- الإعلانات -

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کیس کا فیصلہ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس 370 روز تک چلا 46 سماعتیں اس کیس کی سننے کے بعد مورخہ 19-06-2020 کی شام چاربجکر بیس منٹ پر سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس عمرعطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے ریفرنس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ریفرنس ،شوکاز کو کالعدم کرتے ہیں حتمی فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل چیرمین ایف بی آر کی انکواری دیکھنے کے بعد کرے گی ۔ اب ایف بی آر کو کہا گیا ہے کہ جج صاحب کے بچوں اور بیگم کی جائداوں کے بارے میں معلو مات حاصل کرے اور اس کی رپورٹ سپریم جوڈیشیل کونسل کو پیش کرے ۔ اس پر مزید انکوئری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اب جوڈیشل کونسل کرے گی ۔ اس کیس کے آنے پر کچھ وکلا نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور کچھ وکلا نے اس لئے کھائیں کہ اس وقت تک شام کے پانچ بج چکے تھے ۔ ا ان کا شوگر لیول ڈاءون ہو چکا تھا ۔ لہذا یہ کہنا کہ سب نے مٹھائی اس فیصلے کی خوشی میں کھائی تھی ٹھیک نہیں ہے ۔ لگتا ہے اگر یہ فیصلہ اردو میں سنایا جاتا تو سب کی سمجھ میں آ جاتا ۔ کچھ نے بغیر سنے اور پڑھے کے یوم تشکر منا نے کا اعلان کر دیاتھا ۔ مٹھائی بھی کھائی اب انہی کے کچھ ساتھیوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم اس فیصلہ پر راضی نہیں ہیں ۔ ہم اس کے خلاف ریویو فائل کریں گے ۔ اس کیس میں سینئر وکلا منیر اے ملک ، حامد خان ، ، رضا ربانی ، ، افتخار گیلانی، سلیمان اکرم راجہ، بابر ستار ، انور منصور خان بطور اٹارنی جنرل پیش ہوئے اور فروغ نسیم نے اس کیس میں حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے بحث میں حصہ لیا ۔ سب وکلاء نے اپنی اپنی وکالت کے جوہر دکھائے ۔ دس رکنی بنچ نے منیر اے ملک اور آپ کی ینگ ٹیم کی تعریف کی ۔ بحث میں حصہ لینے والے تما م وکلاء کا شکریہ ادا کیا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خود بھی اس دس رکنی نچ کے سامنے 44 منٹ تک پیش ہوئے جبکہ جسٹس صاحب کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے 43 منٹ تک پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروایا ۔ اب موجودہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس کے کیس کا عبوری فیصلہ آچکا ہے ۔ اس کیس کے ریفرنس کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے ۔ سپریم جو ڈیشل کونسل ایف بی آر کی انکوائری کی روشنی میں کچھ ماہ بعد فیصلہ کرے گی کہ لندن کی جائیدادیں بچوں اور بیوی کی جائز انکم سے بنی ہیں یا نہیں ۔ اب کون جانے ایف بی آر انکوئری میں کیا لکھے گی اور فیصلہ کیا ہوگا ، لہٰذا فی الحال دونوں پارٹیاں اپنی اپنی جگہ بظاہر خوش ہی دکھائی دیتی ہیں ۔ ان دونوں پارٹیوں کے علاوہ کچھ خوش ہیں اور کچھ خشک ہیں ۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اس میں نہ کسی کی ہار ہوئی ہے اور نہ کسی کی جیت ۔ بس خوشی ہے کہ سسٹم چل رہا ہے ۔ عوام اسی پر خوش ہیں کہ اس کیس میں بھی تاریخ رقم ہوئی ہے ۔ دنیا کی تاریخ میں شاید کوئی سپریم کورٹ جج اپنے ہی کیس میں روسٹرم پر اپنے ساتھی ججوں کے سامنے بطور جج روسٹرم پر کھڑا ہوا ہو ۔ اب ایک نئی مثال قائم ہوئی ہے کہ کوئی حا ضر سروس سپریم کورٹ جج اپنے خلاف ہونے والے ریفرنس میں خود پیش ہو کر عدالت سے درخواست کی کہ اس کیس میں میری بیگم صاحبہ اپنا بیان ریکارڈ کرانا چائیتی ہیں ۔ جس کے بعد ججز صاحبان نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت دے دی تھی اور دس رکنی سپریم کورٹ کے لاجر بنچ کے سامنے بیان ریکارڈبھی کرایا گیا تھا ۔ اس کے بعد لگ رہا تھا کہ کیس سارا ختم ہو جائے گا ۔ مگر اب کچھ کہتے ہیں کہ ابھی تو یہی دکھائی دے رہا ہے ریفرنس مکمل ختم نہیں ہوا تلوار ابھی بھی لٹک رہی ہے،دیکھتے ہی و کب تک لٹکتی رہے گی ۔ جس روز جسٹس قاضی صاحب جب اچانک لاجر بنچ کے سامنے پیش ہوئے تو میرے ساتھی نے کہا ڈیر میرے لبوں پر یہ گانا آ گیا چن چن کے سامنے آ گیا ۔ میں صدقے جاواہیریوں ۔ مگر اس وقت یہ بول بن کر ہونٹوں پر مچلنے لگے کہ جج جج کے سامنے آ گیا میں صدقے جاواں اس سسٹم توں ۔ یہ ریفرنس بھی ایک مقدمہ ہے ۔ ہر مقدمے کے فیصلے کے بعد ایک پارٹی جیتی ہے اور ایک ہارتی ہے ۔ لیکن اس مقدمے کے فیصلے کے بعد کہا گیا کہ نہ کسی کی ہار ہوئی اور نہ ہی کسی کی جیت ۔ شاید اس لئے کہا جا رہا ہے کہ ابھی مقدمہ ختم نہیں ہوا ۔ ابھی دوسرے حصہ کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے ۔ اس طرح کا ایک ریفرنس جنرل مشرف کے دور میں بھی دائر ہوا تھا جو ملکی تحریک کا سب سے پہلا اور بڑا ریفرنس بن گیا تھا ۔ یہ ریفرنس اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کیخلاف دائر ہوا تھا جو ایک لمبی وکلا تحریک کے بعد انکی بحالی پر ختم ہوا تھا ۔ اس ریفرنس میں بھی منیر اے ملک ہی وکیل تھے ۔ اس ریفرنس کی دو بڑی شخصیات جسٹس افتخارچوہدری اور چوہدری اعتزاز احسن تھے جو قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس کیس سے یہ دونوں چوئدری دور رہے ۔ جب کہ ملک اور خان یعنی منیر اے ملک اور حامد خان ایڈووکیٹ نے دونوں ریفرنس میں بڑچڑ کر حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی ۔ افتخار چوہدری کے ریفرنس میں ملک کے ہر بچے بوڑھے ، جوان ہر پیشے کے افراد نے بھرپور حصہ لیا تھا ،وکلاء نے جانوں کی قربانیاں دی تھیں ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افتخار چوہدری تو بحال ہوئے لیکن جس تحریک کےلئے عوام وکلاء نے قربانیاں دی تھیں وہ ان جج صاحب نے سب ضائع کر دیں ۔ یعنی گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ،لہٰذا سب کی محنت رائیگان گئی ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس میں تو بطور ایکس جج بلوچستان کے نہیں تو بطور چوہدری کے ہی اظہار یکجہتی کرنے آ جاتے لیکن اس پورے کیس کی سماعت میں کبھی بھی عدالت میں یہ دونوں چوئدری دکھائی نہ دئے ۔ وکلا ء نے ان دونوں کی کمی محسوس کی ۔ باتیں اور تبصرے کئے ۔ کہا جاتا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کے کیس نے یہ ثابت کر دیا کہ ہمارے ےہاں ججوں کا احتساب ہوتا ہے اور بے حساب ہوتا ہے ۔ ہم پھر بھی گلے شکوءوں سے باز نہیں آتے ۔ یہ سچ ہے کہ فیصلے بولتے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ علم وہ ہے جو کردار سے ظاہر ہوتا ہے ۔ کردار ہمارا کیا ہے ۔ کورونا کی وجہ سے ساری دنیا میں موت کے بادل منڈلا رہے ہیں ، لوگ مر رہے ہیں ۔ پتہ نہیں دنیا میں اس کورونا سے کسی نے کچھ سیکھا ہے یا نہیں ۔ مگر ہم نے کچھ نہیں سیکھا ۔ کوئی خوف خدا دیکھنے میں نہیں آیا ۔ دنیا ساری میں قانون ہی ایک ایسا ذریعہ ہوتا ہے جو مشکل گھڑی میں ماں کی طرح اپنی باءوں میں بے سہارا ،بے کسوں کو سمیٹ لیتا ہے ۔ قانون کسی کو غلط فیصلہ کرنے نہیں دیتا ۔ قانون جہاں ہوتا ہے اس کے ڈر سے کوئی غلط کام نہیں کرتا ۔ جہاں قانون نہ ہو وہاں کرائم بڑھ جاتا ہے پھر وہاں مشکل حالات میں دو روپے کی چیز دو سو میں ،ٹیکہ ;180; تین ہزار کا تین لاکھ میں فروخت ہونے لگتا ۔ دنیا میں شاید ہم واحد ہیں جو کورونا سے نہیں ڈرے کیونکہ یہاں کسی کو نہ قانون کی پرواہ ہے اور نہ کوئی ڈرہے اور نہ کوئی خوف خدا ہے ۔ ان حالات میں شدید عذاب کے آنے کا خطرہ لگ رہا ہے ۔ جو ہ میں کورونا کی یاد بھلا دے گا ۔ یہاں کا انسان بہت خودغرض ہے ۔ پسند کرے تو برائی نہیں دیکھتا ، نفرت کرے تو اچھائی نہیں دیکھتا ۔ صرف اپنی ذات کو دیکھتا ہے ۔ کسی خوب کہا ہے ۔ یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا ۔ اے چاند یہاں نہ نکلا کر ۔ اپنا خیال رکھئے گا ، بے شک دوسرے بھاڑ میں جائیں ۔