- الإعلانات -

عالمی معیشت اور آئی ایم ایف کے تحفظات

کوروناوائرس کی وباء سے پوری دنیاکی معیشت لڑکھڑاگئی ۔ پاکستان کی معیشت جوپہلے ہی مشکل سے دوچارتھی جس پر آئی ایم ایف کے قرض کابوجھ پڑاہواتھا کوروناوائرس کا پھیلاءو روکنے کیلئے لاک ڈاءون کی صورت میں اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجہ میں معیشت بری طرح متاثر ہوئی جبکہ اسے کورونا متاثرین اور لاک ڈاءون سے بے روزگار ہونیوالے لاکھوں افراد کی بحالی اور اسی طرح چھوٹے کاروبار والوں کے نقصانات کے ازالہ کیلئے ارب ہا روپے کے خصوصی ریلیف پیکیج بھی دینا پڑے جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑا ۔ وزیراعظم عمران خان کو دنیا کے ترقی یافتہ امیر ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے کورونا کی زد میں ;200;ئے غریب اور پسماندہ ممالک کے قرضوں میں ریلیف دینے کی اپیل کرنا پڑی ۔ انکی اس اپیل کے خاطرخواہ نتاءج بر;200;مد ہوئے ۔ ابھی پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاءو جاری ہے اورروزانہ کی بنیاد پر کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ یقینا اب پاکستان کےلئے معیشت کو اپنے پاءوں پرکھڑاکرنابہت بڑاچیلنج ہے ۔ کورونا وائرس کے باعث عالمی معیشت کو 100سالہ بدترین بحران کا سامنا ہے ،عالمی مالیاتی ادارے نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے جو معاشی بحران پیدا ہوا اس کی مثال نہیں ملتی ۔ آئی ایم ایف نے کورونا سے معیشت کی غیر معمولی تباہی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عالمی وباکے باعث دنیا کی جی ڈی پی رواں برس 4;46;9 فیصد تک سکڑ گئی ، کورونا سے 2سال کے دوران دنیا کی دولت میں سے 12ہزار ارب ڈالر نکل جائیں گے ۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ رواں برس پاکستان کی شرح ترقی مائنس 0;46;4فیصد اور 2021 میں ایک فیصد رہے گی ، اس سے قبل آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا تھا کہ پاکستان میں شرح ترقی رواں برس 1;46;5فیصد اور آئندہ برس 2فیصد تک رہنے کا امکان ہے تاہم اب اس میں نصف تک کمی کردی ہے ۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق دنیا کو تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے ، کووڈ19 کے باعث دنیا بھر میں کاروبار بند ہوگئے جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد بے روزگار ہوگئے جبکہ بہتری کے حوالے سے ابھی حالات موافق نہیں ہیں ، معیشت کی بحالی کے امکانات بھی خطرے سے دوچار ہیں ۔ آئی ایم ایف کے مطابق کئی ممالک کو کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ کساد بازاری 2008-09 کے عالمی معاشی نقصان سے بھی دگنا ہوگا ، آئی ایم ایف کے مطابق چین دنیا کی واحد معیشت ہوگی جو رواں برس ترقی کریگی تاہم وہ بھی صرف ایک فیصد بڑھے ہوگی ۔ امریکی معیشت 8فیصد تک سکڑ جائیگی جبکہ جرمنی کی معیشت اس سے کچھ کم یعنی 7فیصد تک کم ہوگی، جاپان کی معیشت 5;46;8 فیصد تک کم ہوگی ، اسی طرح فرانس، اٹلی، اسپین اور برطانیہ سمیت یورپی معیشتوں کا نقصان دو ہندسوں میں ہوگا ۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے معاشی بحران سے کم آمدنی والے ممالک اور شہری زیادہ متاثر ہونگے جبکہ غربت کے خاتمے کی کوششوں کو سنگین نقصان ہوگا ۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ اس سال پاکستان کی گروتھ منفی صفر اعشاریہ چار فیصد رہے گی، کورونا سے عالمی معاشی بحران توقعات سے زیادہ سنگین ہوگا، جنوری تا مارچ 2021 میں مزید مالی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔ آئندہ مالی سال بھارتی شرح نمو منفی 1;46;4 فیصد ہوسکتی ہے، بھارتی شرح نمو پاکستانی شرح نمو سے بھی زیادہ گریگی ۔ دوسری جانب یہ بھی ایک خوش آئند امرہے کہ پاکستان کوعالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایک ارب ڈالرموصول ہوگئے جس سے کورونا وباء کے دوران معیشت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی جبکہ درآمدات میں زبردست کمی سے پاکستان کا جاری کھاتے کا خسارہ مثبت ہوگیا ہے مئی میں کرنٹ اکاءونٹ ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر سرپلس رہا ۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے 50کروڑ ڈالراور ورلڈ بینک نے بھی 50 کروڑ ڈالر کا قرضہ فراہم کردیاہے جس کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 17 ارب 77 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملنے والی 50کروڑ ڈالر کی رقم کورونا کا مقابلہ کرنے کےلئے ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر بنانے پر خرچ ہوگی اسی طرح ورلڈ بینک سے موصول ہونےوالے 50کروڑ روپے ہیلتھ کیئر سسٹم کی بہتری کے ساتھ تعلیم کے شعبہ کی ترقی کےلئے استعمال ہونگے ۔

کپتان کی وزراء کو ڈیڈلائن

وزیراعظم عمران خان کابینہ کے کئی وزراء کی کارکردگی اور رویے سے ناخوش ہیں لیکن انہیں برطرف کرنا سیاسی لحاظ سے ان کیلئے ممکن نہیں ،اپنی حکومت میں وزیراعظم نے متعدد مرتبہ اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے اور صرف ایسے ہی افراد کو کام کرنے کی اجازت دیں گے جو کام کر کے دکھائیں گے ۔ رواں سال مارچ میں وزیراعظم نے اپنی کابینہ کے کچھ وزیروں کے غیر پیشہ ورانہ رویے پر بیزاری کا اظہار کیا اور یہ تک کہا کہ جب حکومت کے وزیروں کے بیانات ہی مشکلات پیدا کرنے کیلئے کافی ہوں تو اپوزیشن کو کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ رواں سال اپریل میں بھی وزیراعظم نے اپنے کچھ وزرا کے غیر پیشہ ورانہ رویے پر ناراضی ظاہر کی اور تمام وزیروں سے کارکردگی کی رپورٹس طلب کیں اور ساتھ ہی اشارہ دیا کہ جو لوگ ہدف کے مطابق کارروائی نہیں دکھائیں گے انہیں برطرف کر دیا جائے گا اور اب ایک مرتبہ پھر وزیراعظم عمران خان نے اپنے وزراء کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی 6 ماہ میں درست کرلیں ، ناکامی کی صورت میں معاملات ہاتھوں سے نکل سکتے ہیں ۔ اب جبکہ عمران خان نے فواد چوہدری کو مزید بات کرنے سے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ کابینہ کے ارکان بحث و مباحثے میں احتیاط سے کام لیں اور پارٹی کی صفوں میں اتحاد کو نقصان نہ پہنچائیں ۔ تحریک انصاف کی حکومت کو دو سال کا عرصہ گزرنے کو ہے مگر حقیقی تبدیلی کا سورج دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ ہرطرف بادل چھائے ہوئے ہیں ۔ اب کپتان اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کےلئے مصروف عمل ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کی پوری کوشش ہے کہ وہ عام انتخابات میں عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کریں اور ہراجلاس میں وہ وزراء کوکارکردگی بہتربنانے کی بھی ہدایت کرتے ہیں ۔ اختلافات تو ہرپارٹی میں ہوتے ہیں مگرکپتان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ ہرایشو کو عوام کے سامنے لاتے ہیں ۔ یقیناً وزیراعظم نے اپنے وزراء کوڈیڈلاین دیکر یہ ثابت کیا ہے وہ عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ برداشت نہیں کرینگے اورعوامی خدمت کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ۔ اب وزراء کو بھی چاہیے کہ وہ باہمی اختلافات کوبالائے طاق رکھ کرکام کریں ۔

بدترین لوڈشیڈنگ۔۔۔کے الیکٹرک عوام پررحم کرے

کراچی میں غیراعلانیہ بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ رک نہ سکا ۔ گھروں میں قرنطینہ کیے گئے کورونا کے سیکڑوں مریضوں کی حالت مزید خراب ہونے لگی ۔ کے الیکٹرک نے بعض علاقوں میں چوبیس گھنٹے میں مجموعی طور پر آٹھ سے دس گھنٹے تک بجلی بند کی ۔ گزشتہ ایک ہفتے سے شدید گرمی میں با ر بار کی لوڈ شیڈنگ سے لوگ تنگ آچکے ہیں اور انہوں نے سڑکوں پر آ کراحتجاج کرنا شروع کر دیا ہے ۔ ایک طرف لاک ڈاءون میں عوام کو گھروں میں رہنے کاپابندکیاگیاہے تو دوسری جانب گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کر کے شہریوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر رہی ہے دن اور رات کو بجلی کے باربار تعطل سے لوگوں کے معمولات زندگی بری طرح متا ثرہو رہے ہیں دفاتر کے کام بھی مشکلات ہیں صارفین نے کے الیکٹرک کے اس موقف کو بہانہ قرار دیا کہ فرنس آئل اور گیس کی کمی کے باعث پیداوار کم ہو رہی ہے ۔ شدید گرمی میں بدترین لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کردیا اورپانی کا بحران بھی سنگین شکل اختیار کرگیا ہے جس کی وجہ سے سخت گرمی میں شہریوں کا براحال ہے جبکہ لوڈ شیڈنگ اور گرمی کی وجہ سے اسمارٹ لاک ڈاءون والے علاقوں میں گھروں قرنطینہ کیے گئے کورونا کے سینکڑوں مریضوں کی حالت بھی مزید خراب ہونے لگی ہے ۔ شدید گرمی ،کورونا کی وبا کے با وجود شہر بھر بجلی کی طویل بندش کے باعث شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ۔ کے الیکٹرک کے ستائے شہری سڑکوں پر نکل آئے اور طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کیا ۔ وفاقی، صوبائی حکومت یا دیگر مقتدر اور با اختیار اداروں کی جانب سے نوٹس نہ لیا جانا افسوسناک ہے ،کے الیکٹرک انتظامیہ عوام پر رحم کرے ،کے الیکٹرک کی جانب سے اب تک لوڈ شیڈنگ کے باقاعدہ شیڈول اور اوقات سے صارفین کو مطلع نہیں کیا گیا ہے جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے ۔