- الإعلانات -

موجودہ حکومت اور ملازمین ۔ ۔ ۔ !

وطن عزےزپاکستان میں المیہ ےہ ہے کہ جب سےاست دان اپوزےشن میں ہوتے ہیں تو وہ بولتے اور سمجھتے کچھ اور ہیں لیکن جےسے ہی ےہ حکومت میں آجاتے ہیں تو انہی سےاستدانوں کی ٹےون اور ادراک میں تبدےلی آجاتی ہے ۔ اُن کواپوزےشن میں عوام اور سرکاری ملازمین اچھے نظر آتے ہیں لیکن حکومت میں آتے ہی عوام جاہل اور سرکاری ملازمین کام چور نظر آنے شروع ہوجاتے ہیں ۔ جب سےاستدان اپوزےشن میں ہوتے ہیں تو عوام اور سرکاری ملازمین کےلئے نوےد سناتے ہیں لیکن جےسے ہی حکومت کے اےوانوں میں پہنچتے ہیں تووہ اپنے وعدے بھول جاتے ہیں ۔ اپوزےشن میں ہوتے ہیں تو ان کو عوام اور سرکاری ملازمین کے مفادات عزےز ہوتے ہیں لیکن حکومت میں آتے ہی ان کے ترجےحات تبدیل ہوجاتی ہیں ۔ جب سےاستدان اپوزےشن میں ہوتے ہیں تو عوام اور سرکاری ملازمین کوبہت کچھ دےنے کی باتےں کرتے ہیں لیکن اقتدار میں آتے ہی عوام کی جےبوں سے نکال کر پارلیمنٹیرےن اور ان کے عزےز و اقارب کو نوازنا شروع کردےتے ہیں ۔ سےاستدان اپوزےشن میں ہوتے ہیں تو عوام کو اہم سمجھتے ہیں لیکن اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہی وہ عوام کوعام سمجھنے لگتے ہیں بلکہ کےڑوں مکوڑوں جےسے سمجھنے لگتے ہیں ۔ اگر ےقےن نہ آئے تو آپ گذشتہ بےس پچےس سال کا رےکارڈ چےک کرلیں ،آپ پر سب کچھ واضح اور نماےاں ہوجائے گا ۔ موجودہ وزےراعظم عمران خان نے لوگوں کو بہت زےادہ سرسبز باغ دکھائے تھے لیکن دھےرے دھےرے وہ سب صحرا کے سراب بن رہے ہیں ۔ عمران خان نے ہر بات پر ےو ٹران لیا ہے جوکہ کسی لحاظ سے مناسب نہیں ہے ۔ پی ٹی آئی کے بانی اور پرانے ورکرز کسی لحاظ سے بھی موجودہ صورت حال سے خوش نہیں ہیں ۔ بانی اور پرانے ورکرز لوگوں کو نےا اور بہترےن پاکستان دےنا چاہتے تھے اور چاہتے ہیں لیکن عصر حاضر میں عمران خان کے آس پاس تقرےباً وہی لوگ ہیں جو ہر حکومت میں ہوتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے بانی اور پرانے ورکرزکو حکومتی انصرام میں شامل نہیں کیا جارہا ہے ۔ اگر عمران خان کے پاس حکومت میں پی ٹی آئی کے بانی اور پرانے ورکرز قرےب ہوتے تو ان کو اےک بھی ےوٹرن لینے کی ضرورت نہ پڑتی ۔ آج وزےراعظم ، گورنر اور وزرائے اعلیٰ کے ہاءوسز بہترےن ےونےو رسٹی میں تبدےل ہوتے ۔ آئی اےم اےف سے قرض لینے کی نوبت نہ آتی ۔ حکومتی غےر ضروری اخراجات ختم ہوتے ۔ اےم اےن اےز اور اےم پی اےز وغےرہ کی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافے نہ ہوتے ۔ مشےروں کے لشکر کی ضرورت نہ پڑتی ۔ سب سے چھوٹا کابےنہ ہوتا ۔ ہر شخص کو انصاف ملتا ۔ ہر شخص مطمئن ہوتالیکن حقےقت ےہ ہے کہ اس وقت حالت بالکل برعکس ہیں ۔ وزےراعظم عمران خان رےاست مدےنہ کی مثالیں دےتے ہےں ۔ حضرت عمر ;230; کے دور خلافت میں اسلامی رےاست 22 لاکھ مربع میل سے زےادہ رقبے پر مشتمل تھی لیکن اس وقت حکمران طبقے کےلئے کتنے محلات نما ہاءوسز تھے;238; پاکستان رےاست مدےنہ سے کتنا گنا چھوٹا ملک ہے لیکن ےہاں محلات نما صدر ،وزےراعظم ، گورنرز اوروزرائے اعلیٰ ہاءوسز کیوں ہیں ;238; اگر سابقہ حکومتوں نے ےہ محلات بنائے ہیں تو عمران خان اپنا وعدہ پورا کرکے ان کو ےونےورسٹےوں میں تبدےل کیوں نہیں کرتے ;238; وزےراعظم عمران خان کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ چند عملی اقدامات اٹھا کر ملک اور ملت کی تقدےر بدل سکتے ہیں ۔ پاکستان میں ممبران پارلیمنٹ امےر ترےن لوگ ہیں ۔ اگر کوئی غربت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ بالکل سفےد جھوٹ بولتا ہے ۔ وزےراعظم ،ممبران قومی وصوبائی اسمبلی وسےنٹ خدمت کررہے ہیں ،ملازمت نہیں کررہے ہیں ۔ ےہ تنخواہ اور مراعات نہ لیں ۔ اگر تنخواہ لازمی لےنی ہے تو پھر اےک مزدور کے برابر لیں ۔ اگر اس تنخواہ میں ان کا گزارہ نہیں ہوتا ہے توپھر مزدور کا گزار ہ کیسے ہوتا ہوگا;238; خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدےق ;230;کا قول ہے کہ جب مزدور کے برابرتنخواہ میں گزارہ نہیں ہوگا تو مزدور کی مزدوری میں اضافہ کردوں گا ۔ لیکن وطن عزےز پاکستان میں سب معاملات ہی الٹ ہیں ۔ ےہاں الٹی گنگا بہتی ہے ۔ ممبران اسمبلی اپنی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافے کرتے ہیں اور خزانہ بھرا ہوتا ہے لیکن غرےب مزدور اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں محض چند فی صد اضافے کےلئے خزانہ خالی ہوتا ہے;238; سرکاری ملازمین صبح سے سہ پہر تک اور بعض اوقات رات تک دفاتر اور کام پر موجود ہوتے ہیں ۔ ان ملازمین کی وجہ سے سرکاری امور بخوبی سرانجام پاتے ہیں ۔ ان ملازمین کے باعث ملک کے تمام کام بطرےق احسن ہورہے ہیں ۔ بعض اوقات ےہ ملازمین اپنے گھروں اور رشتہ داروں کی خوشی و غمی کی تقرےب میں شرکت نہیں کرسکتے ہیں ۔ مہنگائی میں جتنا فیصد اضافہ ہوجائے ،ےہ اپنی تنخواہوں میں اےک فیصد اضافہ نہیں کرسکتے ہیں ۔ محض چند فی صد ملازمین رشوت ےا کمیشن ےا چائے پانی وصول کر تے ہیں لیکن سب ملازمین کےلئے ےہ ممکن نہیں ہے اور ان سب کا ضمےر بھی گوارہ نہیں کرتا کہ اپنے بچوں کو حرام کھلائےں ۔ اپنے اور بچوں کو جہنم کا اےندھن بنائےں ۔ چند لمحات کی راحت کےلئے اپنی ہمیشہ کی زندگی تباہ کردےں ۔ اےک طرف مہنگائی کے اژدہے نے منہ کھول رکھا ہے تو دوسری طرف ضمیر اور آخرت کا بھےانک انجام ہے ۔ اب ملازمین بے چارے جائےں تو کہاں جائےں ;238;رےٹائرڈ ملازمین نے اپنی زےست کا اہم حصہ رےاست کو دیا ہے ۔ ان بزرگ رےٹائرڈ ملازمین نے اپنی خوشی اور غمی رےاست کےلئے قربان کی ہیں ۔ جوانی سے بڑھاپے تک ملک کی خدمت کی ہے ۔ اب ےہ لوگ بڑھاپے میں ہیں ۔ بڑھاپے میں آئی اےم اےف کی وجہ سے ان کی پنشن میں اضافہ نہ کرکے انکو پرےشان کےا جارہا ہے ۔ رےاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان رےٹائرڈ ملازمین کا خیال رکھےں ۔ ان کو سکھ دےں اور مہنگائی کے اضطراب سے محفوظ رکھےں ۔ اگر حقےقت میں خزانہ خالی ہے تووزےراعظم عمران خان اپنے سمےت سب کی تنخواہ سولہ ہزار روپے مقرر کرےں ورنہ پھر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کم ازکم 100 فی صد اضافہ کرےں کیونکہ اس ہوش رُبا مہنگائی میں جسم اور روح کا رشتہ قائم رکھنا آسان نہیں ہے ۔