- الإعلانات -

طارق عزیز ایک عہد

اس دنیا میں نیکی اور بدی ساتھ ساتھ چل رہی ہے ۔ کوئی نیکی کما کر اپنی آخرت سنوار رہا ہے اور کوئی بدی کما کر اپنی آخرت خراب کر رہا ہے ۔ ان دونوں کردار والے کو پاکستان بننے کے بعد سے ریڈیو پر نشر ہونے والے ڈراموں اور ٹی وی ٹاک شوز;241; ٹی وی ا ینکرز کو ہم ایک مدت سے دیکھتے آئے ہیں ۔ ان میں سے ایک نیک دل انسان’’ دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں ‘‘کا فقرا دھراتے ہوئے ببر شیر کی طرح اپنے پروگرام ’’نیلام گھر ‘‘اور بعد میں ’’طارق عزیز‘‘ شو پر چھا جانےوالے طارق عزیز اپنے اللہ کے پا س اپنی نیکیوں لے کر پہنچ گئے ہیں ۔ برائیاں پھیلانے والوں میں سے، جو مر گئے اللہ ان کے گناہ معاف فرمائے ۔ جو زندہ ہیں اُن کے طارق عزیز کے نقش قدم پت چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ پاکستان بننے کے بعد اخبارات اوربرقی ذراءع ابلاغ ریڈیو اور ٹی وی جن سے قوم کو اسلامی تعلیم ملنی چاہیے تھی نہیں ملی ۔ میڈیا کو بانی پاکستان کے تحریک پاکستان کے دوران ، پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ شیخ محمد اقبال;231; اور اس میں عملی رنگ بھرنے والے ،دوقومی نظریہ کے بانی حضرت قائد اعظم محمد علی جناح;231; کے اسلامی وژن پر تربیت کر نے اور اپنے اسلاف کی شاندار تاریخ، تہذیب ، تمدن اور کلچر سے روشنا س کرانا تھا ۔ مگر پاکستان بننے کے بعد ا ن ذرایع ابلاغ مذہب بیزار کیمونسٹوں ، روشن خیالوں ، سیکولرز اور لبرلز حضرات نے قبضہ کر لیا ۔ ان حضرات نے جم کر کیمونسٹ نظریات اور لبرازم کا پرچار کر پاکستان کے اسلامی تشخص کونقصان پہنچایا ۔ شروع دنوں عام آدمی ریڈیو کو تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اپنے ہاتھوں میں لیے پھرتے تھے ۔ دیہاتوں میں چوپال میں ریڈیو رکھا ہوتا تھا ۔ کسانوں نے اپنے ٹریکٹروں پر لٹکایا ہوتا تھا ۔ ریڈیو پر فحش گانے آن ایئر کیے جاتے ۔ ہاں ریڈیو کا ایک پروگرام دن کےء پچھلے پہر ا آن ایئر ہوتا تھا، مجھے بہت پسند تھا ۔ پچھلے پہر ہم شام سے پہلے سامنے ریڈیو رکھ پر بیٹھ جاتے ۔ یہ پروگرام ریڈیو آزاد کشمیر تڑار کھل سے آن ایئر کیا جاتا تھا ۔ اس پروگرام میں مقبوضہ کشمیر پر قبضے کی وجہ سے بھارت پر تنقید کی جاتی تھی ۔ پروگرام میں دو کردار میر صاحب اور اللہ لوکی‘‘ تھے ۔ میرصاحب اُ ردو اور اللہ لوکی ڈیٹھ پنجابی زبان میں بھارت پر طنزیہ انداز میں بات کیا کرتے تھے ۔ اس پروگرام میں دونوں حضرات باتوں باتوں میں پاکستان سے محبت ، اس کے دفاح اور بانی پاکستان کے اسلامی تشخص اوراسلامی وژن پر بات کرتے تھے ۔ یہ پروگرام میرے ذہن میں تھا ۔ جب پاکستان میں ٹی وی آیا ۔ مرحوم طارق عزیز کا ’’ طارق عزیز شو‘‘ بھی ویساہی لگا ۔ طارق عزیز نے اپنے پرگرموں میں پاکستان قوم کی تربیت کی ۔ ان کے پرگرواموں کو فیملی کے ساتھ دیکھنے میں کو ئی دقت محسوس نہیں ہوتی تھی ۔ کبھی کسی نئے شادی شدہ جوڑے کو پیش کرتے تھے ۔ اخلاق کے دائرے میں رہ کر آگے آنے والی زندگی کو خوشگوار گزارنے کی باتوں باتوں میں تعلیم دیتے تھے ۔ ایسے کئی پروگراموں میں خواتین و مرد کوماں ، بہن ،بیٹی اور بیوی ۔ مردوں کوباپ، بھائی اور دادا کے روپ میں پیش کرتے تھے ۔ اپنے دلنشین الفاظ میں ان مقدس رشتوں کے تقدس کی تعلیم دیتے تھے ۔ اگر ملک پاکستان سے محبت کی بات کی جائے، تو ایک پروگرام اس طرح کیا ۔ پروگرام میں بیٹھے مرد خواتین اور بچوں کی تربیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ میرے تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ عمرانیت کے دانشوروں کا فیصلہ ہے کہ جن ملکوں کے پاس چار چیزیں ہوں وہ ملک شاندار کہلا سکتے ہیں ۔ ایسے ملکوں کی لیڈر شپ صحیح ہو تو ملک کو ترقی کے منازل طے کر سکتے ہیں ۔ پہلی چیز ،کیا کسی ملک کے پاس پاس سمندری ساحل ہے ۔ ہاں پاکستان کے پاس پسنی سے پورٹ قاسم تک پندرہ ہزار کلومیٹرلمبا ساحل موجود ہے ۔ اس میں گوادر،کراچی اور قاسم پورٹ گہری سمندری پورٹس ہیں ۔ دوسری چیز، کیا کسی ملک کے پاس بلندپہاڑ ہیں ۔ ہاں پاکستان میں دنیا کی آٹھ بڑی پہاڑی چوٹیوں میں چھ بڑی چوٹیاں موجود ہیں ۔ تیسری چیز،کیا کسی ملک میں میدان موجود ہیں ۔ ہاں پاکستان کے کل رقبے کا چالیس فی صد میدانی علاقہ گجرات سے کراچی تک موجود ہے ۔ چھوتی چیز،کیا کسی ملک کے پاس صحرا ہیں ۔ ہاں پاکستان کے پاس بہاول پور کے قریب چولستان اورمیر پورخاص کے قریب تھر کا صحراموجود ہے ۔ دیکھیں کس طرح ایک ٹی وی پروگرام میں ایک نیک دل ٹی وی ٹاک شو کرنےوالا طارق عزیز پاکستانیوں کو باتوں باتوں معلومات کے ساتھ اپنے ملک مثل مدینہ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان سے محبت سکھاتا ہے ۔ پہاڑ بارشوں کا سبب،بندر گائیں اشیا کی در آمند برامند کا سبب،میدان غلے اُگانے کا سبب اورصحرا معدنیات سبب ہوتے ہیں ۔ طارق عزیز کے سارے پروگراموں میں ایسی ہی جھلک نظر آتی تھی ۔ طارق عزیز دیرینہ اولاد نہ ہونے کے سبب اپنے سارے اثاثے حکومت پاکستان کے حوالے کر گیا ۔ دوسری طرف برائی کمانے والے ٹی وی پروگرامر کی بات کی جائے تو نمائیں ، عالم آن لائین ‘‘ والے ٹی وی پروگرامر نظر آتے ہیں ۔ ان صاحب کی ڈاکٹریٹ پر بھی سوال اُٹھتے رہے ۔ جس کی پرائیویٹ داغ دار زندگی پر بھی ویڈیو سامنے آتیں رہیں ۔ ملک کے سب سے بڑے پاکستان کے دشمن ٹی وی چینل جو ملک کی مایا ناز خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر اس کے ڈاریکٹر کا فوٹو لگا کر کئی گھنٹے بغیر ثبوت کے اپنے ایک ٹی اینکر پر قاتلہ حملہ کی خبر نشر کرتا رہا ۔ یہ ٹی وی اینکر پاکستان کی فوج پر الزام تراشی کرتا رہتا ہے ۔ بنگلہ دیش میں اپنے مرحوم قومیت پرست والد کا ا نعام وصول کرنے بنگلہ دیش گیا ۔ وہاں پاکستان فوج پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کی بات کی ۔ جس کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے ۔ ’’عالم آن لائن ‘‘کا پروگرمر اپنے پروگراموں میں نامناسب طر ز عمل ، غیر معیاری گفتگو ، شوشہ پن اورمذہب کے خلاف رویہ کی وجہ سے اس کے پروگرام کو عوام’’جاہل آن لائن‘‘ کے نام سے یاد کیاکرتے تھے ۔ ایک دفعہ تیش میں آکر ایک ٹی وی انٹر ویو میں اپنی بھڑاس طرح نکالی ۔ ’’ جاہلو میں عالم نہیں ہوں ‘‘ یہ شخص برائی کا مجسمہ ہے ۔ اس نے اپنے پروگراموں عالموں کو بلا کر اختلافی باتیں اُچھالیں ۔ رمضان کے مہینے کا تقدس مجروح کیا ۔ صبر، تقویٰ، نیکیوں کی بہار، گناہوں سے مغفرت والے ماہ رمضان ۔ کو ایک تماشہ بنانے کی کوشش کی ۔ انعام کی لالچ کا سبق سکھا یا ۔ اس کے پروگرام میں شیطانی کے علاوہ کوئی شے نظر نہیں آتی ۔ خودشعبدہ باز ہے ۔ اپنے پروگراموں میں مقدس انسانی رشتوں کو زو معنی اشارے کر ک ے ذلیل کرتا رہا ہے ۔ صاحبو! یہ ہیں دوکردار ایک نیکیاں کمانے والا طارق عزیز مصلح اور دوسری طرف برائیاں سمیٹنے والا ’’عالم آن لائین‘‘کردار ۔ ایک کردار اپنی نیکیوں کے ساتھ اپنے اللہ کو پیارا ہو گیا ۔ اللہ اس کی نیکیاں قبول کر اسے اپنی جنت میں جگہ دے ۔ دوسرا کردار برائیاں کمانے والا ابھی زندہ ہے ۔ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے ۔ اسے اپنے اللہ سے معافی مانگ کر نیکیوں والے کردار میں شریک ہو جانا چاہیے ۔ اللہ پاکستان میں نیکیاں عام اور برائیاں ختم کرے آمین ۔