- الإعلانات -

سیکیورٹی فورسزنے دہشتگردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملادیئے

سیکیورٹی فورسز نے اندرونی و بیرونی ہر محاذ پر دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اسکی گھناءونی سازشیں ناکام بنائی ہیں ۔ مودی سرکار کے جنونی توسیع پسندانہ عزائم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔ مودی سرکار معروضی حالات میں اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان میں دہشت گردوں کو سرگرم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ اسکی شرانگیزیاں کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہیں اس لئے نئے فتنے اٹھنے سے قبل انکے قلع قمع کی پلاننگ کرلینی چاہیے ۔ پاکستان میں جہاں دشمن کے سلیپر سیلز موجود ہیں وہیں ان کیخلاف متعلقہ ادارے بھی متحرک ہیں انکی سب سے بڑی کارروائی دہشت گرد کلبھوشن کی گرفتاری ہے ۔ اسکے علاوہ بھی کئی شتونگڑے گرفتار ہوتے رہتے ہیں ۔ سلیپر سیلز کا قیام ان کا برقرار رہنا اور انکی طرف سے دہشت گردی کا ارتکاب سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں ۔ بھارت پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، کوئی شک نہیں پاکستان میں گزشتہ روز ریاستی دہشت گردی کی گئی،ہٹلر کی مودی سے تشبیہ بالکل درست ہے ، بھارت لداخ سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے ۔ گزشتہ روز کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنادیا گیا ۔ چار دہشت گرد گاڑی میں مرکزی دروازے پر پہنچے اور اندھا دھند فائرنگ اور دستی بم پھینکنا شروع کردیئے اور عمارت میں گھسنے کی کوشش کرنے لگے تاہم پولیس اور سیکورٹی گارڈز نے مستعد جواب دیا اور چند منٹ میں چاروں حملہ آور مار دیئے ، چاروں حملہ آور دہشت گرد اہداف حاصل نہ کرسکے اور عمارت سے باہر ہی مارے گئے ، فراءض کی ادائیگی میں ایک پولیس اہلکار اور 3سیکورٹی گارڈز شہید ہوگئے ، دہشت گرد حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے، حملے کے بعد ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر بخاری اور ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے بریفنگ دی ۔ ڈی جی رینجرز سندھ نے کہا کہ الرٹ بروقت ملا ،بھارتی خفیہ ایجنسی را کی بوکھلاہٹ سب کے سامنے ہے جبکہ ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ ہ میں تھریٹ الرٹس ملتے رہتے ہیں ،پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی انہی تھریٹ الرٹس میں شامل تھی، امن و امان اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے حملے کو ملک اور قومی معیشت پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا اور حملہ آوروں کو آہنی ہاتھوں سے کچل دیا جائے گا ۔ کراچی میں اسٹاک ایکسچینج میں دہشت گرد حملے کوناکام بنانے پر سیکورٹی اداروں ، رینجرز اور پولیس عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ سیکورٹی گارڈز نے اپنی جانیں قربان کرکے دہشت گردوں کے حملے کو روکا، شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ، ہم دشمن کے ناپاک عزائم اور عدم استحکام کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے ۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان ، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن)کے صدر و قائد حزب اختلاف شہبازشریف ،جے یو آئی کے سر براہ مولانا فضل الرحمن،ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبو ل صدیقی، پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال سمیت قومی قیادت نے اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جان پر کھیل کر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے والے سکیورٹی گارڈز کو خراج تحسین پیش کیا ۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج پر ہونے والا دہشت گردحملہ قابلِ مذمت ہے، دہشت گرد ہمارے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتے ۔ حملے کے منصوبہ سازوں کو عبرت کا نشانہ بنایا جانا ضروری ہے ۔ ملک دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد کےلئے ایک بار پھر بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونگے ۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اطلاع دی تھی کہ دہشت گرد کراچی میں کچھ مقامات پر حملہ کر سکتے ہیں ۔ بھارت نواز بی ایل کے پی ایس ایکس کی عمارت پر حملے کے تناظر میں بہترین تیاری کی وجہ سے ہی فوری کارروائی ممکن ہوئی اور دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ۔ کراچی میں اسٹاک ایکسچینج حملے کا ماسٹر کالعدم تنظیم کا کمانڈر بشیر زیب ہے جو ساتھی اللہ نذر کے ساتھ قندھار فرار ہے ، بشیر زیب اسلم اچھو کے بعد کمانڈر بنا جو چینی قانصل خانے پر حملے کا ماسٹر مائند تھا ، اسٹاک ایکسچینج حملے میں را فنڈنگ کے شواہد ملے ہیں ۔ پاکستان کی موثرسفارتکاری کے باعث بین الاقوامی برادری بھارت کے مذموم عزائم پرتنقید کررہی ہے ۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھی را فنڈنگ کے شواہد ملے ہیں ۔ بھارت چینی فوج کے ہاتھوں ذلت کی خفت مٹانے اور صورتحال سے بھارتی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کیخلاف کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔ کوئی مہم جوئی کر سکتا ہے اس سب کا پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ادراک ہے ۔ وزیراعظم عمران خان واضح کرچکے ہیں کہ بھارت کے کسی بھی اقدام کا جواب پوری قوت اور ایک لمحہ کی بھی تاخیر کے بغیر دینگے ۔ پاک فوج گزشتہ سال بھی اپنی طاقت اور ہمہ وقت دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کا اس وقت مظاہرہ کرچکی ہے جب بھارت کے دو جہاز مارے گرائے گئے تھے اور ایک پائلٹ کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا اور ایک سال میں دو درجن بھارتی ڈرون بھی تباہ کر دیئے ہیں ۔ پاکستان بھارت تنازعہ اور دشمنی کی وجہ کشمیر ایشو ہے ۔ مسئلہ کشمیر بارود کا پہاڑ بن چکا ہے جس کو جب کبھی چنگاری دکھائی گئی تو خطے کا امن تہہ و بالا ہو کر عالمی امن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔ عالمی برادری کو اس مسئلہ کا پائیدار حل بہرصورت نکالنا ہوگا ۔ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف ایک طویل جنگ لڑی ہے اور انٹیلی جنس اداروں نے پاکستان میں بہت سے دہشت گردوں کوتخریبی کارروائیاں کرنے سے پہلے پکڑاہے پاکستان دہشت گردی کا موثرانداز میں مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتاہے ۔ یقینا ملک کا دفاع ہماری جری و بہادر اور مشاق و مضبوط عساکر پاکستان کے ہاتھوں میں مکمل محفوظ ہے اور قوم کو اپنی سپاہ اور عسکری قیادتوں پر بجا طور پر فخر ہے ۔

قومی اسمبلی میں 2020-21کابجٹ منظور

اپوزیشن کی تمام تر کوششیں ناکام ہوگئیں ، قومی اسمبلی نے حزب اختلاف کی کٹوتی کی تمام تحاریک مستردکرتے ہوئے آئندہ مالی سال 2020-21کے7137ارب روپے حجم کے ٹیکس فری وفاقی بجٹ کی کثرت رائے سے منظوری دیدی، اپوزیشن پلے کارڈ اٹھاکر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتی رہی ،وفاقی وزیر مرادسعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے علامتی واک آءوٹ کر دیا ، مراد سعید کی تقریر کے خاتمے کے ساتھ اپوزیشن کا واک آءوٹ بھی ختم ہوگیاوزیر اعظم عمران خان نے ایوان میں بیٹھ کر بجٹ منظور کرایاحکومتی ارکان نے خوشی میں نعرے لگائے ، اپوزیشن اراکین شورشرابہ کرتے رہے ۔ قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار محمد حماد اظہر نے تحریک پیش کی کہ یکم جولائی 2020سے شروع ہونے والے مالی سال کے لئے وفاقی حکومت کی مالی تجاویز کو روبہ عمل لانے اور بعض قوانین میں ترامیم کرنے کے بل مالیاتی بل 2020کو فی الفور زیر غور لایا جائے ۔ اس تحریک کی اپوزیشن کی جانب سے خواجہ محمد آصف بلاول بھٹو زرداری احسن اقبال مولانا اسعد محمود اور سید نوید قمر نے مخالفت کرتے ہوئے بجٹ تجاویز کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اسپیکر نے مالی سال 2020کو زیر غور لانے کی تحریک ایوان میں پیش کی جس کی ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دیدی ۔ سپیکر نے بل کی تمام شقوں کو یکے بعد دیگرے ایوان میں منظوری کےلئے پیش کیا ۔ بل کی مختلف شقوں پر شاہدہ رحمانی شگفتہ جمانی شزہ فاطمہ خواجہ ڈاکٹر نفیسہ شاہ عبدالقادر پٹیل سید نوید قمر اور دیگر نے فنانس بل میں ترامیم پیش کیں جن کی وفاقی وزیر حماد اظہر نے مخالفت کی ۔ اسی طرح اپوزیشن کی تمام ترامیم ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کردیں جبکہ وفاقی وزیر حماد اظہر کی طرف سے پیش کردہ تمام ترامیم کو منظور کرتے ہوئے بل کا حصہ بنا دیا گیا ۔