- الإعلانات -

اوآئی سی کا اجلاس۔۔۔کشمیرکی بگڑتی صورتحال پرگہری تشویش

بھارت کی کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور نسل کشی سترسال سے جاری ہیں ۔ تین سو دن سے زائد کے لاک ڈاوَن اور انڈین سکیورٹی فورسز کے محاصرے،شہریوں کو بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کو ترسنے پر ہلاکو خان اور چنگیز خان کا ظلم بھی شرما گیا ہے ۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سترسال سے جاری اس ظلم و بربریت کو رکوانے میں ناکام رہی ہے ۔ آج پھر بھارت علاقائی امن کو تہہ و بالا کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ اسی صورتحال کومدنظررکھتے ہوئے22 جون کوپاکستان کی درخواست پر جموں و کشمیر سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ نے جموں و کشمیر کی صورتحال کے پس منظر کیخلاف ایک مجازی اجلاس منعقد کیا ۔ آن لائن اجلاس میں جمہوریہ آذربائیجان، جمہوریہ ناءجر، اسلامی جمہوریہ پاکستان، مملکت سعودی عرب، اور جمہوریہ ترکی کے وزرائے خارجہ نے اجلاس میں شرکت کی ۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف اے التثمین نے اجلاس کا افتتاح کیا اور اسلامی سربراہی اجلاس، وزرائے خارجہ کی کونسل، اور بین الاقوامی کے متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے معاملے کے پرامن حل کےلئے او آئی سی کے عزم پر زور دیا ۔ قانونی حیثیت العثیمین نے کہا، ;3939;اسی کے ساتھ ہی، میں عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ کشمیری عوام کو کئی دہائیوں سے ان کے جائز حقوق کے فیصلہ کن طریقے سے استعمال کرنے میں مدد کےلئے اپنی کوششوں کو تقویت بخشے ۔ رابطہ گروپ نے جموں وکشمیر کے عوام کےلئے جاری حمایت کی توثیق کی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اچھے دفاتر کا استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کرے اور صورتحال کو پرسکون کرنے کےلئے بات چیت میں مشغول رہے رابطہ گروپ نے ہندوستان سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں وکشمیر کے عوام کیخلاف سیکورٹی آپریشن فوری طور پر رکوائے، بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے، متنازعہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے سے باز رہے، اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت تنازعہ کو حل کرے ۔ دریں اثنا رابطہ گروپ نے جموں و کشمیر کے اپنے خصوصی ایلچی کے ذریعے او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی جانب سے مارچ 2020 میں اس خطے کا دورہ کرنے والی کوششوں کی بے حد تعریف کی ۔ اس اجلاس کے بعد جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ نے جموں و کشمیر خطے میں حالیہ پیشرفتوں کے بارے میں ایک بیان جاری کیا جس میں اس نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین صورتحال کو پرسکون کرنے کےلئے کچھ ممبر ممالک کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے ۔ اجلاس میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، صدر آزاد کشمیر اور او آئی سی میں پاکستان کے مستقبل نمائندے رضوان سعید شیخ بھی موجو د تھے ۔ او ;200;ئی سی رابطہ گروپ اجلاس میں کشمیریوں کی جدوجہد ;200;زادی کی حمایت کی گئی ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ورچوئل اجلاس میں مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کی مخالفت کی گئی اور زور دیا گیا کہ مسئلہ امت مسلمہ کا اہم معاملہ ہے ۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں نئے بھارتی ڈومیسائل قانون کو مسترد کیا گیا اور شرکا کنٹرول لائن کی بھارتی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کیا ۔ بھارت سے تمام گرفتار کشمیریوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ علاوہ ازیں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں دونوں رہنماوں نے کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال، دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں رہنماءوں نے بھارت کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 80لاکھ مظلوم کشمیریوں کو ظلم سے نجات دلانے کےلئے عالمی برادری بالخصوص مسلم امہ کو فوری طور پر اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے ۔ انہوں نے سعودی فرمانروا اور سعودی ولی عہد کی جانب سے طیارہ حادثہ کے حوالے سے تعزیتی پیغام اور اظہار ہمدردی پر سعودی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا ۔ نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھا کر خود کو نام و نہاد فوجی طاقت کا زعم لئے بھارت پر جارحیت کا خمار سوار ہے ۔ لداخ میں چین بھارت کو سبق سکھانے اور اس کاجنگی جنوں اتارنے کےلئے لشکر کشی کےلئے پر عزم ہے جن کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے بھارت کے اوسان خطا ہیں ۔ آزادی کشمیریوں کا حق ہے بھارت کا کشمیر کی متنازعہ حیثیت بدلنے کی کوشش کو سفارت و فوجی اور اخلاقی لحاظ سے ناکام بنانے کی ضرورت ہے ۔

کراچی طیارہ حادثے کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی

کراچی میں طیارے حادثے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کردی گئی ہے جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر حادثے کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی ۔ عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں پائلٹس، ایئر ٹریفک کنٹرولر، پی آئی اے، سول ایوی ایشن کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے تاہم فنی خرابی بھی خارج از امکان نہیں کہا گیا، رپورٹ کے مطابق طیارے کے آلات اور سسٹمز کی جانچ پڑتال جاری ہے، پہلی لینڈنگ پر جہاز رن وے سے ٹکراگیا، دوبارہ اڑانے پر انجن فیل ہوگئے ۔ حادثے میں انسانی غلطی کا امکان زیادہ ہے،حادثے کے بعد جہاز کے پرزے رن وے پر موجود رہے، ایئر ساءٹ یونٹ نے اکٹھے نہیں کئے ۔ وزیر شہری ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا کہ اس حادثے کی رپورٹ سمیت پچھلے دس سال کے حادثات کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کروں گا ۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے پائلٹوں کو جعلسازی کے ذریعہ لائسنس جاری کرنے اورپی آئی اے میں جعلی ڈگریوں پر بھرتی سے متعلق بھی رپورٹ طلب کی ہے ۔ رپورٹ میں طیارے کے ڈیٹا فلاءٹ ریکارڈر، کاک پٹ وائس ریکارڈر سے ملنے والی معلومات، لاہور سے کراچی پرواز کا ائیرٹریفک کنٹرول سے حاصل ریکارڈ بھی میں شامل ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لینڈنگ کے وقت طیارے کے کاک پٹ کریو نے ائیرٹریفک کنٹرولرکی ہدایات کو نظر انداز کیا اور ائیرٹریفک کنٹرولربھی اپنی ہدایات پرعمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ۔ رپورٹ میں شواہد، کپتان کا ڈیوٹی روسٹر، ایئر ٹریفک کنٹرولر میں گفتگو، طیارے کی بیلی لینڈنگ، رن وے پر انجن کے رگڑنے کی فوٹیج وفاقی وزیر کو دکھائی گئی جبکہ حادثے کا شکار طیارے کا فلاءٹ ڈیٹا، کاک پٹ وائس ریکارڈرسے ملنے والی معلومات بھی رپورٹ کا حصہ ہے ۔

;3939;خاتم النبیین;24834; لازمی لکھنے ،بولنے اور پڑ ھنے بارے قرارداد منظور

قومی اسمبلی میں نصابی کتب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کے نام کیساتھ;3939;خاتم النبیین;24834; لازمی لکھنے ،بولنے اور پڑ ھنے کیلئے متفقہ قرارداد منظور کرلی گئی ۔ قرارداد وزیر مملکت علی محمد خان نے پیش کی جبکہ قرارداد مسلم لیگ (ن) کے رکن نور الحسن تنویر نے تجویز کی ۔ قومی اسمبلی اجلاس میں مسلم لیگ( ن) کے نورالحسن تنویر نے کہا کہ پنجاب اور کے پی کے میں ساتویں ، آٹھویں اور نویں جماعت کے نصاب سے نبی کریم;248; کے نام کے ساتھ ;3939;خاتم النبیین;24834; کو ختم کیا جارہا ہے ، اسکانوٹس لیا جائے تاکہ نبی کریم ;248;کے نام کے ساتھ ;3939;خاتم النبیین;24834;کو لکھا رہنے دیا جائے ۔ لیگی رکن کی کی تجویز پر وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے اتفاق رائے سے قرارداد پیش کی جس کی تمام پارلیمانی جماعتوں نے حماءت کی ۔ وزیرمملکت علی محمد خان نے متفقہ قرارداد ایوان میں پیش کی جس میں کہا گیا کہ تمام درسی کتابوں اور تعلیمی اداروں میں جہاں جہاں محمد;248; کا نام مبارک آتا ہے اس کے ساتھ لفظ ;3939;خاتم النبیین;24834; لکھنا، پڑھنا اور بولنا لازمی ہوگا ۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امجد نیازی نے کہا کہ آخری خطبہ میں نبی پاک نے واضح کردیا تھا کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور وہ آخری نبی ہیں ، ایوان نے قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرلی ۔