- الإعلانات -

ملک کے دفاع کے لئے پاک فوج ہمہ وقت تیار

ملکی سرحدوں کے معاملات ہوں یا ملک کے اندر امن و امان کے مسائل ہوں پاک فوج نے ہمیشہ وقت کے تقاضوں اور قومی امنگوں کے مطابق اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ اب بھارت نے پاکستان کی سلامتی دہشت گردی کے ذریعے کمزور کرنے کی سازشوں کو دوبارہ عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا ہے ۔ اسے باور ہونا چاہیے کہ عساکر پاکستان دفاع وطن کیلئے اپنی ذمہ داریوں سے ہرگز غافل نہیں اس لئے بھارت کو اسکی ہر سازش پر پا ک افواج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑیگی ۔ اسی سلسلے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کےلئے چوکس رہنا ہوگا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈ کوارٹرز کراچی کا دورہ کیا جہاں انھیں اندرونی سیکیورٹی اور آپریشنل امور پر بریفنگ دی گئی ۔ آرمی چیف نے کراچی میں امن کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اجتماعی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ آرمی چیف نے دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا ۔ آرمی چیف نے افسروں اور جوانوں سے بھی ملاقات کی ۔ بعد ازاں انہوں نے گیریژن، ہیلتھ اور فیلڈ آئسولیشن سینٹر کا بھی دورہ کیا ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی فارمیشن کی کورونا کے خلاف کوششوں کو سراہا ۔ سندھ رینجرز ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر آرمی چیف نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ پڑھی ۔ پوری قوم کو پاک فوج پر فخرہے ہماری مسلح افواج اندرونی وبیرونی سازشوں کے خلاف ہردم برسرپیکارہے ۔ کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پرسکیورٹی گارڈز نے اپنی جان قربان کرکے دہشت گردوں کو اندر داخل ہونے سے روکا اور دہشت گردی کی ایک بڑی کوشش کو ناکام بنادیا ۔ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے والے قوم کیلئے فخر اور ان کی قربانیاں امن کی ضامن ہیں ۔ پاک فوج نے عظیم قربانیاں دے کر امن کے قیام کو ممکن بنایا ۔ دشمن سہولت کاروں کی مدد سے پاکستان کے امن کو درپے کرناچاہتا ہے ۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا اور اس کے پروردہ عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں کیفرکردار تک پہنچانا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے اور سب سے ایسے ہی کردار اور جذبے کی امید رکھی جاتی ہے جس کا اظہار کراچی سٹاک ایکسچینج کی حفاظت کیلئے مایہ ناز اہلکاروں نے کیا ۔ عساکر پاکستان کو ملک کی سرحدوں پر صرف بھارت نہیں افغانستان اور ایران کی جانب سے بھی ملک کی سلامتی کو لاحق خطرات کے تناظر میں دفاع وطن کے تقاضے نبھانے ہیں جس کیلئے وہ ہمہ وقت چوکس اور سرحدوں پر دشمن کی پھیلائی سازشیں ناکام بنانے کیلئے مکمل تیار ہیں اور جانفشانی کے ساتھ دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دے بھی رہی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر عساکر پاکستان نے اندرونی و بیرونی ہر محاذ پر دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اسکی گھناءونی سازشیں ناکام بنائی ہیں ۔ گزشتہ سال 27 فروری کو دو بھارتی جہاز گرا کر ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کرنا اور کنٹرول لائن پر پاکستان کی فضائی حدود میں یکے بعد دیگرے داخل ہونیوالے سات جاسوس ڈرونز کو موقع پر ہی مار گرانا اس کا بین ثبوت ہے ۔ اسکے باوجود مودی سرکار کے جنونی توسیع پسندانہ عزائم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور اسکی سول اور عسکری قیادتیں ;200;ج بھی ہذیانی کیفیت میں پاکستان کی سلامتی چیلنج کرتی نظر ;200;تی ہیں چنانچہ باوجود اسکے کہ پاک افواج ملک کے اندرکورونا وائرس کا پھیلاءو روکنے اور متاثرین کی امداد و بحالی کیلئے سول اتھارٹیز کے ہم قدم امدادی کاموں میں بھی مصروف ہیں وہ ملک کے دفاع کے حوالے سے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے بھی ہرگز غافل نہیں بلکہ ہمہ وقت مستعد و چوکس ہیں ۔ یقینا ملک کا دفاع ہماری جری و بہادر اور مشاق و مضبوط عساکر پاکستان کے ہاتھوں میں مکمل محفوظ ہے اور قوم کو اپنی سپاہ اور عسکری قیادتوں پر بجا طور پر فخر ہے ۔ دفاع وطن اور ملک و ملت کے تحفظ کے جذبے سے سرشار پاک افواج نے کٹھن سے کٹھن حالات میں بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے کبھی کسی ہلکی سی غفلت کا بھی مظاہرہ نہیں کیا اور ;200;ج کے نازک حالات میں جبکہ پورا ملک کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے پاک افواج اس موذی وائرس کا پھیلاءو روکنے اور متاثرین کی بحالی و امداد کے کاموں میں بھی حکومت اور عوام کا بھرپور ہاتھ بٹا رہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مکار دشمن بھارت کے عزائم کو بھانپ کر دفاع وطن کی ذمہ داریاں بھی ہمہ وقت چوکس رہ کر نبھا رہی ہیں ۔ دہشت گردی کے ممکنہ حد تک خاتمے کیلئے پاک افواج نے لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کیں ۔ اس سلسلے میں عوام کو بھی چاہئے کہ بھرپور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا جائے جس طرح پاک فوج اپنے قومی اداروں ، عوام کے شانہ بشانہ ہے اسی طرح قوم بھی پاک فوج کی قربانیوں کو نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے بلکہ سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے ہر لمحہ پاک افواج اور دیگر قومی و ملکی اداروں کی سلامتی کےلئے بھی اپنے رب کریم کے حضور دعاگو ہے ۔ دوسری جانب عسکری ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے گلگت بلتستان میں لائن آف کنٹرول پر فوج کی اضافی تعیناتی، پاکستان میں چینی فوجیوں کی موجودگی اور سکردو ایئر پورٹ کے استعمال کے بارے میں بھارتی میڈیا کے دعووں کو مکمل غلط اور بے بنیاد قرار دے کر سختی سے مسترد کردیا ۔ گلگت بلتستان میں لائن آف کنٹرول پر پاک فوج کے اضافی دستوں کی تعیناتی میں کوئی حقیقت نہیں ۔ پاکستان نے ہر فورم پر کشمیر میں ہونےوالے ظلم و بربریت کو اٹھایا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کر رہا ہے، پاکستان سوپور واقعہ کو بھی ہر فورم پر اٹھائے گا ۔ عالمی میڈیا کو کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں ، بھارت کشمیر میں ہونے والے مظالم کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، انسانی حقوق کی تنظی میں آخر کب تک خاموش رہیں گی ;238;

پارکس کے قیام کامنصوبہ اہمیت کاحامل

ماحول محفوظ بنانے کے بڑے اقدام کے تحت 15 نیشنل پارکس کے قیام کے منصوبے کے ;200;غاز کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلی ہمارے ملک کےلئے بڑا خطرہ ہیں چونکہ گلیشیئرز پگھلنے اور موسم کی تبدیلی سے ہم شدید متاثر ہوں گے، ہم نے 100 ارب درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے، سرسبز علاقوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں ، صوبائی حکومتیں بھی اس معاملے میں سنجیدہ ہوں ، ماضی میں کسی حکومت نے اس معاملے کو اتنا اہم نہیں سمجھا ۔ اب وقت ;200; گیا ہے کہ ماحول کو محفوظ بنانے پر توجہ دی جائے ۔ شہروں کےلئے ماسٹر پلان بنائے جائیں ۔ ٹاءون پلاننگ اور ماسٹر پلان نہ ہونے کی وجہ سے شہروں میں بجلی، گیس، سیوریج، پانی اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کے مسائل سے نمٹنا مشکل ہے ۔ اس لئے ماسٹر پلان اور ٹاءون پلاننگ پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، ٹاءون پلاننگ کو ماحولیات اور کلین گرین پاکستان پروگرام کا حصہ بنیں گے اور اپنے شہر بھی بچیں گے، نیشنل پارکس کا قیام ;200;نےوالی نسلوں کےلئے اہم قدم ہے ۔ ایکو ٹورازم کو سمجھنے اور دنیا سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ مقامی لوگوں کی شمولیت سے پارکس اور نایاب جانوروں کی حفاظت ممکن ہوگی اور روزگار کے مواقع بھی میسر ;200;ئیں گے، نئے سیاحتی علاقے کھولنے سے قبل بائی لاز بنائے جائیں ۔ خوبصورت سیاحتی علاقوں کو نہ بچایا تو ;200;نے والی نسلوں کو یہ علاقے دیکھنے کو نہیں ملیں گے،پاکستان خوبصورتی سے مالا مال اور تنوع سے بھرپور ملک ہے، یہاں 12 ایکولوجیکل زونز ہیں ، دنیا میں کہیں اس طرح کا تنوع نہیں پایا جاتا لیکن لوگ اس سے ;200;گاہ نہیں ہیں ۔ 15 پارکس کے منصوبہ پاکستان میں اپنی طرز کا پہلا میرین پارک نہ صرف ;200;بی حیات کے تحفظ کا موجب بنے گا بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ڈھال کا کردار بھی ادا کرے گا ۔