- الإعلانات -

سابقہ حکومتوں کی تقلیدکرنامقصود،توبدلاءوکیسا

ملک میں تبدیلی کا نعرہ لگاکر برسراقتدار آنیوالی حکومت نے یکم جون کا انتظار کیے بغیر 27جون کو اچانک کورونا وبا کی وجہ سے معاشی مسائل سے دوچار عوام پر پیٹرول بم گرا دیا ۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے اعلامیہ کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 25;46;38 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 21;46;31 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 23;46;50روپے فی لیٹر اور لاءٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 17;46;84 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعدپٹرول کی قیمت 74;46;52 روپے سے بڑھا کر 100;46;10روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت80;46;15 روپے سے بڑھا کر101;46;46 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت 35;46;56 روپے سے بڑھا کر59;46;06 روپے فی لیٹر اور لاءٹ ڈیزل آئل کی قیمت 38;46;14 روپے سے بڑھا کر55;46;98 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت محض ایک حکومت نہیں بلکہ اس ملک کے پسے ہوئے طبقے کی ایک امید تھی یا شاید اب بھی ہے تاہم اچانک پیٹرول قیمتوں میں اضافے سے عوام میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے ۔ گزشتہ ماہ حکومت نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے تک کمی کی تھی ۔ تاہم پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کے باوجود اس کی عدم دستیابی نے عوام کو شدید مشکلات اور کرب میں مبتلا رکھا کیونکہ پیٹرول و ڈیزل کی عدم دستیابی کے باعث اشیاء خوردونوش مزید مہنگی ہوگئیں جس کے باعث پیٹرول قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچنے کے بجائے الٹا عوام کو اذیت میں مبتلا کردیا گیا ۔ ابھی ملک میں پیٹرول ترسیل مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی تھی کہ اور پیٹرول قیمتوں میں کمی عوام تک ٹھیک سے پہنچی ہی نہیں تھی کہ اچانک راتوں رات حکومت نے پیٹرول قیمتوں میں ایسے اضافہ کیا جیسے ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ۔ اگر میں غلط نہیں تو پیٹرول قیمتوں میں ردوبدل کے حوالے سے مہینے میں ایک بار بارے عدالتی فیصلہ بھی موجود ہے اور اگر مہینے میں ایک بار پیٹرولیم مصنوعات کے ردوبدل کا عدالتی حکم موجود ہے تو پیٹرولیم مصنوعات میں موجودہ اضافہ توہین عدالت ہو گا ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر اور وفاقی وزیر عمر ایوب پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قیمتوں میں اضافہ مجبوری تھی،ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 112 فیصد اضافہ ہوا، بنگلا دیش، بھارت اور دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں پیٹرول آج بھی سستا ہے،جنوری میں پٹرول کی قیمت 116 روپے تھی، پٹرول کی قیمت جنوری کے مقابلے میں اب بھی 16 روپے فی لیٹر کم ہے ۔ اب کوئی حکومتی وزراء سے پوچھے کہ مجبوریاں تو گزشتہ حکومتوں کو بھی ہوتی تھی تو پھر کنٹینر پر چڑھ کر تقریریں کرنے کا کیا مقصد تھا;238;اگر پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی ماضی کی حکومتوں کی تقلید کرنی ہے اور انہی کی مثالیں دینی ہیں تو پھر آپ کو عوام کس لیے حکومت میں لائے ہیں ;238;عمر ایوب اور ندیم بابر کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایشیاء کے مقابلے میں اب بھی سب سے کم قیمت پر پاکستان میں پیٹرول دستیاب ہے حالانکہ پاکستان کے حالات اور پاکستانی کی معیشت کی بدحالی کی دوسرے ممالک سے یہ کبھی بھی مقابلہ نہیں کرتے اور نہ ہی مثالیں دیتے ہیں ہاں جب اپنے مطلب کی بات ہو تو فوری دوسرے ممالک کی مثالیں دینا شروع کر دیتے ہیں ۔ عمر ایوب اور ندیم بابر سے یہ پوچھنا بھی حق بجانب ہے کہ بھارت اور پاکستان کا کیا مقابلہ;238;وزیراعظم عمران خان تو نریندر مودی کو ایک نفسیاتی مریض کہتے ہیں تو کیا ایسے میں بھارت کی مثال دینا بنتی ہے;238;عمر ایوب اور ندیم بابر نے پھر وہی گسے پٹے الفاظ استعمال کر کے عوام کو ڈرانے کی کوشش کی کہ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو پیٹرول بحران دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ وفاقی وزیر عمر ایوب کہتے ہیں نوازشریف نے 2015ء میں پٹرول مافیا کے خلاف کارروائی روکی، مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ مافیا کو تحفظ دیا، ہمارا مقابلہ مافیاز، ذخیرہ اندوزوں کے ساتھ ہے، ہم آئل مافیا کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے ۔ اب ان سے یہ پوچھنا بھی بنتا ہے کہ جو حکومت 25دنوں میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی دستیابی ممکن نہ بنا سکی وہ کس منہ سے آئل مافیا کو کنٹرول اور انکے خلاف کارروائی کی بات کر رہے ہیں ;238;کیا یہ دعویٰ مضحکہ خیز نہیں لگ رہا;238;27جون سے قبل تک حکومت کی ہر بات پر یقین آتا تھا اور لگتا تھا کہ اپوزیشن کی تنقید بلا جواز اور صرف سیاسی داوَ پیچ ہیں مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے موجودہ وزراء بھی عوام کو صرف لارے لپے لگانے میں مصروف ہیں اور گراوَنڈ پر کوئی کام نہیں کر رہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد بھی کچھ کیسز کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دے چکے ہیں کہ ادارے کام نہیں کر رہے ۔ یہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کیلئے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ ابھی بھی انکی حکومت کے پاس کافی وقت ہے وہ ابھی بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن اسکے لیے انکو اپنی ٹیم پر نظرثانی کے ساتھ ساتھ قانون کی عملداری یقینی بنانا ہو گی ۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ سب سے پہلے قانون کی عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے کیونکہ اگر عوام کو سستے داموں پیٹرول و ڈیزل اور اسکے ثمرات اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں ملتے تو شاید عوام میں غم و غصہ کم پایا جاتا مگر افسوس ایسا ہونا تو دور کی بات الٹا پیٹرول و ڈیزل کی قلت پیدا کر کے عوام کو مزید مہنگائی کے دوزخ میں جھونک دیا گیا ۔ 27جون کو جیسے ہی ڈیزل مہنگا ہوا اسی وقت ٹرانسپورٹر ز نے کرائے 20فیصد بڑھا دئیے ۔ کیا یہ حکومت کی ناکامی نہیں ;238;پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے وقت تو عوام کو ریلیف ملتے کئی کئی ہفتے گزر جاتے ہیں مگر جونہی پیٹرولیم قیمتیں بڑھتی ہیں تو فوری طور پر ہر چیز میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ کیا یہ عوام کیساتھ مذاق اور ظلم نہیں ;238;وزیراعظم عمران خان صاحب اگر پیٹرول کی قیمتیں بڑھانا مقصود ہی تھا تو راتو ں رات کے بجائے یکم جون کو بڑھاتے تاکہ عوام کو معلوم ہوتا کہ قانون بھی کوئی چیز ہے ۔ ایک طرف حکومت پیٹرول پمپس اور پیٹرولیم کمپنیز کیخلاف پیٹرول قلت پر ایکشن لینے میں مصروف ہو تو دوسری طرف اچانک گھٹنے ٹیکتے ہوئے پیٹرول مہنگا کر دیا جائے تو سوالات تو اٹھیں گے ۔ کارکردگی پر تنقید تو ہو گی ۔ عوام میں غم و غصہ تو پایا جائے گا ۔ جمہوری حکومت کا کام عوام کے دکھ درد میں شریک ہو کر انکی مشکلات کم کرنا ہوتا ہے اگر موجودہ جمہوری حکومت کو بھی ماضی کی جمہوری حکومتوں جیسی روش اختیار رکھنی ہے تو پھر بدلاوَ کیسا;238;