- الإعلانات -

جب بھارت میں ایمرجنسی لگی!

25 اور 26جون کی درمیانی شب بھارت میں ایمرجنسی کے نفاذ کو 45 برس بیت گئے، ایسے میں غالبا یہ بے جا نہ ہو گا کہ اس وقت کے حالات اور بھارتی سیاست پر تفصیلی نظر ڈالی جائے تاکہ ہ میں اپنے ہمسایہ ملک کی تاریخ اور نفسیات سمجھنے میں مدد مل سکے ۔ ماہرین کے مطابق بھارت بنگلہ دیش کی جنگ جیت کر بھی اپنا سب کچھ ہار چکا ہے ۔ مشرقی پاکستان میں لڑائی جیتنے کے بعد ایک بار تو اندرا گاندھی شہرت کی انتہائی بلندیوں پر پہنچ چکی تھی اور ہندو ذہن اپنی ہزار سالہ ہزیمتوں کے بعد اس فتح کا مکمل جشن منانا چاہتا تھا،یہاں تک کہ اندرا گاندھی کے بدترین سیاسی مخالف بھارتی جن سنگھ (موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی) کے صدر اٹل بہاری واجپائی نے بھی ان الفاظ میں اندرا کو خراج ِ تحسین پیش کیا :شی از درگا ماتا ۔ مگر اندرا گاند ھی یعنی ماڈرن درگا دیوی کی عقیدت کا دورانیہ نہایت مختصر تھا ۔ ایک ہی سال بعد اس درگا دیوی میں طرح طرح کے کیڑے نکالے جا رہے تھے ،یہاں تک کہ اس کے ذاتی کردار کی دھجیاں اڑ رہی تھیں ۔ بیس برس تک اندرا اور نہرو کا پرائیویٹ سیکرٹری رہنے والا ایم او متھائی کہہ رہا تھا کہ سابق وزیرِ خارجہ دنیش سنگھ روزانہ رات نو بجے کے بعد درگا دیوی کے بیڈ روم میں بریفنگ کے لئے جاتا تھا اور گھنٹوں یہ بریفنگ جاری رہتی تھی ،جب کہ خواب گاہ میں بیڈ کے علاوہ کوئی صوفہ یا کرسی بھی بیٹھنے کے لئے موجود نہ تھی ۔ کردار کشی کی اس مہم کے دوران درگا دیوی یا دنیش سنگھ کی طرف سے کوئی تردیدی بیان بھی جاری نہ ہوا ۔ اس کے علاوہ باجپائی کے پارٹی اخبار مدر لینڈ نے یہ خبر شہ سرخیوں کے ساتھ شاءع کی کہ پروڈیوسر اوم پرکاش کی فلم آندھی درحقیقت اس درگا دیوی کی ذاتی زندگی پر مبنی کہانی ہے ۔ بھارت میں بے روزگاری اور افلاس کی حکمرانی تھی ۔ ایسے میں اندرا کے لاڈلے سنجے گاندھی کے ماروتی سکینڈل نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔ سنجے جیسے لا ابالی نوجوان نے جس کے پاس 1970 میں ذاتی اکاونٹ میں صرف 1200 روپے تھے، ماروتی پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے کارسازی کا کارخانہ قائم کر لیاجس کیلئے اسے ضلع گوڑ گاءوں ( آج کل اسے گرو گرام کہا جاتا ہے) میں چار سو ایکڑ اراضی مارکیٹ ریٹ سے دس گنا کم پر فراہم کی گئی ۔ اس میں اس کی معاونت وزیرِ اعلیٰ بنسی لعل نے کی تھی ۔ ماروتی لمیٹڈ نے معاہدہ کیا تھا کہ یکم اکتوبر 1973 تک سالانہ دس ہزار کاریں تیار کریگی اور سیلز ایجنسیوں کے ذریعے 2 کروڑ بیس لاکھ روپے اکٹھے کر لئے گئے تھے مگر عملی طور پر ایک بھی کار فراہم نہ کی گئی ۔ یہ سارے معالات مل کر ایک طوفان کی صورت اختیار کر گئے اور اس پس منظر میں اندرا گاندھی کے فاتح بنگلہ دیش ہونے کا تصور بری طرح دھندلا گیا تھا ۔ جنگی جنون سارا ماند پڑ گیا اور اقتصادی بد حالی کا عفریت منہ کھولے ہر چیز ہڑپ کر لینا چاہتا تھا ۔ اس پر مستزاد ہر روز ایک نیا مسئلہ اندرا کو پریشان کرنے کے لئے اٹھایا جا رہا تھا ۔ اس پر یہ الزام بھی تسلسل کے ساتھ لگایا جا رہا تھا کہ سعودی عرب کے شاہ ابن سعود نے کروڑوں کی مالیت کا انتہائی قیمتی نیکلس اسے تحفے میں دیا تھا،مگر اس نے اصلی غائب کر کے نقلی ہار ، جس کی قیمت صرف 12 ہزار روپے تھے توشہ خانے میں رکھ دیا تھا ۔ اس بحران پر قابو پانے کے لئے دیوی جی نے ایک آرڈی نینس ،جس کا نام ;77;aintenance ;79;f ;73;nternal ;83;ecurity ;65;ct تھا ،جاری کر دیا تھا جسے عرف عام میں میسا (;77738365; ) کہا جاتا ہے ۔ اس کے تحت اندرا نے اپنے مخالفین کو پکڑ کر جیلیں آباد کرنی شروع کر دی تھیں لیکن ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود اس کا زوال شروع ہو چکا تھا ۔ بھارت میں سیاسی فضا اندرا گاندھی کے خلاف بننا شروع ہو گئی اور جے پرکاش نارائن نے اندرا کیخلاف ملک گیر سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی تھی ۔ اس تحریک کے نتیجے میں صوبہ گجرات کی حکومت کو مستعفی ہونا پڑا ۔ ان حالات میں حکومت روز بروز سیاسی طور پر مفلوج ہوتی جا رہی تھی ۔ 12 جون 1975 کا دن بھارت کی سیاسی تحریک میں انتہائی دھماکہ خیز ثابت ہوا ۔ اس روز الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جگ موہن لعل سنہا نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کو پارلیمنٹ کی رکنیت سے نا اہل قرار دے دیا اور چھ سال کےلئے ان پر الیکشن لڑنے کی پابندی لگا دی ۔ یہ فیصلہ سوشلسٹ راج نارائن کی انتخابی عذرداری پر کیا گیا جو انہوں نے انتخابی بد عنوائیوں کی بنیاد پر اندرا کیخلاف دائر کر رکھی تھی ۔ جسٹس موہن لعل سنہا نے اس بنیاد پر اندرا کو نا اہل قرار دیا کہ یش پال کپور نے سیاسی ملازمت میں ہوتے ہوئے اندرا کی انتخابی مہم چلائی تھی اور اس کے کاغذات نامزدگی داخل کروائے تھے جبکہ سرکاری ملازمت سے استعفا یش پال کپور نے اس کے چند روز بعد دیا تھا ۔ بلرام جی ٹنڈن جو پرائم منسٹر ہاءوس دہلی میں پروٹوکول افسر کے عہدے پر تعینات تھے اور وہیں سے سیدھے جیل بھجوا دیئے گئے تھے ۔ انھوں نے ان دنوں کی اندرونی کہانی کا تذکرہ کچھ یوں کیا ۔ 12 جون 1975 کی صبح وزیر اعظم کے سینئر پرائیویٹ سیکرٹری کرشنا آئر سلیشن ، پرائم منسٹر ہاءوس میں موجود تھے اور نروس انداز میں بار بار ٹیلی پرنٹرز کے گرد گھوم کر پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی ) اور یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا ( تب یہ دونوں ہی بھارت کی بڑی خبر رساں ایجنسیاں تھیں ) کی بھیجی ہوئی خبروں کی چھان پھٹک میں مصروف تھے ۔ باقی سبھی عملہ حیران تھا کہ ماجرا کیا ہے کیونکہ عام طور پر اتنے سینئر حکام کبھی ایسے رویے کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ مسٹر سلیشن بار بار کمرے میں آتے اور موصول شدہ پیغامات کو الٹ پلٹ کر دیکھتے مگر انھیں جس شے کا انتظار تھا وہ غالبا ابھی تک نہیں پہنچی تھی ۔ دس بجنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی اور الہ باد میں موجود انٹیلی جنس اداروں کا براہ راست رابطہ وزیر اعظم ہاءوس سے تھا ۔ چند لمحے قبل وہاں سے پیغام وصول ہوا تھا کہ متعلقہ جج ابھی اپنے گھر سے عدالت کےلئے روانہ نہیں ہوئے ۔ سلیشن برآمدے میں ٹہلتا ہوا جسٹس جگ موہن لعل سنہا کے بارے ہی میں سوچ رہا تھا ۔ اسے حیرانی تھی کہ یہ شخص کس مٹی کا بنا ہوا ہے ۔ جس پر کوئی لالچ یا دھمکی اثر انداز نہیں ہوئی تھی ۔ حالانکہ آج تک یہی سنا گیا تھا کہ ہر شخص کی کوئی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے جسے ادا کر کے خریدا جا سکتا ہے مگر اسی مفروضے کو سامنے رکھتے ہوئے گزشتہ چند ہفتوں میں جسٹس سنہا سے اعلیٰ سطح پر کئی رابطے کیے گئے تھے ۔ یو پی سے تعلق رکھنے والے ایک کانگرسی رکن لوک سبھا نے خود جا کر سنہا کو دس لاکھ کی آفر بھی دی تھی مگر وہ شخص ٹس سے مس نہ ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ (جاری ہے)