- الإعلانات -

ڈومیسائل کا اجرا،دنیا کشمیر میں بھارتی کالے قوانین کا نوٹس لے

مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے تناسب کو بدلنے کی بھارتی کوششوں کو دنیا بھر سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے،لیکن نریندرمودی کی حکومت ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر قانونی اقدامات اُٹھانے میں لگی ہوئی ہے ۔ مقبوضہ وادی پر مسلط کردہ تازہ کالے قانون کے تحت ڈومیسائل کے اجرء کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے ۔ پہلے ہی مرحلے میں 25ہزار سے زائد ڈومیسائل کا اجراء کیا گیا ہے ۔ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ شہریت طرز کے حقوق ہیں جس کے تحت ڈومیسائل حاصل کرنے والا فرد خطے میں رہائش اختیار کرنے اور سرکاری نوکری حاصل کرسکتا ہے ، جبکہ اس سے قبل یہ صرف مقامی افراد کے لیے مخصوص تھا ۔ پاکستان نے بھارتی حکومت کی جانب سے ہزاروں بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر کا غیرقانونی ڈومیسائل دینے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اس کو متنازع خطے کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی کوشش قرار دے دیا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے اپنے بیان میں کہاہے کہ بھارتی عہدیداروں سمیت غیر کشمیریوں کو 2020 ء کے متنازع قانون کے تحت دستاویزات جاری کرنا غیرقانونی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ نئی دہلی کے تازہ اقدامات سے پاکستان کے موقف کو تقویت ملتی ہے کہ بھارت کا اصل مقصد5اگست 2019 کے اقدامات سے خطے کی جغرافیائی صورت حال اور کشمیریوں کو اپنی سرزمین میں اقلیت میں تبدیل کرنا ہے ۔ یہ ;200;رایس ایس،بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ علاقے کی یکطرفہ طور پر خصوصی حیثیت ختم کرنے کے تقریباً ایک سال بعد ، ہندوستان نے کشمیر میں مقیم بیرونی افراد کو25000 ڈومیسائل سرٹیفکیٹ تقسیم کئے ہیں ۔ یہ متنازعہ ہمالیہ کے علاقے میں غیر مقامی افراد کو ;200;باد کرنا مسلم اکثریتی خطے میں ;200;بادیاتی تبدیلی کو متاثر کرنے کی کوشش ہے ۔ سرٹیفکیٹ حاصل کرنےوالے پہلے بیرونی افراد میں سے ایک نوین کمار چودھری ہے جو ہندوستان کے مشرقی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر سرکاری ملازم تھے ۔ وادی کشمیر میں سب سے زیادہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ پلوامہ میں جاری کیے گئے ہیں ، اس کے بعد اننت ناگ، کولگام ، بارہمولہ، شوپیاں ، بانڈی پورہ ، کپواڑہ ، بڈگام ،جبکہ جموں میں سب سے زیادہ ڈوڈا ، راجوری، پونچھ اور جموں میں ہزاروں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں ۔ اگر کوئی تحصیلدار درخواست دہندگان کو بروقت ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ، اسکی تنخواہ سے 50ہزار روپے تک ضبط کرنے کی سزا ہو سکتی ہے ۔ پاکستان سے کشمیر ہجرت کرنے والے ہندو مہاجرین اور1957 میں کشمیر میں داخل ہونے والے ہندوستانی صفائی ستھرائی کے کارکنوں کو بھی ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دیئے گئے ہیں ۔ حال ہی میں ، کوویڈ 19 میں جاری لاک ڈاوَن کے درمیان ، نئی دہلی نے متنازعہ ڈومیسائل قوانین متعارف کروائے جس کے تحت متنازعہ کشمیر میں ہندوستانی شہری ملازمتوں اور رہائش کے اہل ہوں گے ۔ ترجمان کا یہ کہنا درست ہے کہ بھارتی حکومت کا کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرکے مقامی افراد کو اقوام متحدہ کی زیرنگرانی ;200;زادانہ اور غیر جانبدار رائے دہی کے حقوق سے محروم کرنے کا ارادہ ہے ۔ بھارت اس طرح مقبوضہ وادی میں جاری حقوق کی خلاف ورزی، روز مرہ زندگی میں سختی، فوجی کریک ڈاوَن، ماورائے عدالت قتل اور غیر قانونی گرفتاریوں جیسے اقدامات کو مزید سخت کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مظالم سے کشمیر کے عوام کو ماضی میں ان کے مقصد سے ہٹا نہیں پایا ہے اور مستقبل میں بھی کامیابی نہیں ملے گی ۔ ترجمان نے بھارت کو کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے سے روکنے کےلئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈومیسائل حاصل کرنے والوں کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت کے پاس مقبوضہ جموں و کشمیر سے باہر کے لوگوں کو یہاں لا کر ;200;باد کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے ۔ بین الاقوامی قانون نئی دہلی کو اس طرح کے اقدامات سے روکتا ہے ۔ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے ۔ مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ وہاں انتظامی امور پر مزید گرفت پکی کرنے کے اقدامات مین بھی تیزی آگئی ہے ۔ اس سلسلے میں جنوبی کشمیر میں مقبوضہ جموں کشمیر انتظامیہ نے مزید7 نئے پولیس یونٹوں کی تشکیل کی منظوری دی ہے جبکہ 271 سے زائد اضافی پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ 3 دیگر یونٹوں کا اضافہ کیا جائے گا ۔ جمعرات کو جاری ہونے والے ایک حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ کولگام ضلع کے قاضی گنڈ میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس ہائی وے کے دفتر کے قیام کی منظوری دی گئی ہے جبکہ اس کے علاوہ پانپور میں سب ڈویژنل پولیس ;200;فیسر دفتر قائم کیا جائیگا ۔ محکمہ نے ضلع کولگام کے بہی باغ میں پولیس چوکی کو پولیس اسٹیشن میں توسیع دینے اور ڈی کے پورہ اور سنگم میں پولیس چوکیوں کو باقاعدہ بنانے کی منظوری بھی دی ۔ حکمنامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکورٹی گرڈ کو مضبوط بنانے کےلئے ، حکومت نے ان سیکورٹی یونٹوں پر 272 پولیس اہلکاروں میں 1اے ایس پی ، ایک ڈپٹی ایس پی ، ایک انسپکٹر ، 19 سب انسپکٹر اور 9ایس ;200;ئی کو تعینات کرنے کا حکم دیا ہے ۔ یہ سب اقدامات ایسے ہیں جو مقبوضہ کشمیر پر جبری طور پر مسلط کئے جا رہے ہیں ۔ پاکستان نے دنیا کو ان اقدامات کا نوٹس لینے کا کہا ہے ۔ چند روز قبل او آئی سی بھارت کے ایسے اقدامات کی مزمت کی ہے ،لیکن باقی دنیا ابھی خاموش ہے یہ معاملہ بنیادی طور پر یو این او کی رٹ کو چیلنج کر رہا ہے،جہاں کشمیر کی متنازعہ حیثیت ابھی طے ہونا باقی ہے ۔ اس معاملے میں امریکہ کا کردار ہمیشہ دوہرا رہا ہے ۔ گزشتہ روز امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے اعلان کیا کہ واشنگٹن چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ایسے حکام پر ویزا پابندیاں عائد کر رہا ہے جو ہانگ کانگ کی عوام کی خودمختاری مجروح کرنے کے ذمہ دار تھے ۔ جبکہ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کی عوام کی خود مختاری کے ساتھ بھارت اور اس کی موجدہ حکومت کر رہی ہے وہاں امریکہ کو سانپ سونگھ جاتا ہے ۔ ایسی ہی دوہریاں پالیسیاں انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہیں ۔

بھارتی ہٹ دھری،راہداری کھولنے سے انکار

پاکستان نے سکھوں کی مقدس عبادت گاہ گوردوارہ کرتارپور صاحب کل دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے،لیکن ہٹ دھرم بھارت نے سرحدی راہداری کھولنے سے انکارکر دیا ہے ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹوءٹر پر اپنے بیان میں کہاکہ دنیا بھر میں عبادت گاہیں دوبارہ کھول دی گئی ہیں ۔ پاکستان سکھ زائرین کےلئے کرتارپور گوردوارہ دوبارہ کھولنے جارہا ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت سے کہا گیاہے کہ29جون سے گوردوارہ کرتارپور کھول دیا جائیگا،بھارت گوردوارہ دوبارہ کھولنے کے حوالے سے اپنی سائیڈ پر انتظامات مکمل کر لے ،پاکستان یہ راہداری اس لئے کھولنا چاہتا ہے کہ سکھ رہنما رنجیت سنگھ کی برسی ہے ۔ دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان نے بابا گرو نانک کی550ویں سالگرہ تقریبات کے موقع پر کرتار پور راہداری کھول کر سکھ یاتریوں اور عالمی برادری کی دیرینہ خواہش پوری کی گئی تھی ایک بار پھر ان کےلئے اہم دن آرہا ہے ۔ کرتار پور راہداری صحیح معنوں میں امن اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت ہے، بھارت سمیت دنیا بھر میں سکھ برادری کی جانب سے حکومت پاکستان کے اس سنگ میل اقدام کو بھرپور طور پر سراہا گیا ۔ کوویڈ 19 وبا کے پیش نظر راہداری کو رواں برس 16 مارچ کو عارضی طور پر بند کیا گیا تھا ۔ لیکن اب دنیا بھر میں مذہبی مقامات آہستہ آہستہ کھل رہے ہیں ۔ سکھ یاتریوں کےلئے کرتارپور راہداری ایس او پیز کے تحت دوبارہ کھولنے میں قباحت نہیں ہے ۔