- الإعلانات -

بھارتی بوکھلاہٹ اور پاکستان کا جواب

لداخ میں چین کے ہاتھوں پے در پے شکست کے بعد بھارت باولا ہو چکا ہے اور اسی پاگل پن میں بھارت نے پاکستانی سفارتخانے کا آدھا عملہ واپس پاکستان بھیجے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بھارت لداخ میں چینی فوج کے ہاتھوں مار کھانے کے بعد دنیا بھر میں ہونےوالی اپنی بے عزتی برداشت نہیں کر سکا جس کا نزلہ اب وہ پاکستان سے سفارتی تعلقات محدود کر کے نکالنا چاہتا ہے ۔ لداخ میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں عوام بھی مشتعل ہو چکی ہے ۔ سابق بھارتی فوجیوں اور حاضر سروس فوجیوں کے اہل خانہ کی جانب سے حکومت کے نام ایک خط میں لداخ میں بھارتی فوجیوں کی چینی فوج کی جانب سے ہلاکتوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ چین کے علاوہ بھارت اور پاکستان میں بھی تلخیاں مزید بڑھتی جا رہی ہیں ۔ بھارتی مطالبے کے جواب میں پاکستان نے بھی اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کو سات روز کے اندر نصف کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں نئی دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن پر جاسوسی اور شدت پسندی کی اعانت جیسے سنگین الزامات عائد کئے اور پاکستان سے اپنے سفارتی عملے میں 50 فیصد کی کمی کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس سلسلے میں بھارت نے پاکستان کے ناظم الامور سید حیدر شاہ کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور فیصلے سے آگاہ کیا گیا ۔ پاکستان نے اپنے سفارت کاروں پر جاسوسی کرنے اور شدت پسند تنظیموں سے روابط رکھنے جیسے بھارتی الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے انہیں لغو قرار دیا ہے ۔ اسلام آباد نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور بھارت کو آئندہ سات روز کے اندر اپنے سفارتی عملے میں 50 فیصد کٹوتی کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق بھارت لداخ میں اپنی شکست دیکھ کر بوکھلا چکا ہے اور پاکستان کیخلاف فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے مگر بھارت یاد رکھے کی وہ جیسا کرے گا ویسا بھرے گا ۔ بھارت کی جانب سے ویانا کنونشن کی خلاف ورزیوں کے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے پاکستا ن کا کہنا ہے کہ پاکستان کا سفارتی عملہ بین الاقوامی سفارتی آداب کی ہمیشہ سے پاسداری کرتا رہا ہے اور عالمی اصول و ضوابط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی خدمات انجام دیتا ہے ۔ پاکستان نے بھارت کے ان الزامات کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ اسلام آباد میں بھارتی سفارت کاروں کو ڈرایا یا دھمکایا جاتا ہے ۔ اس کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے کی جو مہم چلائی جا رہی ہے اس میں اسلام آباد میں تعینات بھارتی سفارتی عملے کی غیر قانونی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں اور بھارتی وزارت خارجہ کے بیانات در اصل انہیں سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی ایک کوشش ہے ۔ بھارتی حکومت نے پاکستان کے ساتھ اس طرح کا رویہ ایک ایسے وقت اپنایا ہے جب سرحد پر چین کے ساتھ زبردست کشیدگی کا ماحول ہے ۔ چند روز قبل ہی مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے ۔ بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے مودی پر چین کے سامنے کمزور پڑنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ وادی گلوان میں پائی جانے والی کشیدگی میں کمی آنے کے ابھی کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ۔ بھارت نے جنگ کی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر جنگی ساز و سامان بشمول توپیں ، میزائل، ٹینک اور لڑاکا طیارے سری نگرط لیہہ شاہراہ اور بھارتی فضائیہ کے ہوائی جہازوں کے ذریعے کنٹرول لائن کے نزدیک پہنچانے کا کام جاری رکھا ہوا ہے ۔ لداخ میں اصل (ایکچول) لائن آف کنٹرول پر حالات کشیدہ بتائے جاتے ہیں ۔ بھارتی اور چینی فوجی گلوان وادی، پینگ گانگ، تسو، ڈیمچک اور دولت بیگ اولڈی کے مقامات پر آمنے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے ہیں ۔ تازہ کشیدگی پانچ مئی کو شروع ہوئی جب دونوں ممالک کے تعریباً اڑھائی سو فوجی آمنے سامنے آ گئے ۔ چین نے حالیہ دنوں میں بھارت کی جانب سے ایل اے سی کی اپنی جانب نئی تعمیرات کی مخالفت کی جو اس کے مطابق سرحدی تنازع کے حل تک اس علاقے میں حالات جوں کے توں رکھنے کے معاہدے کی خلاف ورزی تھی ۔ چین لداخ کے بعض علاقوں کو اپنا مانتا ہے ۔ اس نے اکسائی چن پر 1962 کی جنگ میں قبضہ کیا اور اس وقت سے اسے خالی کرنے سے انکار کر رہا ہے ۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس 5 اگست کو جموں و کشمیر اور لداخ کو یونین ٹیرٹری کا درجہ دینے سے بھی بظاہر خوش نہیں تھا ۔ بھارت اپنی جانب سڑکیں اور عمارتیں تعمیر کر رہا ہے تاکہ اپنی پوزیشن مستحکم کر سکے ۔ سیٹلاءٹ سے لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اس وقت علاقے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ بھارتی ماہرین چین کے ساتھ کشیدگی کو 1999 میں پاکستان کے ساتھ کارگل کے مقام پر جنگ کے بعد کی سب سے بڑی کشیدگی قرار دے رہا ہے ۔ تاہم کورونا وائرس کیخلاف پھنسے دونوں ممالک کس حد تک جائیں گے یہ معلوم نہیں ۔ چین نے کہا ہے کہ اسے وادی گلوان میں ہونےوالی سرحدی جھڑپ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور انڈین فوجیوں نے سرحدی پروٹوکول کی خلاف وزری کی تھی ۔ 15 جون کی شب لداخ میں ہونے والی اس جھڑپ میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چین کی جانب سے تاحال جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے ۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ ’وادی گلوان پر خودمختاری ہمیشہ سے چین کی ہی رہی ہے ۔ انڈین فوجیوں نے سرحدی معاملات پر ہمارے پروٹوکول اور کمانڈرز کی سطح کے مذاکرات پر طے شدہ اتفاقِ رائے کی سنگین خلاف ورزیاں کیں ۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ’چین مزید تنازعات نہیں چاہتا‘ ۔ انھوں نے کہا کہ صورتحال اب مستحکم اور قابو میں ہے ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کی سرحد پر جو کچھ بھی ہوا اس سے جہاں بھارتی حکومت سخت دباؤ میں ہے وہیں عوام میں بھی کافی غم و غصہ ہے اور پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح پر اس طرح کی کارروائی سے حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے اس کے پاس ایک مضبوط قیادت ہے جو سخت اقدامات کر سکتی ہے ۔