- الإعلانات -

بھارتی دہشت گردانہ عزائم،عالمی برادری نوٹس لے

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے دوٹوک انداز میں واضح کردیاہے کہ بھارت خطے میں امن کی صورتحال کسی صورت بھی برقرار نہیں رکھناچاہتا،کراچی سٹاک ایکسچینج پر ہونے والے حملے میں تمام ترڈانڈے بھارت سے ملتے ہیں پاکستان اس حوالے سے ہزار ہا مرتبہ دنیابھر کو باور کراچکا ہے کہ بھارت امن وامان کوتہہ وبالاکررہاہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی یہی صورتحال ہے ،عالمی برادری کو اس حوالے سے ایکشن لیناچاہیے، بھارت کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ اس طرح کی حرکتیں کرکے اپنے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچادے گا ۔ وہ صرف سرحدپار پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث نہیں بلکہ اپنے ملک میں بھی خودساختہ دہشت گردی کراکے الزام پاکستان پر لگادیتاہے ۔ یہی باتیں وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران دنیاکو باور کرائی ہیں لیکن پھربھی اگر بین الاقوامی برادری اپنی آنکھیں بندرکھتی ہے تو پھرصرف خطے کا ہی نہیں پوری دنیا کے امن وامان کا اللہ ہی حافظ ہے چونکہ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں اور پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت ، آزادی کے استحکام کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتاہے ۔ نیزایسی صورتحال میں ملک کے اندر بھی سیاسی استحکام کی ضرورت ہے ، وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ کرسی مضبوط ہے،آج ہیں کل نہیں ہیں ، میں نے نہیں کہا کہ میری حکومت نہیں جانے والی، کرسی آنی جانی چیز ہے جب تک ہم نظریہ اوراصول پرقائم ہیں کوئی ہماری حکومت نہیں گراسکتا ،مشرف کی حکومت اچھی تھی لیکن این آراوبراتھا،یہ لوگ سوچ رہے ہیں کہ مجھے مائنس کرکے یہ بچ جائیں گے ، میں اگر مائنس ہو بھی گیا تو ان کی جان نہیں چھوٹے گی، اپنے مشن پر کاربند ہوں اوراس کو مکمل کریں گے ،ہم ہرجگہ تحقیقات کریں گے اورجنہوں نے عوام کا استحصال کیا ہے ان کے پیچھے جائیں گے ،اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسٹاک ایکسچینج حملہ بھارت نے کرایا، پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے منصوبہ وہیں پر بنا، ہماری ایجنسیاں پہلے بھی 4 حملے روک چکی ہیں ، پاکستان کے سکیورٹی اورانٹیلی جنس اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، نواز شریف نے اسی سیٹ پر کھڑے ہوکر جعلی کاغذات لہرائے ،مسلم لیگ(ن)کاکوئی دین ایمان نہیں ،یہ کبھی جہادیوں سے پیسے لیتے ہیں اور کبھی لبرل بنتے ہیں ،6 7لوگ این آر او لینا چاہ رہے ہیں ،یہ این آر او بھول جائیں ، میں ان کو کبھی بھی این آر او نہیں دوں گا،اپوزیشن کی باتوں کا مائنڈ نہیں کرتا کیونکہ ان کا مجھے پتہ ہے ،ان کی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ،پاور سیکٹر عذاب بن گیاہے، اداروں میں مافیاز بیٹھے ہیں ،جگہ جگہ کارٹیلز ہیں ، ان کو قانون کے تابع لائیں گے ، اداروں میں تبدیلیاں اور اصلاحات لانا ہوں گی، اس سے نہیں ڈرنا کہ ہڑتال ہوجائے گی ،اگر اب بھی فیصلے نہ لئے تو پھر وقت نہیں رہے گاجو پیسہ بنارہا ہے وہ ٹیکس تو دے ۔ جہا ں تک مافیاز کاتعلق ہے تو اس حوالے سے وزیراعظم کے تحفظات بالکل درست ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ایکشن لیناچاہیے کیونکہ کرپٹ افراد اورکرپشن کی جڑیں پاکستان میں سرایت کرچکی ہیں انہیں ختم کرنے کے لئے سخت سے سخت سزاکی ضرورت ہے ۔ جب تک مافیاکاکوئی ایک سرغنہ دیدہ عبرت نگاہ نہیں بنے گا اس وقت تک کرپشن کاخاتمہ بعدازقیاس ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وقت ضائع کئے بغیرباعمل فیصل کرے اورپھردیکھے کہ ان کے مثبت نتاءج سامنے آئیں گے ۔ وزیراعظم نے ایوان میں یہ بھی بتادیاہے کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ مائنس ون ہوجائے میں انہیں بتاناچاہتاہوں کہ اگرایساہوبھی گیاتوآنے والے بھی میرے ہی پیروکارہیں وہ انہیں نہیں چھوڑیں گے ۔ بات دراصل یہ ہے کہ آخرمائنس ون کے لئے اپوزیشن کیوں زوردے رہی ہے اس سے پہلے کہ ایوان میں کوئی عدم اعتماد کی صورتحال ہو یا کسی اور صورتحال کاسامناکرناپڑے حکومت اپنے ایکشن میں تیزی لائے ۔ اپوزیشن اوراپنی صفوں میں بھی برابری کی سطح پر کرپشن کے خلاف آپریشن کیاجائے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کواگرزندہ رہنا ہے تواس کاون پوائنٹ ایجنڈاہوناچاہیے کہ کسی بھی کرپٹ کونہیں چھوڑاجائے گاچاہے اس کاتعلق حکومت سے ہویا اپوززیشن سے ۔

یورپی یونین کی پابندیاں اورپاکستان کامثبت اقدام

پاکستان ایئرلائن کے حوالے سے یورپی یونین نے جوچھ ماہ کے لئے پابندیاں عائد کی ہیں اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے فی الفورمثبت اقدامات اٹھائے اورپاکستان کوکچھ نہ کچھ ریلیف حاصل ہوگیاہے لیکن دیکھنایہ ہے کہ اس اقدام سے کیادوررس نتاءج حاصل ہو ں گے کیونکہ پائلٹوں کی ڈگریوں کے حوالے سے حکومت پاکستان نے خودہی تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے اقدامات اٹھائے ۔ دنیابھرنے تواس سلسلے میں ایکشن لیناہی تھا اسی وجہ سے یورپی یونین کی ائیرسیفٹی ایجنسی نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی یورپی ملکوں کیلئے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کیلئے معطل کردیا، یورپی یونین کے بعد برطانیہ نے بھی پی آئی اے کا فلاءٹ آپریشن فوری طور پر روک دیاہے، متحدہ عرب امارات کی سول ایویشن نے پاکستان کو خط لکھ کر پلائلٹس کے مشتبہ لائسنس کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے لائسنس کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے ۔ یورپی ائیر سیفٹی ایجنسی کے فیصلے کے بعد پی آئی اے کی یورپ کیلئے تمام پروازیں عارضی طور پر منسوخ کردی گئیں ، جن مسافروں کے پاس پی آئی اے کی بکنگ ہے وہ بکنگ آگے کرواسکتے ہیں یا ریفنڈ لے سکتے ہیں ۔ ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پی آئی اے یورپی ائیر سیفٹی ایجنسی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ان کے خدشات کو دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہا ہے ۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ہ میں امید ہے کہ حکومتی اور انتظامیہ کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے باعث معطلی جلد ختم ہوگی ۔ اقوام متحدہ نے فوری طور پر پاکستانی فضائی کمپنیوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے اور پاکستان میں رجسٹرڈ تمام فضائی کمپنیوں کو اقوام متحدہ کی منظور کردہ فہرست سے بھی نکال دیا گیا ۔ ادھر سیکرٹری خارجہ نے ہنگامی طور پر تمام یورپین ممالک کے سفیروں سے رابطہ کر کے پی آئی اے کو یکم تا تین جولائی برطانیہ اور یورپ اترنے اور اوور فلائنگ کی اجازت حاصل کر لی ہے ۔

پاک فوج میں نئی تاریخ رقم

پاک فوج میں نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ایک خاتون افسر کو پہلی مرتبہ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی گئی ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی میڈیکل کور سے وابستہ میجر جنرل نگار جوہر کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی ۔ نگار جوہر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانےوالی پہلی خاتون افسر ہیں ، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کو سرجن جنرل آف پاکستان آرمی تعینات کیا گیا ہے ۔ اس طرح وہ پاک فوج کی تاریخ کی پہلی تھری اسٹار افسر ہونے کے ساتھ ساتھ سرجن جنرل کے عہدے پر کام کرنےوالی پہلی خاتون افسر بھی بن گئیں ۔ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے علاقے پنج پیر سے ہے اور وہ اس وقت کمانڈنٹ ملٹری اسپتال راولپنڈی میں خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر آرمی میڈیکل کالج کی گریجویٹ ہیں اور پاک فوج میں تقریباً 3 دہائیوں پر مشتمل کیریئر میں انتظامی اور مختلف امور میں سربراہی کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں ۔ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کئی دیگر کورسز بھی کیے اوراسپتالوں میں ہنگامی بنیادوں پر تیاریوں سے متعلق امور کی نیشنل انسٹرکٹر بھی ہیں ۔ انہیں پاک آرمی میں لیفٹیننٹ جنرل کے رینک تک پہنچنے والی پاکستان کی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے ۔ آرمی میڈیکل کور کےلئے نمایاں خدمات انجام دینے پر انہیں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز ملٹری اور فاطمہ جناح گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا ۔ انہیں پاک فوج میں کئی عہدوں پر پاکستان کی پہلی خاتون کے طور پر کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے بریگیڈیئر کی حیثیت سے سی ایم ایچ جہلم کی کمان سنبھالی تھی اور اب مسلح افواج کے سب سے بڑے اسپتال ایمریٹس ملٹری اسپتال راولپنڈی کی کمانڈنگ کر رہی ہیں ۔