- الإعلانات -

کاش کوئی ان کو سمجھا تا

جمہوریت پاکستان میں بھی ہے لیکن ہماری جمہوریت چند مخصوص خاندانوں ،چند مخصوص ناخداءوں اور کچھ مخصوص قوتوں کی غلام ہے ۔ ان قوتوں نے چھ سات دہائیوں سے جمہوریت کو اپنی لونڈی بنا رکھا ہے وہ ملک کے اقتدار پر پوری طرح قابض ہیں اور صرف اپنے مفادات کا کھیل کھیل رہے ہیں ۔ بالائی طبقے مزید بالائی ہوتے جا رہے ہیں اور نچلے طبقے مزید نیچے جا رہے ہیں ۔ سچ یہ ہے کہ آپ کو جو مافیاز نظر آتے ہیں وہ سب اسی نظام کی پیداوار ہیں ورنہ کسی سچے جمہوری معاشرے میں ایسے مافیاز پنپ ہی نہیں سکتے ۔ شوگر مافیا جب چاہتا ہے قیمتیں بڑھا کر عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈال لیتا ہے ۔ آٹا مافیا جب چاہتا ہے قیمتیں بڑھا کر اور قلت پیدا کرکے لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا لیتا ہے ۔ سیمنٹ اور پٹرول مافیا منہ کھولے کھڑے ہیں ۔ اب کورونا کی وبا نے دوائی مافیا کو جنم دے دیا ہے جو سینکڑوں کی دوائی ہزاروں میں کھلے عام فروخت کرتا ہے ۔ مستقبل میں آپ کو بہت سی استحصالی قوتیں ابھرتی اور منظم ہوتی نظر آئیں گی کیونکہ ہمارا سیاسی نظام بہت سی بیماریوں کا شکار ہو چکا ہے ۔ بالآخر حکمران قوتوں کی ہوس کی قیمت تو غریب عوام کو ہی دینا پڑے گی ۔ ایک طرف سیاسی حکمرانوں کی نا اہلی کا سانحہ درپیش ہے تو دوسری طرف نا اہل اور خودغرض سیاسی قوتوں نے سول سروس کے ڈھانچے کو برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔ اس بربادی کا پہلا حصہ بھٹو کے دور میں سول سروسز کو آئینی تحفظ سے محروم کرنا تھا تاکہ اسے خاندانی وفاداری کا خوگر کیا جائے، سیاسی پارٹی کا خادم بنایا جائے اور اپنا ذاتی غلام بنا کر استعمال کیا جائے مطلب یہ تھا کہ حکمران جو جی چاہے کریں ۔ سول سروس رولز ریگولیشن کے نام پر رکاوٹ نہ بنے ۔ چنانچہ حکمران کھل کھیلے قانون شکنی اور لوٹ مارکا کلچر تیزی سے پروان چڑھنے لگا ۔ سول سروس کا ایک حصہ بھی بہتی گنگا سے اپنا حصہ وصول کرنے لگا ۔ اس لوٹ مار کے کلچر نے نہ صرف اخلاقی قدروں کا جنازہ نکال دیا اور مافیاز کو جنم دیا بلکہ حکومتی اور انتظامی کارکردگی کا بھی بیڑا غرق کر دیا ۔ دیکھ لیجئے آپ کے سامنے ہے قومی منظر سارے قومی اداروں کی کارکردگی زوال پذیر ہے، نیچے سے اوپر تک رشوت کے بغیر کاغذ نہیں ملتا، ریلوے، پوسٹ آفس، اسٹیل مل، ضلعی انتظامیہ، مقامی حکومتیں ، تعلیم، صحت، غرض یہ کہ تمام حکومتی شعبے ناکارہ ہو چکے ہیں سچ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی ڈھانچے، انتظامی ڈھانچے اور اخلاقی ڈھانچے میں جوہری تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ عوام کو بے بسی اور محرومی کے احساس نے مغلوب کر رکھا ہے ۔ مایوسی کے سائے پھیلتے جا رہے ہیں ۔ قوم کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلا جارہا ہے ا ور اس قرضے سے کوئی تعمیری کام نہیں ہو رہا ہے حکمران اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں سارا پیسہ اسمبلی کے ممبران کھا رہے ہیں بظاہر ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اندر سے سب ایک ہیں جب تک پاکستانی قوم پارٹیوں سے وفاداری کے خول سے باہر نہیں نکلتی ہے یہ شکلیں بدل بدل کے لوٹتے رہیں گے یہ سیاستدان پاکستان کے وجود پر ایک بدنما دھبہ ہیں ان سب نے ایمانداری کے لبادے اوڑھے ہوئے ہیں اور دن رات ریاست مدینہ کے خواب دکھاتے رہتے ہیں ریاست مدینہ میں قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے اگر تاریخ اسلام کی کتاب زریں کے ورق گردانی کی زحمت گوارا کریں تو یہ راز منکشف ہو گا کہ خلفائے راشدین اور ان کے بعد بھی امرائے سلطنت نے لوگوں کی خدمت گزاری کو ذاتی ذمہ داری سمجھا اور خدمت و محنت اور ایثار و قربانی کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ اپنے تو اپنے پرائے بھی عش عش کر اٹھے بلکہ ہمارے فرمانرواؤں کی تقلید میں فخر کرنے لگے کمال صدق و مروت ہے زندگی ان کی معاف کرتی ہے فطرت بھی ان کی تقصیریں قلندرانہ ادائیں سکندرانہ جلال یہ امتیں ہیں جہاں میں برہنہ شمشیریں تاجدار عرب و عجم حضور سید المرسلین کا فرمان اقدس ہے کہ جسے لوگوں کا حکم بنایا گیا اور اس نے انصاف نہ کیا وہ الٹی چھری سے ذبح کیا جائے گالیکن ہمارے لالچی حکمرانوں کو کون سمجھائے یہ تو محض کلمہ گو مسلمان ہیں مسلمانیت کی تو ان کو بھنک تک نہیں پڑی ہے دن رات جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں تھکتے ریاست مدینہ کا نعرہ تو یہ اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں عوام کا دکھ تو ان کےلئے مگرمچھ کے آنسو ہوتے ہیں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی عوام کا خیر خواہ ہے ہی نہیں اگرچہ شعر بہت پرانا ہے مگر آج بھی ان پر پورا فٹ بیٹھتا ہے

میرے پاس سے گزر کر میرا حال تک نہ پوچھا

میں کیسے مان جاؤں کہ وہ دور جا کے روئے

بائیس سال اپنی سیاسی زندگی کے دوسروں میں کیڑے نکالنے والی جماعت جب باگ عنان سنبھالتی ہے تو سب وعدے ہوا ہو جاتے ہیں اللہ تعالی ان سب کو ہدایت فرمائے اور یہ سب وطن عزیز کو ایک اسلامی فلاحی جمہوری ریاست کے پیکر جمیل میں ڈھالنے میں مدد دیں کہ اپنی ذات پر قوم کو ترجیح دی اور اخوت و محبت عدالت و انصاف اور امانت و دیانت ایسے اوصاف و خصائل کا عملی مظاہرہ کریں ۔