- الإعلانات -

صاحبہ اور رابیلی کی بھی سنیئے

صاحبہ اور رابیلی پاکستان کے شہر کراچی میں مقیم تھیں لیکن 2014 میں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کر کے بھارت چلی گئیں ۔ اب وہ بھارت کے علاقے چھتر پور کے بھاٹی مائنس علاقے میں رہائش پذیر ہیں ۔ ایسے کئی اور ہندو گھرانے ہیں جن کو سہانے خواب دکھا کر بھارت بلوایا گیا، مگر اب اُن کا سرپہ ہاتھ ہے ،بلانے اور لے جانے والوں کو دہائیاں دے دے کر پیٹ رہے ہیں ۔ صاحبہ اور رابیلی کہتی ہیں کہ شہریت قانون میں ترمیم کےلئے پارلیمنٹ میں پاکستان میں مقیم بھارتیوں کے نام کو استعمال کیا گیا تھا اور ان کا ہمدرد بننے کی کوشش کی گئی تھی لیکن یہاں بھارت ;200;نے کے بعد حکومت کی جانب سے کسی نے بھی ہمارا حال نہیں پوچھا ۔ ساوتھ ایشین وائر کی رپورٹ کے مطابق صاحبہ اور رابیلی کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں کا نام لے کر وزیر داخلہ امیت شا نے پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل پاس کرایا لیکن ابھی تک ہ میں نہ تو شہریت ملی اور نہ ہی لاک ڈاوَن کے دوران حکومت کی جانب سے کوئی مدد ;200;ئی ۔ ہمارے نام کا استعمال تو کیا گیا لیکن ہماری مزاج پرسی کےلئے بھی کوئی نہیں ;200;یا ۔ صاحبہ اور رابیلی کہتی ہیں کہ جب شہریت ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا اور وزیر داخلہ امیت شا نے ہمارا نام لیا تو ہ میں بہت خوشی ہوئی تھی لیکن اس کے بعد حکومت کی جانب سے کسی نے بھی ہمارا حال نہیں پوچھا ۔ صاحبہ اور رابیلی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ہم نے بھارت کا رخ کیا تو سوچا تھا کہ بھارت میں ;200;نے کے بعد ہمارے سارے دکھ درد ختم ہو جائیں گے اور ہم اپنی زندگی سکون سے گزار سکیں گے‘ ۔ یہ صرف رابیلی یا صاحبہ کی کہانی نہیں بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں ایسے دو ہزار گھرانے بھارتی شہریت بل کے سبزباغ کےلئے خجل خوار ہو رہے ہیں ۔ بھارت کے متنازعہ شہریت کے قانون نے مودی حکومت کے اصل بہروپ سے ایسا پردہ چاک کیا کہ پورا بھارت ہل کر رہ گیا ۔ کورونا وائرس کی وبا نہ ;200;تی تو اب تک بھارت متنازعہ شہریت بل مخالف احتجاج سے گونج رہا ہوتا ۔ بنیادی طور پر یہ اقلیت کش پالیسیوں کا تسلسل ہے جس سے ہندوتوا کو ہوا ملتی ہے ۔ بھارت مذہبی ;200;زادی کےلئے خطرناک ملک بن چکا ہے ۔ مذہبی ;200;زادی کے حوالے ;200;نےوالی حالیہ رپورٹس میں اس کا تذکرہ ہے اور مودی حکومت کو متنبہ بھی کیا گیا ہے کہ اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کرے ۔ مگر اسکا کیا کیا جائے کہ بھارتی میڈیا اپنی منجھی تلے ڈانگ پھیرنے کو تیار نہیں بلکہ پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے ہونےوالا کوئی ایک معمولی واقعے کو بھی خوب اچھال کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان اقلیتوں خصوصاً ہندووں کےلئے محفوظ نہیں رہا، مودی حکومت اسی لئے شہریت ایکٹ لائی ہے تاکہ انہیں تحفظ دینے کےلئے راستہ کھل جائے ۔ رائی کا پہاڑ بنانے کی ایسی ہی ایک اوچھی کوشش گزشتہ دنوں بھارتی میڈیا پر دیکھی گئی جس میں بھاولپور کی تحصیل یزمان میں تجاوزات کےخلاف ;200;پریشن ہوا تو اس کی زد میں چند ہندو فیملی کے مکانات بھی ;200; گئے ۔ یہ ایک ٹوٹلی انتظامی مسئلہ تھا تجاوزات گرانے کا تعلق کسی مذہب یا اقلیت سے نہیں ہوتا ۔ کسی سرکاری زمین پر اگر کوئی رہائشی مکانات تعمیر کرنے لگے تو یہ مقامی ضلعی انتظامیہ کے لئے کھلا چیلنج ہوتا ہے ۔ یزمان واقعہ بھی ایسا ہی کچھ تھا وہاں ہندو کمیونٹی کے ذمہ دار اور متعلقہ یونین کونسل کے سابق اقلیتی کونسلر بھاگے رام نے میڈیا کو بتایا کہ بستی میں مشاورت سے جن زمینوں پر تعمیرات کا فیصلہ ہوا وہ اس بنیاد پر ہواکہ جن کے گھروں میں مزید رہائش کی گنجائش نہیں وہ مزید ;200;گے بڑھا سکتے ہیں اسی لیے بیس افراد نے تعمیرات شروع کردیں ۔ انہیں ;200;بادی کے ہی ایک گروپ نے یقین دلایا کہ وہ زمین انہیں الاٹ ہوگئی ہے لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ انتظامیہ یہاں ;200;پریشن کرنے ;200;رہی ہے تو انہوں نے سول عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا لیکن ان کے بقول انتظامیہ نے چند دن پہلے ;200;پریشن کر کے نئی تعمیرات گرادیں ۔ سندھ میں بھی ہندووں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے،بعض دفعہ اِکا دُکا مقامی نوعیت کے واقعات ہو جاتے ہیں ،جو بعدازاں حل بھی ہو جاتے ہیں لیکن یہاں مقامی سطح پر بھارتی میڈیا کے سلیپر سیل انہیں بڑھا چڑھا کر رپورٹ بھجوا دیتے ہیں ۔ یزمان واقعہ محض تجاوزات کا تھا کچھ قبضہ گروپ اپنی گیم کھیل رہے تھے لیکن انتظامیہ نے پانسہ الٹ دیا ۔ بس اتنی سی بات تھی لیکن اسے بھارتی میڈیا نے مذہبی ;200;زادی سے جوڑنے کی کوشش کی تاکہ عالمی اداروں کی ;200;نکھوں میں دھول جھونکی جا سکے ۔ حال ہی میں امریکی انتظامیہ نے ہندوستان میں مذہبی ;200;زادی پر قدغن لگانے کی مودی حکومت کے اقدامات اور اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کی سخت نکتہ چینی کی تو بی جے پی سرکار خوب سیخ پا ہوئی ۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی طرف سے جاری کردہ بین الاقوامی مذہبی ;200;زادی رپورٹ 2019 کے حوالے سے کہا کہ یہ رپورٹ امریکی پارلیمنٹ کی قانونی ضرورتوں کےلئے شاءع کی جانے والی داخلی دستاویز ہے اور ہندوستانی شہریوں کو ;200;ئین کی طرف سے حاصل اختیارات کے بارے میں کسی غیر ملکی ادارے کو بولنے کا کوئی حق نہیں ۔ بھارتی ترجمان کے اس جواب پر انسانی حقوق کے علمبردار روی نائرکہتے ہیں کہ ہندوستان میں جمہوریت توہے لیکن اقلیتوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ ہندوستان نہیں ہے جہاں ادارے اور تنظی میں سربراہ مملکت کے حکم کے ;200;گے سربسجود ہوجائیں ۔ امریکہ کے ادارے ;200;زاد ہوتے ہیں اور ان کی رپورٹوں پر توجہ دی جاتی ہے ۔ ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے مدنظر امریکی کمیٹیاں ہندوستان کے سرکاری اہلکاروں کوامریکی ویزے نہ دینے اور ہندوستان کو مالی امدادپر قدغن لگانے کی سفارش کر سکتی ہیں ۔ امریکی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ ہندوستان میں حکمراں جماعت بی جے پی سمیت ہندو اکثریتی جماعتوں کے ذمہ داروں نے اقلیتوں کیخلاف اشتعال انگیز بیانات دیے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی گئی ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گائے کے تحفظ کے نام پر تشدد کرنےوالوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ ان کارروائیوں میں قتل، ہجومی تشدد اور ڈرانے دھمکانے کے واقعات شامل ہیں ۔ تشدد برپا کرنےوالوں کو قانونی کارروائی سے بچایا گیا جبکہ متاثرین کےخلاف ہی کارروائی کی گئی ۔ گزشتہ سال دسمبر میں ہندوستانی پارلیمان سے منظور شہریت ترمیم قانون کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ قانون پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے ;200;ئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائیوں کو شہریت دینے کی وکالت کرتا ہے لیکن مسلمانوں ، یہودیوں ، لامذہب اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ایسی سہولت دینے سے انکار کرتا ہے ۔ اس سے قبل مذہبی ;200;زادی سے متعلق امریکی کمیشن نے بھی ہندوستان میں اقلیتوں پر ہونےوالے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے حوالے سے کبھی بھی ایسی رپورٹس نہیں آئیں ،پاکستان کے بعض اقدامات کی تعریف کی جاتی ہے،اوپر جس رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے اسی میں پاکستانی قدامات کی ستائش کی گئی ہے ۔