلی مدت کے لیے حکومتی کاروبارجاری و ساری ہو جاتا ہے ۔ ہر سال یہ مشق غالب قوتوں کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق ہوتی ہے ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عمران خان حکومت نے تو اس سال کا بجٹ بھی آئی ایم ایف کی ہدایات پر بنایا ۔ ملک کے مالیاتی اداروں میں آئی ایم ایف کے لوگوں کو لگایا ہوا ہے ۔ اے کاش! کہ مسلم حکومتیں مسلمانوں کی آئیڈیئل مدینہ کی اسلامی ریاست کے بجٹ اور پھر خلفائے راشدین;230; کے بجٹ کے طریقہ پر اپنا بجٹ بناتیں ۔ تو خسارے کے سارے اشاریے ختم ہو جاتے ۔ حکومتوں میں خوش حالی ہوتی ۔ سود خور اداروں سے قرض لینے کی ضرورت نہ پڑتی ۔ مدنیہ کی اسلامی ریاست میں جو بھی آمدنی ہوتی ۔ وہ اسی دن حکومت اور عوام کے کاموں میں خرچ ہو جاتی تھی ۔ حضرت عمر;230; ایک دن مدینہ کی اسلامی ریاست کے حکمران سے ملنے آئے ۔ دیکھا کہ چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں ۔ جب آپ ;248;ملاقات کےلئے اُٹھے تو جسم پر چٹائی کے نشان تھے ۔ حضرت عمر ;230; بے ساختہ رونے لگے ۔ کہا کہ عمر;231; کیوں روتے ہو;238; بولے کہ روم و ایران کے بادشاہ تو نرم گداز بستروں پر آرام کرتے ہیں ۔ اسلامی ریاست کے حکمران اور اللہ کے رسول;248; ایک معمولی چٹائی پر سوتے ہیں ۔ جسم پر چٹائی کے نشان دیکھ کربے ساختہ آنسو نکل آئے ہیں ۔ خلیفہ اوّل حضرت ابو بکر;230; کپڑے کے بڑے تاجر تھے ۔ حکومت میں آئے تو ذاتی کاروبار چھوڑ دیا ۔ ایک مزدور کی آمدنی جتنا وظیفہ لے کر سلطنت کا کاروبار چلاتے رہے ۔ اہلیہ نے کچھ دن کا آٹا بچا کر سویٹ ڈش بنا دی ۔ خلیفہ نے مسلمانوں کے بیت المال کے انچارج کو حکم کیا کہ سویٹ ڈش جتنا آٹا ہمارے کوٹے میں کم کردو ۔ ہمارا گزارہ ہو سکتا ہے ۔ حضرت عمر;231; خلافت کے کام کے بعد ذاتی کام کرتے، تو بیت المال کا دیا بجا کر ذاتی دیا جلاتے تھے ۔ کپڑوں میں پے پیوند لگے ہوتے تھے ۔ جب شہید ہوئے تو مقروض تھے ۔ حضرت عثمان ;230; نے کسی کوجواب دیتے ہوئے فرمایا تھا ۔ جب میں خلیفہ نہیں بنا تھا، میں عرب میں سب سے زیادہ اونٹوں اور بکریاں کا مالک تھا ۔ اب جب میں مسلمانوں کا خلیفہ ہوں تو ایک اونٹ سواری کیلئے اور ایک بکری دودھ پینے کیلئے رکھتا ہوں ۔ حضرت علی;230; کو کسی نے خوش بو تحفے میں پیش کی ۔ آپ نے مسلمانوں کے بیت المال میں دے دی ۔ جب حضرت علی;230; شہید کر دیے گئے تو اُن کے بیٹے نے عوام سے کہا کہ کل جو آپ کاخلیفہ ;230; شہید ہو گیا ہے ۔ اس کے ترکہ میں یہ چند درم ہیں ۔ الحمد اللہ کرپشن نام کی کوئی چڑیا اسلام کے اُس سنہری دور میں پیدا ہی نہیں ہوئی تھی ۔ اس لیے خسارے والے بجٹ بھی نہیں ہوتے تھے ۔ اگر مسلم حکمران اپنے آئیڈیئلز پر عمل کر تے تو ملک قرضوں کے بوچھ تلے دبے ہوئے نہ ہوتے ۔ کیا پاکستانی حکمرانوں کو بانی ِپاکستان کا وہ واقعہ بھی یاد نہیں ، جوکابینہ کی پہلی میٹنگ کے موقع ہو اتھا ۔ اے ڈی سی نے حضرت قائد اعظم;231; سے معلوم کیا ۔ کابینہ کے ممبران کےلئے چائے یا کافی کا انتظام کیا جائے ۔ قائد اعظم;231; نے فرمایا تھا ’’کیا یہ لوگ اپنے گھروں سے چائے پی کر نہیں آئیں گے;238; کیا حکمرانوں تک یہ خبر نہیں پہنچی کہ نوابزادہ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کی شہادت کے وقت ان کی بنیان پھٹی ہوئی تھی ۔ کیا یہی پاکستان کبھی بیرون ملک قرضے نہیں دیتا تھا ۔ جب فاضل بجٹ ہو تو کسی کو قرض دیا جاتا ہے نا! پاکستان کی فوجی حکومتوں کو فی الوقت ایک طرف رکھ کر، اگر پچھلے ادوار میں ایک لمبے وقفے کےلئے اقتدار کے مزے لوٹنے والی دو بڑی سیاسی پار ٹیوں کے سربراہوں کے بارے بات کی جائے، تو پیپلز پارٹی کے بانی ذولفقار علی بھٹو کے بیانیہ کے مطابق غریب عوام کو نہ روٹی کپڑا مکان ملا اور نہ ہی پاکستان میں غربت کم ہوئی;238; نون لیگ کے بانی نواز شریف کے بیانیہ، پاکستان کو ایشیا کا معاشی ٹائیگر بنانے کے آثار بھی نظر نہیں آئے;238; ہاں ہر آنے والے نے جانے والوں پر الزام لگایا کہ ہ میں پاکستان کا خزانہ خالی ملا، ہم کیا کر سکتے ہیں ;238;ہمارے تبصرہ نگار بھی بھول بلیوں میں غرق، بجٹ پر اپنی ما ہرانہ رائے کا اظہار تو کرتے رہتے ہیں مگر ان کے تبصروں میں ان دونوں سیاسی پارٹیوں کی طرف جکاءو ہوتا ہے ۔ عوام پہلے سے زیادہ غربت میں پھنستے چلے جا رہے ہیں ۔ مقتدر حلقے امیر سے امیر ترین ہوتے جاتے ہیں ۔ آصف علی زرداری کی بات کی جائے تو اخبارات میں خبریں شاءع ہوئیں کہ یہ دیہاتوں میں واکی ٹکی سینما چلاتے تھے ۔ کراچی صدر میں بھیبینو سینیما کے ٹکٹ بلیک میں فروخت کیا کرتے تھے ۔ بے نظیر کے دور میں مرد اوّل نے کرپشن کر کے خوب مال بنایا ۔ اندرون اور بیرون ملک جائیدادیں بنائیں ۔ مسٹر ٹین پرسنٹ مشہور ہوئے ۔ اولاد باہر ملکوں سے تعلیم حاصل کرتی ہیں ۔ نواز شریف جب سیاست میں آئے تو ان کے خاندان کی ایک اتفاق فائنڈری تھی ۔ اب عمران خان کے کہنے کے مطابق بڑھ کر گیارہ ملیں بن گئیں ۔ لندن اور دوسرے ملکوں میں کئی جائیدادیں ہیں ۔ بچے باہر تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ باہر تجارت کرتے ہیں ۔ ان حکمرانوں کے خاندانوں کا علاج باہر ہوتا ہے ۔ ان کے حواریوں نے کشتیوں بھر بھر کے پیسے باہر منتقل کیے ۔ پانی کی زیر زمین ٹنکیوں سے کرپشن کے پیسے ڈھونڈے گئے ۔ ماڈل گرل ،فالودے، ریڑھی، پان والے کے نام جعلی اکاءونٹ کے ذریعے منی لانڈرنینگ کرتے رہے ۔ اپنے لگائے ہوئے بندوں کے ذریعے کرپشن کا ریکارڈ جلا دیا جاتا ہے ۔ نیب نے یہ کہتے ہوئے زرداری کے میگا کرپشن کے مقدمے داخل دفتر کر دیتی ہے کہ فوٹو اسٹیٹ پر کرپشن کے مقدمے نہیں چلائے جا سکتے;238;لندن سرے محل کے کاغذات پیپلز پارٹی کا سفیر ٹکانے لگاتے ہوئے ویڈیو کے ذریعے منظر عام پر آیا ۔ نواز شریف فرماتے تھے کی کرپشن کر نے والے کرپشن کے نشان کہاں چھوڑتے ہیں ;238; واقعی نیب کو کرپشن پکڑنے میں کافی محنت کرنی پڑی، تب ہی سزا ہوئی ۔

(جار ی ہے)