- الإعلانات -

ضمیر فروشوں کے لئے عبرت

انسان کی دنیا میں عزت اور ذلت ضمیر پر منحصر ہے ۔ آج تک نہیں دیکھا کہ کسی ضمیر فروش کو عزت سے نوازا گیا ہو ۔ اللہ تبارک تعالیٰ بھی ضمیر فروشوں سے نفرت کرتا ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ انسان کا دین اور ایمان بھی اس کا ضمیر ہے ۔ ہم نے آج تک یہ نہیں دیکھا کہ کسی بھی باضمیر انسان کو زمانے میں ذلت یا رسوائی ملی ہو ۔ ضمیر ہی انسان کو لوگوں کی نظروں میں گرتا دیکھ کر آوازیں لگا تا ہے اور یہ کہتا ہے کہ سب کچھ بیچ کر بھی مجھے بچا لو ۔ ویسے تو بہت سی مختلف آوازیں ہوتی ہیں مثلاً انسانوں کی ، پرندوں کی ، جانوروں کی، سوزوساز کی، میوزک کی، انجن کی، ہارن کی آوازیں ہیں لیکن ان سب آوازوں میں ایک آواز ایسی بھی ہے جو کانوں سے سنی نہیں بلکہ دل میں محسوس کی جاتی ہے ۔ اسے ضمیر کی آواز کہتے ہیں ۔ یہ وہ خوبصورت آواز ہے جو دل کی گہرائیوں سے قلبی کیفیات کے زور پر اٹھتی ہے اور ہر اس عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے جو انسان اپنے نفس کے بے قابو گھوڑے پر سوارہو کر انسانیت کی حدود پھلانگنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اخلاقیات کے بندھن توڑتا ہے ۔ اپنی معاشرتی بداعمالیوں سے معاشرے کے امن اورچین میں خلل پیدا کرتا ہے ۔ اس کے جھٹکے اس وقت تک لگتے رہتے ہیں جب تک انسان اپنی نفسانی خواہش سے باز نہیں آتا ۔ کبھی یہ اخلاقی پابندیوں کا واسطہ دیتی ہے ، کبھی گناہ کے فلسفے کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے، کبھی خاندانی شہرت پر داغ لگنے کی دھمکی دیتی ہے ، کبھی ذاتی بے راہ روی کے طعنے دیتی ہے، کبھی آخرت کے عذاب کا خوف دلاتی ہے، کبھی معاشرتی تنقید کا ڈر ذہن میں بٹھاتی ہے، کبھی قانونی حجاب کے پردے ہٹانے کی کوشش کرتی ہے اورکبھی احتساب کا خوف رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے ۔ لیکن جب کوئی طریقہ کامیاب نہ ہو ، بے عملی اور بے راہ روی غالب رہے تو جرم گناہ کے ساتھ یہی ندامت کا روپ سامنے لاتی ہے ۔ یہ وہ خیر کا عنصر ہے جو شر پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ندامت کے جھٹکے اور غلطیوں سے توبہ اس کے روپ ہیں جو جرم گناہ کو مسخ کر دیتے ہیں ۔ یہ منبع ہے جو انسان کے اندر سے پھوٹتا ہے ۔ یہ دل و دماغ کی وہ کیفیتیں ہیں جو خواہشات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ چونکہ انسان دنیاوی طلب میں اس قدر حریص اور بے پرواہ ہوتا ہے ۔ لذت کے شوق اور منعفت میں سبقت لے جانے کے جذبے سے اخلاقی بندھن سے بے پرواہ ، رزقِ حلال اور حرام میں تمیز کئے بغیر آگے بڑھنے میں سبقت ، آسائشات اور خواہشات کے دھارے میں بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ اس طرح انسانی شخصیت میں ضمیر کی طاقت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے ۔ جب یہ کیفیت زیادہ طاقتور اور با اثر ہو جائے تو اندر کا انسان مردہ ہو جاتا ہے جو اخلاقی کیفیات کو محسوس نہیں کرتا ۔ اچھائی اور برائی کی تمیز ختم ہو جاتی ہے ۔ حلال اور حرام کی پہچان رک جاتی ہے ۔ لوگوں کی محسوسات کی رسائی کانوں تک پہنچنا بند ہو جاتی ہے ۔ یہی معاشرتی اکائی کی بد ترین مثال ہے ۔ اگر انسان رزق حلال اور حرام میں تمیز کر سکے ، بچوں کی پرورش میں رزقِ حلال کی خواہش کرے، جدوجہد کو شعار بنائے، محنت کی عظمت کو پہچانے تو ضمیر کی بقا اس کی بداعمالی میں رکاوٹ بنتی ہے ۔ اس سے انسانیت کی بقا اور معاشرتی پھیلاوَ میں خرابیاں کم ہوتی ہیں ۔ تسکین ہوتی ہے ۔ اطمینان قلب ہوتا ہے ۔ ہر عمل میں انصاف کا عنصر نظر آتا ہے ۔ شرم و حیا کا حجاب، اچھے برے کی تمیز، اچھائی اور برائی کا پیمانہ ، نیکی اور بدی کا احساس ، ٹھیک اور غلط کی سوچ، حق اور نا حق کی پہچان، یہ زندگی کو پرکھنے کے آلے ہیں جو ضمیر کی زندگی سے اپنا وجود قائم رکھتے ہیں ۔ اندر کے انسان کا باہر کے انسان پر حاوی ہونا، معاشرتی خرابیوں اوربرائیوں کی راہ میں رکاوٹ کا بہترین آلہ ہیں ، اس کی بناوٹ میں بہترین کردار جہاں ماں کی گود، معاشرتی ماحول ہے وہاں یہ کام مدرسوں اور دینی تعلیمات کا تھا ۔ نہ جانے اب یہ اثرات کیوں مٹتے جا رہے ہیں ۔

جن چراغوں سے تعصب کا دھواں اٹھتا ہو

ان چراغوں کو بجھا دو تو اجالے ہونگے

کوئی تو ہو جو قربانی دے ۔ ایثار کرے ۔ ہمت باندھے ۔ راستہ کی نشان دہی کرے ۔ معاشرہ بدلنے سے منزلیں بدلتی ہیں ۔ ہم میں سے ہر ایک کو سوچنا ہوگا، دیکھنا ہو گا، ایثار کرنا ہوگا اور قربانی کے جذبے سے آگے بڑھنا ہوگا ۔ ملک و ملت کے اس ڈھانچے کو محبتوں سے سنوارنا ہوگا ۔ رواداری اور احترام کی فضا پیدا کرنی ہوگی ۔ تلخ حقیقتوں کو جاننا ہوگا ۔ انصاف کا ترازو تھامنا ہوگا ۔ حقدار کو حق دینا ہوگا ۔ دوسروں کے درد کو جاننا ہوگا ۔ ضرورتمندوں کی ضرورتیں پہچاننی ہونگی ۔ رویے بدلنے ہونگے ۔ حرص ، لالچ اور بددیانتی کے سوراخ بند کرنے ہوں گے ۔ اماوت کی پگڈنڈیاں چھوڑنی ہونگی ورنہ اپنی بقا کی داستان تک سے ہاتھ دھونے پڑیں گے ۔ میں کہاں سے چلا، میری منزل کہاں ہے، یہ جان کس کی امانت ہے، یہ صحت کس کی دین ہے، یہ سوچ کس کا تحفہ ہے اور یہ سمجھ کس کا فیض ہے، یہ کائنات کے خزانے کس کی ملکیت ہیں ، قانون قدرت کے مسلمہ اصول یہ چاند ستاروں اور سورج کی منزلیں کس کے حکم سے رواں دواں ہیں ۔ یہ زمین کی زرخیزی اس میں دفن خزانوں کے کھوج کی کس نے راہ دکھلائی ۔ جب یہ سب کچھ مالک کائنات کی عطا ہے تو انسان میں انسانیت کیوں نہیں ۔ ہم اس کائنات میں خوبصورتی کا رنگ بھرنے کی بجائے کیوں گندگی پھیلا رہے ہیں ۔ اس ذات مقدس نے ہ میں سب کچھ دینے کے باوجود انسانیت کی بقا کے لئے ہ میں تعلیم دی ۔ کردار کی درستگی کے لئے انسانوں میں انبیاء بھیجے ۔ انبیاء کی ابتداء حضرت آدم ;174; سے شروع ہوئی اور انتہا حضرت محمد ﷺ پر آ کر ہوئی ۔ بدقسمتی سے اس کے بعد کئی لوگوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا لیکن یہ ایک اٹل فیصلہ ہے کہ اس کائنات کے آخری نبی محمد مصطفی ﷺ ہی ہیں ۔ ہمارے عقیدے کے مطابق حضرت آدم ;174; سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اس کائنات میں تشریف لائے ۔ انبیاء کے بعداولیاء اور صوفیا ء کا دور شروع ہوتا ہے ۔ پہلے ولی حضرت علی کرم علی وجہہ ٹھہرے اور پھر ان کی لڑیاں اور کرنیں بکھرتی چلی گئیں ۔ ان کے کردار کی روشنی ہماری رہنمائی کےلئے نمونہ بنی ۔ پھر معاشرتی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ ہ میں دینی وسعت دی گئی ۔ ضابطے بنانے کی اہلیت دی گئی ۔ ان پر عمل پیرا ہونے کےلئے انتظامی چھتری دی گئی ۔ رزق حلال کے حصول کےلئے تمام اجزاء انسانی مکمل دئیے گئے ۔ سوچ کے دائرے ، کون و مکان کی گہرائیوں کو جاننے کی اہلیت دی گئی ۔ کہاں ہیں وہ خلوص کے رشتے جنہوں نے اخوت اور محبت کی بنیاد رکھی، کہاں گئے وہ گنج ہائے گراں مایہ جنہوں نے درس انسانیت دیا ۔ ہماری زندگیاں دوسروں کے رحم و کرم پر کیوں ہیں ۔ ہم انسانیت کو مجبور بنائے ذاتی اغراض کی رو میں کیوں بہتے جا رہے ہیں ;238;ہم مجبوریوں کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ ہم رسم و رواج کے پابند اس لئے ہیں کہ لوگ ہ میں بڑا سمجھیں ۔ ہم نمائش کے پابند اس لئے ہیں کہ لوگ ہ میں اپنی اصلیت سے بڑھ کر جانیں ۔ ہم جھوٹ کا سہارا اس لئے لیتے ہیں کہ سچائی سے ہ میں ڈر لگتا ہے ۔ ہم تعریف سننا اس لئے پسند کرتے ہیں کہ ہماری شخصیت میں اس بات کی کمی ہوتی ہے ۔ ہم قانون کو اس لئے توڑتے ہیں کہ لوگ ہ میں قانون سے بالاتر سمجھیں ۔ ہم لوٹ مار اس لئے کرتے ہیں کہ دولت کے بغیر ہم شخصیت کو نامکمل پاتے ہیں ۔ ہم انصاف اس لئے نہیں کرتے کہ رزق حرام نے ہمارے ضمیر مردہ کر دئیے ہیں ۔ ہم دوسروں کو اپنانے کی کوشش اس لئے کرتے ہیں کہ ہماری شخصیت نامکمل ہوتی ہے ۔ ہم میں خود احتسابی نہیں ۔ زندگی کے سفر میں جب نظر پڑتی ہے تو عجب تصویر سامنے آتی ہے ۔ میں جوشِ صحافت میں بہت کچھ لکھنا چاہتا تھا لیکن کالم کا دامن تنگ پڑتا جا رہا ہے ۔ آج ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ وسائل کم اور مسائل زیادہ ہو گئے ہیں اور یہ مسائل صرف معاشی نہیں بلکہ غیر ضروری بھی ہیں ۔ اب محبتیں صرف کم نہیں ناپید ہوتی جا رہی ہیں اور نفرتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ رشتوں کی کشش بھی مال و زر سے ناپی اور تولی جا رہی ہے ۔ آوَ آج بھی ہم غور کریں کہ ہم نے کہاں کا قصد کیا اور کہاں چل پڑے ۔