- الإعلانات -

وزیراعظم عمران خان کاقومی اسمبلی میں پالیسی خطاب

وزیراعظم کاقومی اسمبلی سے خطاب دراصل اُن کے تقریباً ڈھائی سالہ حکومت کی کارکردگی کا نچوڑ ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ کیاکرناچاہتے تھے ، انہوں نے کیا کیا، اپوزیشن نے کیارکاوٹیں کھڑی کیں ، حکومت کی خارجہ پالیسی کس طرح کامیاب رہی ، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کس طرح پذیرائی ہوئی، بھارت کو کس طرح تنہا کیا، آج امریکہ کیونکر پاکستان سے مدد طلب کررہاہے ، کن بین الاقوامی حالات میں مداخلت کرکے پاکستان کو سبکی اٹھاناپڑی ۔ موجودہ حکومت نے جب اقتدارسنبھالا تواسے کئی بحرانوں کاسامناتھا،وزیراعظم عمران خان نے دانشمندی سے اپنی ٹیم منتخب کی اوردوٹوک کہاکہ جو کام نہیں کرے گا وہ گھرجائے گا ۔ حقیقت یہی ہے کہ وزیراعظم نے بہت سخت فیصلے کئے اور کام نہ کرنے والوں کوگھربھی بھیجا،وزیراعظم کی انتھک کوششوں سے کچھ امید پیدا ہوئی ہی تھی کہ کوروناوائرس نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا جس میں پاکستان بھی آڑے ہاتھوں آیا اس کے بعدپھرسب کچھ تلپٹ ہوگیا ۔ کوروناوائرس کی وباء کے خاتمے کےلئے حکومت نے دانشمندانہ فیصلے کئے ،کورونا کی وباء سے لگائے گئے لاک ڈاءون سے غریبوں کی زندگی مشکل ہوگئی تھی آخرکارحکومت نے لاک ڈاءون ختم کرکے سمارٹ لاک ڈاءون کافیصلہ کیا ۔ موجودہ حکومت نے غربت کے خاتمے اورعام آدمی کی زندگی کی بحالی کےلئے امدادی پیکج بھی جاری کئے جس کا بوجھ قومی خزانے پرپڑا ۔ ابھی بھی حکومت پُرعزم ہے کہ وہ تمام مسائل پرقابوپالے گی ۔ گزشتہ روزوزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میری کسی سے دشمنی نہیں ، نہ کسی سے بدلہ لینا چاہتا ہوں جب تک لیڈر شپ کا احتساب نہیں ہوگا ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،کشمیر کا مسئلہ پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گیا ہے، میرٹ اور لیڈر شپ کا احتساب جمہوریت کے بنیادی اصول ہیں ، ملک میں صحیح معنوں میں احتساب کا عمل نہ چلا تو ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے ،کورونا وائرس سے متعلق پالیسی میں حکومت الجھن کا شکار نہیں ، اگرپوری دنیا میں کہیں اس حوالے سے کنفیوژن نہیں تھی تو وہ ہماری حکومت کی تھی 13مارچ سے آج تک میرے کسی بیان میں تضاد نہیں کوئی ایک بیان دکھادیں جس میں تضاد ہو،اگر ہم احتیاط کرگئے تو ہمارا صحت کا نظام برداشت کرے گا،اگر ایک ماہ احتیاط کریں گے تو اس مسئلے سے نکل جائیں گے ،جب ہم حکومت میں آئے توہ میں سوءٹزرلینڈ کی معیشت نہیں بلکہ بری معیشت ورثہ میں ملی ،مجھ سے جواب مانگا جارہا ہے، جواب ان سے مانگا جائے جنہوں نے ملک کو اس حالت میں پہنچایا،امریکا نے ایبٹ آباد میں آکر اسامہ کومارا،آج ہم کسی کی جنگ نہیں لڑرہے ہیں ،آج ہم پر دوغلا پن کا الزام بھی نہیں لگ رہا ،آج ٹرمپ عزت دیتا ہے اور افغانستان میں مدد کی درخواست کرتا ہے ،وزیراعظم باپ کی طرح ہوتا ہے، قوم اس کے بچے ہوتے ہیں ، اگر بچے بھوکے ہوں تو کیا میں بادشاہ رہوں گا یا اپنے اخراجات کم کروں گا ،دوسرے ممالک سے فنڈ مانگتے ہوئے مجھے شرم آئی مگر ضرورت تھی ،صوبے این ایف سی ایوارڈسے 3فیصد فاٹاکو دینے کا وعدہ پورا کریں ، ٹڈی دل کے خاتمہ کیلئے حکومت اپنی بھرپورکوشش کر رہی ہے ،پوری قوم مل کر اس آفت کا مقابلہ کرے گی ۔ وزیراعظم کایہ کہنا بجاہے کہ کرپٹ حکمرانوں کا احتساب ہوکررہے گا ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ سابقہ حکومتیں لوٹ مارنہ کرتیں تو آج ملک مسائل کی دلدل میں نہ دھنسا ہوتا ۔ اقتدارسے قبل عمران خان کایہ نعرہ تھا کہ وہ کرپٹ لوگوں سے حساب لیکررہیں گے ۔ اپوزیشن کوچاہیے کہ وہ شورمچانے کی بجائے اس مشکل وقت میں حکومت کومثبت تجاویزدے اورایوان میں قانون سازی کے لئے اس کاساتھ دے ۔

درپیش چیلنجزسے نمٹنے کےلئے اداروں کی مضبوطی ضروری

ملک کو اس وقت جو اندرونی اوربیرونی چیلنجز درپیش ہیں ان سے نبردآزما ہونے کےلئے ادارے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اسی کے پیش نظر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے دورے کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تمام درپیش چیلنجز جامع قومی حکمت عملی کا تقاضا کرتے ہیں اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کےلئے ریاستی اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے، عوام کی حمایت کے ساتھ ملکی دفاع کےلئے ہمہ وقت تیار ہیں ملک میں دیرپا محفوظ ماحول دینے کےلئے پاک فوج ہر ممکن کوشش کرتی رہے گی پاک فوج ملک میں امن کےلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گی ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطہ کی سکیورٹی صورتحال پر اظہار خیال کیا ۔ آرمی چیف نے شرکاسے پاکستان میں مستقل امن پر اپنا وژن دیا، ملک میں دیرپا امن سے متعلق بات چیت کی اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج ملک میں امن کےلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گی ملکی معاشی اور سماجی ترقی کےلئے پاک فوج مسلسل کوشاں رہے گی، ملک کے دفاع اور سکیورٹی کےلئے قومی حمایت کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے ۔

دہشت گردی بارے امریکی رپورٹ مسترد

خطے میں قیام امن وامان کے لئے پاکستان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جہا ں اس نے دہشت گردوں کی سرکوبی کی وہا ں پر وطن عزیزنے اپنے جوانوں اورشہریوں کی قیمتی زندگیاں بھی گنوائیں لیکن امریکہ کی جانب سے اس طرح کابیان جس میں پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف کاوشوں کو سراہنے کے بجائے ہدف تنقیدبنایاگیا پاکستان نے اسے قطعی طورپرمسترد کرتے ہوئے کہاکہ رپورٹ مایوس کن ہے ۔ وزارت خارجہ نے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی سالانہ ملکی رپورٹ برائے دہشت گردی 2019 کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ پاکستان کی دہشت گردی اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے خلاف کی گئی کوششوں کے متضاد اور اس ضمن میں مخصوص رائے کا اظہار کرتی ہے ۔ اگرچہ اس رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اس خطے میں القاعدہ کو شدید بدنامی ہوئی ہے ، لیکن اس نے القاعدہ کے خاتمے میں پاکستان کے اہم کردار کے ذکر کی نفی کی ہے جس نے دنیا کو دہشت گرد گروہ سے لاحق خطرات کو کم کیا ۔ اسی طرح رپورٹ میں پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں کے واقعات میں تیزی سے کمی کا اعتراف کیا گیا ہے ۔

سٹیٹ بینک کاتاریخی فیصلہ

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں ملک میں افراط زر کے منظر نامے، کورونا کی وبا کے معاشی اثرات پر غور کیا گیا ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کردی جس کے بعد شرح سود 7فیصد کی سطح پر آگئی ہے ۔ شرح سود میں ایک فیصد کمی کا تاجروں اور صنعتکاروں نے خیرمقدم کیا ہے اور اسے کاروبار کیلئے اہم اقدام قرار دیا ہے ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا کہ مہنگائی کا منظر نامہ مزید بہتر ہوا ہے،مہنگائی مئی میں مزید گھٹ کر 8;46;2 فیصد ہوگئی ۔ کووڈ 19 کی عالمی وباء پاکستان سمیت بہت سی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پھیلتی جارہی ہے اور کئی ممالک میں دوسری لہر آنے کے خطرات ہیں ۔ مالی سال 21 میں لاک ڈاون میں نرمی، معاون معاشی پالیسیوں اور عالمی نمو میں تیزی کی مدد سے معیشت کے بتدریج بحال ہونے کی توقع ہے ۔