- الإعلانات -

معیشت وسالمیت کو نقصان پہنچانے کا بھارتی منصوبہ

الطاف حسین جو کہ برطانیہ میں پناہ لیئے ہوئے ہیں اورمسلسل شروع دن سے ہی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل وہ بھارت میں سیاسی پناہ کےلئے درخواست بھی دے چکے ہیں جس میں ان کا موَقف تھا کہ چونکہ ان کے آباوَ اجداد کا تعلق بھارت سے تھا لہٰذا انھیں بھارت میں رہائش کی اجازت دی جائے ۔ وہ ماضی میں متعدد بار بھارت سے مدد کی اپیلیں کر چکے ہیں ۔ یہ بھی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ الطاف حسین نے ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ میں باقاعدہ مورتیاں رکھوا لی ہیں اور پوجا کا اہتمام بھی کرلیا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل کراچی میں ایم کیو ایم لندن نے 6 کالعدم دہشت گرد جماعتوں کے ساتھ مل کر مہاجر فریڈم فاءٹرز کے نام سے ایک اتحاد بنایا تھا ۔ یہ عسکری اتحاد آج کل مکمل طورپر فعال ہو گیا ہے ۔ متحدہ لندن، بلوچ لبریشن آرمی ، جئے سندھ تحریک، جئے سندھ قومی محاذ ، پشتون تحفظ موومنٹ اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے اتحاد سے بنائے گئے گروپ نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کےلئے کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ اس اتحاد کی جانب سے گزشتہ دنوں کراچی میں ہونے والے قتل و غارت گری کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی گئی ۔ ساتھ ہی سندھو دیش کے قیام کا مطالبہ بھی کیا گیا ۔ گزشتہ روز کراچی سٹاک ایکس چین میں ہونے والی دہشت گردی میں بھی یہ گروپ ملوث ہے ۔ بلوچ لبریشن آرمی جس نے حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے، اسی گروپ کا حصہ ہے اور اس گروپ کو مالی امداد بھارت سے ملتی ہے ۔ ایم کیو ایم لندن سمیت اس گروپ میں شامل تمام کالعدم جماعتوں کے بارے ثبوت موجود ہیں کہ ان کو ’را‘ سے پیسے ملتے ہیں اور پھر یہ غدار وطن بھارتی حکم پر وطن عزیز میں دہشت گردی، انارکی پھیلاتے ہیں ۔ کراچی حملے کی ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ حملے کی ذمہ داری لینے والی بلوچ لیبریشن آرمی(مجید بریگیڈ گروپ) کا قندھار میں قائم بھارتی قونصل خانے سے تعلق تھا ۔ حملے سے دو دن قبل قندھار اور زاہدان کے بھارتی قونصل خانوں میں غیر معمولی اور مشکوک نقل وحرکت کی اطلاعات بھی ملی ہیں ۔ اسی بنا پر ہمارے خفیہ اداروں نے اطلاعات دی تھیں کہ کراچی میں دہشت گردی ہو سکتی ہے ۔ اسی وجہ سے سیکورٹی فورسز چوکس تھیں اور تمام کاروباری عمارتوں پر نگاہ رکھی جا رہی تھی ۔ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ چند روز قبل ’’را ‘‘کے چیف قندھار آئے ۔ بلوچستان، کراچی میں دہشت گردی اور سی پیک سبوتاژ کرنے کےلئے را کا میجر آپریشنل بیس قندھار ہے ۔ بعض اوقات بھارت ہرات میں قائم قونصل خانے کا استعمال بھی کرتا ہے ۔ بی ایل اے کو ٹریننگ قندھار اور مزار شریف میں دی جاتی ہے ۔ دہشت گردوں کا ریسٹ ایریا بھی مزار شریف ہے جہاں بھارتی قونصل خانے میں تعینات بھارتی ایجنٹس ان دہشت گردوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں جبکہ کابل میں قائم بھارتی سفارت خانہ پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی کو کنٹرول کرتا ہے ۔ سیکیورٹی اداروں نے پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ کا پتا لگا لیا ہے، کالعدم تنظیم کا بشیر زیب نامی کمانڈر دہشت گرد حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے ۔ بشیر زیب ہلاک دہشت گرد اسلم اچھو کے بعد کمانڈر بنا تھا ، اسلم اچھو چائینز قونصلیٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا ۔ سیکیورٹی ذراءع کے مطابق کالعدم تنظیم نے بھارتی خفیہ ایجنسی‘’را’’کی فنڈنگ سے چائنیز قونصلیٹ پر حملہ کیا تھا ۔ ہمارے خفیہ اداروں کی انہیں معلومات پر قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ، سٹاک مارکیٹ حملے میں بھارت ملوث ہے ۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ پڑوسی ملک میں بنا ۔ امن دشمنوں کے مقابلے کیلئے ہماری پوری تیاری تھی ۔ شہدا نے جانوں کے نذرانے دے کر دہشت گردی ناکام بنا دی ۔ اب ہمارے دفاعی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھی امتحان ہے کہ وطن عزیز میں ہونے والی بھارتی دہشت گردی کا بروقت پتہ لگائیں کیونکہ بھارت تو اس وقت لداخ شکست کے بعد پاگل ہو گیاہے ۔ مزید سونے پر سہاگہ کہ نیپال اور بھوٹان بھی اس کو آنکھیں دکھانی شرو ع ہو گئے ہیں ۔ اس صورتحال میں بھارت اپنا غصہ نکالنے کےلئے پاکستان میں تخریب کاری کروا سکتا ہے ۔ جس کی ایک مثال کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ ہے ۔ بہرحال ہمارے ہاں تجارتی سرگرمیاں سبوتاژ کرنے کا بھارتی منصوبہ ناکام ہوگیا ۔ جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہا ۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار تجارتی لین دین میں مصروف رہے اور ٹریڈنگ ایک لمحہ بھی معطل نہیں ہوئی ۔ اس دفعہ کراچی بھارتی دہشت گردی کا نشانہ معلوم ہوتا ہے ۔ کراچی میں اس سے قبل رینجرز پر دستی بموں سے حملہ ہوا تھا جس میں بھارت کے پاکستان میں یہی ایجنٹس دہشت گردی کرتے پائے گئے ہیں ۔ ایم کیو ایم لندن ، جئے سندھ اور بی ایل اے اپنے بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر دہشت گردی کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ ہ میں یہاں بھارتی ایجنٹوں کو بے نقاب کر کے ان کو فی الفور ختم کرنا ہوگا ۔ یہ لوگ ہمارے یہاں رہتے ہیں ۔ ہمارا کھاتے ہیں اور کام بھارت کےلئے کرتے ہیں ۔ ہماری خفیہ ایجنسیاں ان گروہوں کی سرکوبی کا کام با احسن انجام دے سکتی ہیں ۔ ڈی جی رینجرز سندھ کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں رینجرز اور پولیس کی ریپٹ ایکشن فورس نے بروقت کارروائی کی ۔ ہ میں ادراک ہے کہ ملک دشمن ایجنسیاں کوششیں کر رہی ہیں کہ بچے کچے دہشت گردوں کے پاکستان کے خلاف استعمال کریں مگر ہم واقف ہیں کہ کون کیا کررہا ہے ۔ ان کے خلاف کام شروع کرچکے ہیں اور انہیں نیست و نابود کریں گے ۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں ۔ دہشت گرد 8 منٹ میں فارغ ہوگئے یہ تمام ایجنسیوں کی مشترکہ کامیابی ہے ۔ بھارت کے خلاف ہماری پوری قوم متحد ہے ۔ ہر شہری یک جان ہے ۔ اس اتحاد میں کوئی بھی شگاف نہیں ڈال سکتا ۔ کسی میں اتنی جرات نہیں کہ ہماری طرف آنکھ آٹھا کر دیکھے ۔ ہم پرامن قوم اور امن پسند شہری ہیں مگر دہشت گردی بھی ایک حقیقت ہے اس سے نمٹنے کےلئے ہ میں بندوق اٹھانا ہی پڑے گی ۔ ایسے حملوں کا بروقت جواب دے کر اور دشمن کی جڑیں کاٹ کر ہی ہم پرامن رہ سکتے ہیں ۔