- الإعلانات -

پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا

بھارتی عزائم کسی سے ڈھکی چھپے نہیں ہیں کشمیر میں اس کے بڑھتے ہوئے مظالم پوری دنیا میں عیاں ہوچکے ہیں ،بین الاقوامی تنظی میں بھی بھارتی مظالم روکنے کےلئے عالمی برادی سے اپیلیں کرچکی ہیں ۔ بھارت نے گزشتہ چاردہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وبربریت کی انتہاکررکھی ہے ، کشمیری نوجوانوں کوماورائے قتل کیاجارہاہے ۔ اس وقت بھارت کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر سمیت بھارتی مسلمانوں کا جینا دوبھر ہوچکا ہے، آئے روز مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاک فورسز کے ہاتھوں نوجوانوں کی شہادتیں ہورہی ہیں ۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارتی اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کررہی ہے لیکن عملی طور پر بھارت کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔ وادی کشمیر میں بھارت نے جو ادھم مچایا ہوا ہے اس سے پوری دنیا واقف ہے ،عالمی برادری بالخصوص عالمی قوتوں کو بھارت کی اس جنونیت کا فوری اور موثر نوٹس لینا چاہیے ۔ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے جس کا وجود نہ صرف خطے بلکہ کرہ ارض کیلئے بھی خطرناک بن چکا ہے اس لئے اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں اسکے مظالم پر محض تشویش یا رسمی احتجاج کے بجائے عملی طور پر اس کیخلاف سخت کارروائی کریں ۔ جب تک اس کیخلاف عالمی قوانین کے مطابق اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی بھارت اپنی خصلت سے باز نہیں ;200;ئیگا ۔ گزشتہ روزوزیر اعظم عمران خان نے مظفر آباد کے دورے کے دوران کنٹرول لائن کے رہائشیوں کےلئے احساس کیش پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 12لاکھ کشمیریوں کیلئے ہیلتھ کارڈ کا اعلان کیا ہے ۔ صحت کی سہولیات کی فراہمی متوازن خوشحال معاشرے کےلئے ناگزیر ہے بلاشبہ ایک صحت مند معاشرہ ہی صحت مندقوم کوجنم دیتا ہے اور اس کی بدولت آنے والی نسلیں ایک روشن مستقبل کی جانب پروان چڑھتی ہیں ۔ گزشتہ برسوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اورماحولیاتی آلودگی کے باعث کئی مہلک امراض نے جنم لیا ہے جس کے باعث ایک بڑی تعداد میں افرادمتاثر ہوئے ہیں ، بڑھتی ہوئی ان بیماریوں کے علاج ومعالجہ کے اخراجات اٹھانا غریب آدمی کے بس میں نہیں رہا ۔ غریب طبقے کی ان مشکلات کو پیش نظررکھتے ہوئے حکومت نے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا ۔ کشمیریوں کےلئے ہیلتھ کارڈوفاقی حکومت کا ایک انقلابی اقدام ہے ، یقینا معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو غربت کے باعث اپنا علاج نہیں کراسکتے اب یہ کشمیریوں کےلئے خوش آئندامر ہے کہ وہ ہیلتھ کارڈ سے سنگین بیماری کاعلاج کراسکیں گے ۔ وزیراعظم کا اپنے خطاب میں مزید کہناتھاکہ کنٹرول لائن پر زندگیاں گزارنے والے عوام قابل فخر ہیں ، ہم نے آزاد کشمیر کا بجٹ کم نہیں کیا بلکہ بڑھایا ہے ، 5اگست سے مسئلہ کشمیر دوبارہ اجاگر کرنے کی نئی مہم شروع کریں گے ،نریندر مودی نفسیاتی مریض ہے جو بھارت کو تباہی کی طرف لے کر جا رہا ہے ،پاکستان کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرتا رہے گابھارت خطے میں امن کا دشمن ہے کشمیریوں کی نسل کشی پر دنیا بھارت کا محاسبہ کرے، آزاد کشمیر کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، مجھے فخر ہے احساس کیش پروگرام کے ذریعے ان لوگوں کی مدد کر رہا ہوں ، مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ قابض بھارتی فوجی کشمیریوں کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں ، کوئی طاقت کشمیریوں کے جذبہ کو نہیں ہرا سکتی ۔ نریندر مودی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا، بھارتی وزیراعظم کشمیریوں پر سوچی سمجھی سازش کے تحت ظلم کر رہا ہے ۔ بھارت میں معاملہ مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف جا رہا ہے مودی سرکار بھارت میں دیگر اقلیتوں پر بھی ظلم کر رہی ہے اس بارے میں بھارت کے باشعور لوگ بھی فکر مند ہیں ۔ مودی بھارت کو تباہی کی طرف لے کر جا رہا ہے ۔ قبل ازیں ایک بیان میں عمران خان نے کہا کہ تشددکا شکار ہونے والوں کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پرمیری عالمی برادری سے اپیل ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب بھارت کامحاسبہ کرے جو بچوں ،خواتین ،جوانوں پرپیلٹ گنزچلاتا، جنسی حملے کرتا،برقی جھٹکوں سے انہیں موت کی نیندسلاتا اوران پر بد ترین ذہنی وجسمانی تشددآزماتاہے ۔ ہندوتوا کی پیروکارقابض مودی سرکارکے حکم پرغاصب بھارتی افواج کے ہاتھوں رقم کی جانےوالی بربریت کی یہ داستانیں اقوام متحدہ،انسانی حقوق کی تنظیموں اورعالمی میڈیانے مرتب کررکھی ہیں ۔ عالمی رسوائیوں کے باوجود بھارت اپنے جارحانہ عزائم سے باز نہیں ;200;رہا اور لداخ میں چین کے ہاتھوں بھی اسے سخت ہزیمت اٹھانا پڑی ہے اسکے باوجود وہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی تاراج کرنے پر تلا بٹھا ہے ۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈاضافہ

وفاقی حکومت عوام کو سستی قیمت پر پٹرولیم مصنوعات فراہم نہ کرنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کیخلاف جارحانہ رویہ رکھنے کے بعد بالآخر اس مافیا کے سامنے مکمل طورپر سرنڈر کرگئی اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کانوٹیفکیشن چار دن پہلے ہی جاری کردیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کی سمری منظور کرلی جس کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول 25 روپے 58 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 100روپے 10پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے ۔ ہائی اسپیڈڈیزل کی قیمت 21 روپے 31 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 101روپے46پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 23روپے 50پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 59روپے 6 پیسے مقرر کی گئی ہے ۔ لاءٹ ڈیزل کی قیمت میں 17روپے 84پیسے فی لیٹراضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت 55روپے 98 پیسے مقرر ی گئی ہے ۔ سستے تیل کا آخری بار فائدہ اٹھانے کےلئے پٹرول پمپوں پر رش لگ گیا ۔ شہریوں نے حکومت کی رٹ پر سوال اٹھانا شروع کر دیئے، بعض پٹرول پمپ مالکان نے اپنے پٹرول پمپ بند کر کے فروخت بند کردی تاکہ بھرپورمنافع کمایا جاسکے ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد شہریوں میں شدید غم وغصہ پایاجارہاہے ۔ اپنے ردعمل میں شہریوں کاکہنا ہے تھا کہ حکومت نے پٹرول سستا کرنا ہوتوچندروپوں میں کرتی ہے لیکن اس بارمہینہ ختم ہونے سے چاردن پہلے قیمتوں میں بھاری اضافہ ظلم کی انتہا اورپٹرول مافیا کی جیت ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکسوں اورڈیوٹیوں کی شرح کم کرتی تاکہ کورونا،مہنگائی اور بیروزگاری کے حالات میں عوام کو سہولت ملتی ، انہوں نے قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کامطالبہ کیاہے ۔

سابق امیرجماعت اسلامی سید منور حسن کا انتقال

سابق امیرجماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نارتھ ناظم آباد میں واقع نجی اسپتال میں 79سال کی عمر میں انتقال کرگئے،وہ کئی دنوں سے علیل اور اسپتال میں زیر علاج تھے ۔ جمعہ کو طبیعت بگڑنے پرخالق حقیقی سے جاملے ۔ صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی، وزیراعظم عمران خان، شہبازشریف، آصف علی ز رداری، بلاول بھٹو اوردیگر سیاسی وسماجی شخصیات نے سیدمنورحسن کے کے انتقال پر گہرے دکھ ا اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان کی لازوال سیاسی اور مذہبی خدمات کو فراموش نہیں کیاجاسکتا ۔ سیدمنورحسن اگست1941 میں دہلی میں پیدا ہوئے، ان کے والد سید اخلاق حسین دہلی کے ایم بی ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے ۔ ان کا خاندان 47 میں دہلی سے لاہور اور پھر کراچی پہنچا ۔ منور حسن 1959 میں این ایس ایف کے صدر بھی رہے تاہم 1960 میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوگئے ۔ منور حسن نے 1968 میں جماعت اسلامی پاکستان میں شمولیت اختیار کی وہ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوری اور مجلس عاملہ کے بھی رکن منتخب ہوئے ۔ مارچ 1977 کے عام انتخابات میں انہوں نے کراچی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ووٹوں کی لیڈ سے کامیابی حاصل کی لیکن یہ انتخابات کالعدم ہو گئے اور اسمبلی کام نہ کرسکی ۔ 2009 میں جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر مقرر ہوئے اور 2014تک اس منصب پر فائز رہے ۔ وہ چند سال سے پارکنسن کے مرض میں مبتلا اور ایک ہفتے سے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج تھے ۔ سیدمنورحسن نے پسماندگان میں بیوہ عائشہ منورسابق رکن قومی اسمبلی و سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی خواتین، بیٹے طلحہ منور،بیٹی فاطمہ منورکو سوگوار چھوڑا ہے ۔ انہوں نے اپنی زندگی غلبہ اسلام کی جدوجہد میں گزاری ۔ منور حسن کی جہد مسلسل کی داستان نصف صدی پر پھیلی ہوئی ہے ۔ مرحوم کی خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کواپنے جواررحمت میں جگہ عطافرمائے اورپسماندکوصبرجمیل عطافرمائے ۔ (آمین)