- الإعلانات -

پارلیمانی یا صدارتی نظام

200;ج کل پاکستانی حلقوں میں ایک موضوع زیر بحث ہے کہ دنیا میں پارلیمانی نظام یوں تو کامیاب ترین ہے لیکن پاکستان میں یہ نظام مسلسل ناکام ہو رہا ہے اس لئے صدراتی نِظام کا تجربہ کیوں نہ کر لیا جائے اس پر سنجیدہ حلقوں میں نہ صرف غوروخوض ہورہا ہے بلکہ اس پر باقاعدہ کام ہورہا ہے میری رائے میں پاکستان میں ہم نے مارشل لا کے ادوار بھی دیکھے، ملٹری ڈیموکریسی کے تجربات بھی کرلیے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان، جنرل یحیی ، مرد مومن مردد حق چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، جنرل ضیا الحق، جنرل پرویز مشرف کے طویل دورانیے کے تجربات بھی کیے گئے ٹینکوکریٹس حکومتیں ،نگران حکومتیں بھی ;200;ئیں ملک میں معین قریشی، بلخ شیر مزاری، شوکت عزیز ،چوہدری شجاعت ،میرظفراللہ جمالی اور محمد خان جونیجو جیسے لوگ وزیراعظم لائے گئے ہیں وہاں ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف اور بینظیر بھٹو جیسے لیڈر بھی وزرات عظمی کی کرسی پر متمکن ہوئے ہر ایک کا دور ہنگامہ خیز، افراتفری اور انتشار سے بھرپور رہا وقت تو گزرتا رہا لیکن پارلیمانی نظام مضبوط نہ ہوسکا اور ہمارے ادارے مضبوط نہ ہوسکے پارلیمانی نظام کا فائدہ عام ;200;دمی تک نہ پہنچ سکا ہر ;200;نے والا دور پچھلے دور سے بدتر رہا بلدیاتی نظام پارلیمانی نظام کی سیڑھی ہوتی ہے ہم عوام تک نچلی سطح پر اقتدار منتقل نہ کر سکے یہاں اس موضوع پر مزید روشنی ڈالنے سے پہلے اگر ہم پاکستانی پارلیمانی نظام کے اس سارے سسٹم کا احاطہ مختصر طور پیش کریں یا اس کا جائزہ لیں تو کچھ اس طرح کا منظر سامنے ;200;تا ہے- پاکستان میں برطانیہ کی طرز پر پارلیمانی نظام راءج ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ نظام برطانیہ میں تو کامیابی سے چل رہا ہے پھر پاکستان میں ناکام کیوں ہوا ہے پہلے برطانیہ میں چلنے والے نظام کا مختصر خاکہ پیش ہے برطانیہ کو جمہوریت کی ماں اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہاں وقت پر الیکشن ہوتے ہیں 650 ممبران ;200;ف پارلیمنٹ منتخب ہوتے ہیں اراکین پارلیمنٹ کسی ایک بھی پارٹی کے منشور کو فالو کرتے ہیں اور پارٹی کے لیڈر کو ہی سپورٹ کرتے ہیں الیکشن میں جانے سے پہلے پارٹی کے پیڈ ممبران اپنا امیدوار اپنی خفیہ ووٹوں سے چنتے ہیں درجنوں امیدواروں میں سے کسی ایک حلقے میں کسی ایک کو امیدوار چنا جاتا ہے ان میں وہ کوئی گنگو تیلی کا بیٹا بھی ہوسکتا ہے یا سفید فام ;200;ل چرچل یا افریقن نژاد سیاہ فام یا پھر پاکستانی نژاد بس ڈرائیوروں کے بیٹے جیسے صادق خان یا ساجد جاوید بھی ہوسکتا ہے پھر الیکشن میں ووٹرز اتنے سیانے ہیں کہ یہ نہیں دیکھتے کہ سفید فام ہے یا سیاہ فام ہے وہ پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اسی کے امیدوار کو منتخب کرتے ہیں اسی لئے پارٹی کے امیدوار کو ووٹر پارٹی کے منشور میں شامل معاشی ترقی، تعلیمی اصلاحات اور صحت اور دوسرے شعبوں میں بہتر پروگرام ہوں اسی پارٹی کو اکثریت سے ہمکنار کرتے ہیں پھر جمہوریت کا حسن یہ ہے پارٹیوں کے اندر انتخابات ہوتے ہیں اور پارٹی کے لیڈر اور ڈپٹی لیڈر کا انتخاب ہوتا ہے پارٹی ممبران اپنی مرضی سے اپنا لیڈر اکثریت سے منتخب کرتے ہیں کوئی شخصی یا موروثی سیاست کا رواج نہیں جمہوریت میں ادارے مضبوط ہوتے ہیں ;200;زادی اظہار رائے ہوتا ہے دوسروں کے حقوق کی پاسداری کی جاتی ہے عدلیہ ;200;زاد ہے اگر کسی رکن پارلیمنٹ پر الزام عائد ہو جائے تو وہ فوری استعفی دے دیتا ہے اور اعلی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ;200; پ کو پارٹی سے الگ کرلیتا ہے معافی مانگتا ہے غلط کرنے پر اس کو سزا ملتی ہے برطانیہ کے جمہوری نظام میں کوئی باقاعدہ لکھا ہوا ;200;ئین اور دستور نہیں ہے پاکستان میں میں برطانوی جمہوریت کے طرز پر پارلیمانی نظام ہے لیکن پارٹیوں کے اندر لیڈر شپ کے لئے نہ کوئی انتخابات منعقد ہوتے ہیں نہ ہی ممبران کی کوئی سنتا ہے طاقت اور پیسے کے بل بوتے پر لوگ الیکش جیتتے ہیں جو پارلیمانی نظام کی توہین ہے پھر ہر الیکشن کے ;200;غاز سے ;200;خر تک بدعنوانی کا ایک نہ ختم ہونے والا لامتناہی سلسلہ ہے ہر الیکشن میں دھاندلی ہوتی ہے اور شور شرابا دھاندلی کا پہلے ہی شروع ہوجاتا ہے ہارنے والا ہار تسلیم نہیں کرتا اور جیتنے والا بھی نتاءج پر مطمئن نہیں ہوتا پاکستان میں ان سارے انتظامات اور نظام کی بنیاد ہی کرپشن پر ہے ملک کی غریب قوم کے ٹیکس سے چلنے والی قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے افراد عوام کے صیحع یا اس طرح نمائندگی کا حق ادا نہیں کررہے ہیں جس کا میں نے زکر برطانوی پارلیمان سے کیا ہے یہ ایک چل چلا والا پارلیمان ہے اس میں بیھٹے ہوئے لوگ اداروں کو مضبوط نہیں کرسکتے وزیراعظم بلیک میل ہوتا ہے حکومتی بینچوں پر بیٹھے لوگ بھی مفادات کے تابع ہوتے ہیں جبکہ اپوزیشن نظریہ ضرورت کے مطابق سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کہتی ہے اسی لئے ;200;ج پاک افواج کے علاوہ ہر ادارہ تباہ ہے فوج کی سول اداروں میں عملداری یا دخل اندازی اس لئے ہے کہ ہمارے حکمران اداروں کو مضبوط کرنے کی سعی نہیں کرتے چونکہ وہ کرپشن کا راستہ روکنا نہیں چاہتے جمہوریت کا حسن ہی پارلیمانی نظام ہے لیکن پاکستان جیسے ملک میں یہ بری طرح ناکام ہے صدارتی نظام ہو تو نسل درنسل چلنے والے موروثی سیاست دان اور خود ساختہ دیوتاں کا روپ دھارنے والوں سے جان چھوٹ سکتی ہے انہوں نے پارٹیاں ذاتی ناموں سے رجسٹرڈ کروائی ہوئی ہیں اقتدار میں جانا عوامی خدمت نہیں بلکہ اپنی صنعت و تجارت کو دوائم بخشنا ہے اس کے لئے پاکستان میں دو ;200;پشنز پر غور ہورہا ہے موجودہ حکومت کو چھ ماہ موقع دیا جائے پھر الیکشن ہوں یا پانچ سال پورے کرنے دیئے جائیں الیکشن کسی ایک پارٹی کی اکثریت ہو اور ;200;ئین میں تبدیلی کی جائے اور صدراتی انتخابات کروائے جائیں ۔ یہاں بعض لوگوں کے زہنوں میں ہوگا کہ جب میں نے پارلیمانی جمہوریت کی بات کی تو رائل فیملی کا زکر کیوں نہیں کیا رائل فیملی کا کردار سیاست یا حکومت میں علامتی یا ;67;eremonial ہے ملکہ ایلزبتھ برطانیہ ہیڈ ;200;ف سٹیٹ ہیں جمہوری نظام میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرسکتی ملکہ نہ ہی وزیراعظم کو کسی بات سے منح کر سکتی ہیں چیف ایگزیکٹو وزیراعظم ہے البتہ ڈے ٹو ڈے امور پر وزیراعظم سے مشاورت اور رابطے میں ہوتی ہیں اور بریفنگ لیتی ہے جس کو پبلک نہیں کیا جاتا ہے ۔