- الإعلانات -

کوئی روکے دست اجل کو

ہوش سنبھالنے سے اب تک خیر ہوش تو ابھی تک سنبھلی نہیں کہتے ہیں کہ جب ہوش سنبھلنے کا وقت آتا ہے تو فرشتہ اجل بھی قریب پہنچ جاتا ہے چلیں یوں کہہ لیں کہ زندگی کی گولڈن جوبلی کرنے تک بہت سے کٹھن وقت دیکھے جنگیں دیکھیں زلزلے سیلاب حادثات نجانے کیا کچھ دیکھالیکن موت کا موسم پہلی مرتبہ دیکھنے کو مل رہا ہے یوں لگتا ہے کہ فرشتہ اجل مستقل طور پر زمین پر اتر آیا ہے جدھر جد ھر سے گزرتاہے تھوک کے حساب سے موت تقسیم کرتا بس گزرتا ہی جارہا ہے اور شاید ابھی تک اسکا دل نہیں بھر ا اسلئے کہ موت زندگی پر حاوی ہوتی جا رہی ہے یہاں تک پہنچا ہوں تو ایک پرانا شعر یاد آگیا ہے

کوئی روکے دست اجل کو

ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں

لیکن کون ہے کہ جو روکے گا اور کون ہے جو روک سکتا ہے بس ایک اللہ پرورد گار ہی اسے منع فرما سکتا ہے لیکن شاید پروردگار ہم انسانوں سے ناراض ہے دیکھیں نا ں کہ اس موسم میں بھی اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کا دھندا جاری ہے یہی نہیں بلکہ عام انسان کی ضرورت کی ان چیزوں کو مختلف حیلوں ،بہانوں سے مہنگا کردیا گیا ہے آٹا ،چینی ،دودھ ،دالیں ،چاول یہ غریب آدمی کی ضرورت ہیں مگر سیٹھوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کی دوڑ میں عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے یہی نہیں ادویات کے سیٹھوں نے ڈیٹول سے لیکر سینیٹائزر تک اور انجکشن سے لیکر ٹیبلیٹس تک کی قیمتیں آسمان پر پہنچادی ہیں جبکہ جان بچانے والی ادویات تک سر عام جعلی بن رہی ہیں اور نجی ہسپتالوں نے لوٹ مار کا وہ دھندا شروع کر رکھا ہے کہ بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے یہ سیٹھ یہ مگر مچھ یہ مافیاز اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ انھیں موت سے بھی ڈر نہیں لگتا بات یہی پر نہیں رُکتی پٹواری سے لیکر تھانیدار تک اوربیورو کریسی کے چھوٹے پرزے سے لیکر بڑی مشین تک سب اس میں ایک دوسرے کے کچھ اس طرح سے ساتھی اور مدد گار بنے ہوئے ہیں کہ عام آدمی اب خود کشیوں اور خود سوزیوں میں عافیت محسوس کرنے لگا ہے اور تو اور یہ سرکاری ادارے یہ اوگرایہ نیپر ا ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر اپنے سیٹھوں کو امیر کرنے کیلئے بجلی ،گیس ،پٹرول کی قیمتوں میں پے در پے اضافے کر کے غریبوں سے ایک پنکھا اور ایک چولھا جلانے کی سہولت کے بھی دشمن بن چکے ہیں حکومت موجود ہے اور حکمران بھی لیکن حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آتی عمران خان تبدیلی احتساب اور نئے پاکستان کا نعرہ لگا کر آیا تھا وہ ایماندار ہے مانتاہوں بلکہ عام آدمی بھی مانتا ہے کہ وہ ایماندار ہے لیکن اس ایمانداری کا کیا فائدہ کہ مگر مچھ آزاد ہوں اور عام آدمی مہنگائی بھکاری بے روزگاری کے عذاب میں مبتلا رہے اگر خالی نعروں سنہری خوابوں ،خیالوں اور لچھے دار تقریروں سے پیٹ بھر ا جا سکتا تو پاکستان کے لوگ اس وقت بڑے امیر اور خوش نصیب ٹھہرتے مگر الفاظ چاہے کتنے بھی خوبصورت ہوں بھوکے پیٹ کیلئے ایک روٹی کا مقا بلہ نہیں کر سکتے موت کے موسم میں لوگوں کو بھوک اور مہنگائی کے عذابوں سے بچانے کیلئے عمران خان کو اب الفاظ کی بجائے قلم تلوار چلانا ہوگی صبح شام سو دو سو ناسوروں مگر مچھوں کا بے دریغ اور فوری آپریشن روزانہ کی بنیادوں پر کرنا ہو گا دیکھیں نا کہ پٹرول کی قیمتوں میں محض چند روپے فی لیٹر کی کمی ہوئی اور تین ہفتوں سے پور ے ملک کے پٹرول پمپوں پر سخت گرمی میں لمبی قطاریں پٹرول لینے میں لگی ہوئی ہیں ایماندار عمران خان کو صورت حال کا علم ہونے اور اسکے حکم جاری کرنے کے باوجود صورت حال پہلے سے بھی گھمبیر ہو چکی ہے وزیراعظم کو اسکے بد عنوان اور نا تجربہ کا ر ساتھی بد نام کر رہے ہیں اور اس طرح سے بد نام کر رہے ہیں کہ اگر مثال کے طور پر تجربہ کرنا ہو تو پٹرول کی لمبی لائن میں لگ کر ایک لیٹر پٹرول لینے والے کی گفتگو سن لیں میں تو البتہ اسے تحریر کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا یہ ا ب عمران خان کی قیادت بلکہ سیاسی مستقبل کا امتحان شروع ہو چکا ہے ایک محاورہ ہے کہ بندریا کے پاءوں جلے تو اس نے اپنے بچوں کو پاءوں تلے لے لیا تھا توکس انتظار میں ہے اگر اب قلم تلوار نہ پکڑیں گے تو اگلا الیکشن انکا ہو گا ورنہ عوام کو جس حال پر پہنچا دیا گیا ہے صورت حال یہی رہی تو پھر صندوکڑیاں خالی سمجھنا اور اگر ایسا ہوا تو اگلے دس بیس سال تک تبدیلی کی وہ کرن جو عمران کی صورت میں نظر آرہی تھی بجھ جائے گی اور یہ پاکستان کے غریب عوام کے ساتھ بڑا ظلم ہوگا موت کے موسم میں فرشتہ اجل زمین پر اترا ہوا ہے لیکن ہم اپنی عادتیں بدلنے سے قاصر ہیں کورانا کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل بھی حملہ آور ہے اوپر سے سیلاب کا موسم بھی آوازیں دے رہا ہے جبکہ سرحدوں پر چھیڑ خانی بھی پہلے سے زیادہ ہے ہم کب تک فرشتہ اجل کو زمین پر دعوت دے سکتے ہیں اگر کورونا سے دل نہیں بھر اکہ اور آفتوں کو آوازیں دے رہے ہیں کب تک اور کتنے لوگوں کو ہم ماریں گے جعلی ادویات سے ،جعلی خوراک سے، مہنگائی سے بھکاری سے، بے روزگاری سے،لوٹ مار سے بس کریں انفرادی اور اجتماعی طور پر ہ میں اپنا اپنا احتساب کر نا ہوگا اپنے گناہوں کی معافی مانگنی ہوگی اپنے اعمال کو درست کرنا ہوگا اسی میں عافیت ہے اور اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو پھر اونچی عمارتوں پر چڑھ کر اذانیں دینے سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔